Daily Mashriq

امتیازی قانون کا غلط استعمال

امتیازی قانون کا غلط استعمال

حکمران جماعت میں شامل بعض شخصیات ، بیوروکریٹس اور پولیس افسران محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے نان کسٹم پیڈ، ٹمپرڈ اور چوری کی پکڑی گئی کروڑوں مالیت کی پرتعیش گاڑیوں کے استعمال کی جو بھی توجیہہ پیش کی جائے اس سے اتفاق ممکن نہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ قوانین کے تحت اجازت ہونے کے باوجود محولہ صورتحال کو امتیازی ہی گردانا جائے گا۔ رولز کی تشریح سے بھی اختلاف کی گنجائش ہے اور اگر ریاست مدینہ کی مثالیں دینے والے حکمرانوں کے دور حکومت میں دیکھا جائے تو اس کی بالکل بھی گنجائش نہیں کہ کسی بھی وجہ سے بطور امانت سرکار کے پاس آنے والی گاڑی یا کسی اور چیز کے استعمال کی اجازت دی جائے جس طرح ملک میں قوانین کا مذاق اڑانے اور رولز کی خلاف ورزی معمول کی بات ہے اسی طرح محولہ قانون کا بھی اس کی روح کے خلاف استعمال نا ممکن نہیں جس قسم کی تحقیقات کے زیر استعمال یہ گاڑیاں ہیں ایسے میں ان کے قانونی مالکان کو یہ گاڑیاں واپس ملنا بھی محال نظر آتا ہے محکمہ قانون کو اس امتیازی قانون کا از سر نو جائزہ لیکر حکومت کو اس میں تبدیلی کی سفارش کرنی چاہیئے۔قانون دان برادری کو بھی اس قانون میں تبدیلی کیلئے آواز بلند کرنی چاہیئے۔اس قانون کے غلط استعمال اور اس کی آڑ میں متاثرہ فریق کی حق تلفی کے بعد قانون کو برقرار رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں اسے جتنا جلد ختم کیا جائے یا ترمیم کی جائے اتنا ہی بہتر ہوگا عوام بجا طور پر منتخب اراکین اسمبلی سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس قانون میں جتنا جلد ممکن ہو ترمیم کا بل لائیں اور قانون میں ترمیم کریں۔

محنت کشوں کی حالت زار

پشاور کے کارخانوں میں کام کرنے والے مردوخواتین کارکنوں کا ذہنی تنائو اور بیماریوں کا شکار ہونا اس لئے فطری امر ہے کہ وہ جن حالات میں اور جس معاوضے پر کام کر رہے ہیں وہ ان کو بیمار کرنے اور دبائو میں لانے کیلئے کافی نہیںزندہ درگور کرنے کیلئے کافی ہیں۔صنعتوں میں کام کرنے والے کارکنوں کو انسانی مشین سے بڑھ کر سمجھ کر ان سے کام لیا جاتا ہے سرمایہ داروں کی سعی ہوتی ہے کہ وہ کارکنوں کو جتنا نچوڑ کر منافع حاصل کر سکیں اس سے دریغ نہ کیا جائے محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کی سردمہری چشم پوشی اور غفلت افسوسناک ہے۔صنعتی کارکنوں کا مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات کے پیش نظر ان کو جس قسم کی طبی سہولیات معائنہ اور تشخیص کی سہولیات کی ضرورت ہے مطلوبہ سہولت کا عشر عشیر بھی ان کو میسر نہیں۔کم سے کم اجرت کا قانون بھی شاید ان پر لاگو کرنے کیلئے نہیں بنایا گیا ورنہ اس سلسلے میں عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر کیوں ہے۔مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو محنت کشوں کے حالات کا جائزہ لینے ان کو معاوضے اور طبی سہولتوں کی فراہمی کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے جلد سے جلد اقدامات کی ضرورت ہے۔اس امر کی تحقیقات ہونی چاہیئے کہ قوانین کی موجودگی اور ان کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود متعلقہ محکمے اس کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟۔

ٹائون تھانے میںنوجوان کی ہلاکت

پولیس حراست میں ملزمان کی موت کے پر اسرارواقعات میں اضافہ پولیس پر تنقید اور تشدد کے الزامات لگانے کیلئے کافی ہیں۔تھانوں میں پولیس تشدد کوئی کہانی نہیں حقیقت ہے اور ایسی ٹھوس حقیقت جس کے سامنے آنے والے ویڈیو شواہد کی تردید ممکن نہیں تھانے یا پھر کسی عقوبت خانے میں تشدد کی ویڈیو کو ئی عام شہری نہیں پولیس والوں ہی کی تیار کردہ ہوگی اس قسم کی ویڈیوز سامنے آنا خود پولیس کو ملزم بنا کر کٹہرے میں کھڑاکر دیتا ہے ٹائون پولیس کے زیر حراست ملزم کا پر اسرار طور پر جاں بحق ہونے کا واقعہ ضروری نہیں کہ تشدد ہی کے سبب ہو لیکن اس سے کم از کم یہ بات ضرورسامنے آئی ہے کہ پولیس نے ملزم کے حوالے سے ایسی غفلت کا ارتکاب ضرور کیا ہے کہ اس کی جان ہی چلی گئی پولیس نے ملزم کو طبی امداد دینے اور ہسپتال پہنچانے کی سعی کیوں نہیں کی ۔تھانوں میں تشدد کی روک تھام کیلئے کیمروں کی تنصیب سے پولیس کی بھی نگرانی کرنے کی ضرورت اجا گر ہوتی ہے اگر پولیس کی بھی نگرانی کی ضرورت پڑ جائے اور پولیس ہی قانون پر عملدرآمد نہ کرے تو معاشرے میں قانون کے نفاذ کا جو از ہی باقی نہیں رہتا اب پولیس حوالات میں تشدد نہیں کرتی بلکہ عادی مجرموں اور سخت جان اور سنگین نوعیت کے کیسز کے ملزموں کو تھانے سے باہر نجی عقوبت خانوں سے غیر قانونی طور پر تفتیش اور تشدد ازخود ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس کا نوٹس لینا اور اس کی روک تھام کی ضرورت ہے۔ٹائون پولیس کے زیر حراست ملزم کے جاں بحق ہونے کی طبی وجوہات معلوم کرنا اور اس کا پوسٹ مارٹم کرنا کافی نہ ہوگا اس کے ذمہ داروں کو سزا دلوانا ہی انصاف اور قانون پر عملدرآمد کہلائے گا۔

مسئلے کا مستقل حل نکالاجائے

ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوامیں بھرتی کیلئے چار ٹیسٹنگ اداروں کی خدمات لینے سیجو مسائل سامنے آئے اور عدم شفافیت کا جو جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اس کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نوٹس ضرور لیا ہے اور مشیر تعلیم نے تحقیقات کا حکم ضرور دیا ہے لیکن اس کے باوجود اصلاح کی توقع اس لئے نہیں کی جاسکتی کہ فی الوقت اس کا کوئی موزوں متبادل نہیں۔ تحقیقات کو جاری رکھتے ہوئے اس امر پر اب سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی ایسا با اعتماد ادارہ یا کسی بااعتماد ادارے کی نگرانی میں یہ ٹیسٹ لئے جائیں تاکہ امیدواروں کی حق تلفی نہ ہو۔

متعلقہ خبریں