Daily Mashriq

جلد موت کا خطرہ بڑھانے والی عام عادت سامنے آگئی

جلد موت کا خطرہ بڑھانے والی عام عادت سامنے آگئی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہارٹ اٹیک یا فالج سے اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ آج کل لوگوں میں پائی جانے والی ایک عام عادت ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امپرئیل کالج لندن کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سافٹ ڈرنکس چاہے وہ چینی سے بنے ہو یا مصنوعی مٹھاس سے، لوگوں میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

 اس تحقیق کے دوران 10 یورپی ممالک کے ساڑھے 4 لاکھ افراد سے زائد کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ رزانہ ان مشروبات کے 2 یا اس سے زائد گلاس پینا کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ مصنوعی مٹھاس سے بنے مشروبات اور دوران خون کی گردش کے امراض سے اموات کے درمیان تعلق ہے جبکہ چینی سے بنی سافٹ ڈرنکس نظام ہاضمہ کے امراض سے موت کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

اس تحقیق کا آغاز 1992 میں ہوا جس کے دوران لوگوں کے کھانے پینے کی عادات کا جائزہ 2000 تک لیا گیا جبکہ اس کے 16 سالہ بعد ان رضاکاروں کی صحت کا ایک بار پھر معائنہ کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق سے ان شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ سافٹ ڈرنکس اور امراض قلب یا فالج سے اموات کے درمیان تعلق موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تعلق کافی پیچیدہ ہے اور اسے اتفاق نہیں سمجھا جاسکتا 'ہم نے دریافت کیا کہ ان مشروبات کا زیادہ استعمال مختلف وجوہات کے بنا پر موت کا خطرہ بڑھاتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں صرف سافٹ ڈرنکس ہی قبل از وقت موت کا باعث بنتی ہیں بلکہ مزید عناصر بھی اس کے پیچھے چھپے ہوسکتے ہیں، جیسے زیادہ سافٹ ڈرنکس پینے والوں کی غذائی عادات ناقص ہوتی ہیں جبکہ ان میں جسمانی وزن بھی زیادہ ہوتا ہے اور تمباکو نوشی کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں