Daily Mashriq

امریکی ثالثی کی پیشکش اور بھارت کاپھر انکار

امریکی ثالثی کی پیشکش اور بھارت کاپھر انکار

امریکہ نے پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کیلئے پیشکش کر کے دونوں ممالک کومذاکرات اور مفاہمت کی فضا باہم مسائل حل کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے کا موقع فراہم کیا ہے اس کو معمول کی پیشکش اس لئے قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی اس ضمن میں ممکنہ طور پر کردار کا عندیہ دیا گیا ہے ۔ پاکستان نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے مگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لییامریکہ کی جانب سے کی گئی ثالثی پیشکش کو بھارت نے ایک بار پھر مسترد کردیا ہے۔ بھارت کے انکار کے بعد امریکی محکمہ داخلہ نے دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کی پیش کش کو دہرایا۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لییامریکہ کی جانب سے ادا کیا جانے والا کردار خطے کی صورتحال میں بہتری پیدا کرے گا۔واضح رہے کہ نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ یہ بالکل درست ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہے اور یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہم کس طرح کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔بھارتی نژاد امریکی سفیرنکی ہیلی سے جب سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سیامریکہ کوئی کردار ادا کرسکتا ہے تو ان کا کہنا تھا، کہ مجھے امید ہے ٹرمپ انتظامیہ اس حوالے سے مذاکرات کا حصہ بننے کی کوشش کرے گی۔ترجمان کا کہنا تھا ہمارا ماننا ہے کہ بھارت اور پاکستان عملی تعاون سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے، کشیدگی میں کمی کے لیے ہم دونوں ممالک کے درمیان بلواسطہ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کا بہتر ہونا دونوں ممالک اور خطے کے لیے ضروری ہے کیونکہ علاقائی معاشی تعلقات میں قربت پیدا کرنے والے اقدامات روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں کمی اور توانائی کی فراہمی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔تاہم اس بیان کا آخری حصہ امریکی پالیسی کی وضاحت کرتا ہے جو بھارت کے اس موقف سے قریب ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات دو طرفہ طور پر حل ہونے چاہئیں اورامریکہ صرف مذاکرات کے لیے بھارت اور پاکستان کی حوصلہ افزائی کرسکتا ہے۔دوسری جانب بھارت کسی تیسری جماعت کی جانب سے ثالثی کے امکان کو مسلسل مسترد کرتا رہا ہے، جس میں اقوام متحدہ اورامریکہ دونوں کی پیشکش شامل ہے۔تاہم پاکستان بین الاقوامی ثالثی کو خوش آئند قرار دیتا ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر اٹھاتا رہتا ہے، ہندوستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسلام آبادامریکہ یا اقوام متحدہ کی مدد کو بھی سراہتا رہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی را ہ میں بنیادی رکاوٹ یہ ہے کہ بھارت اصل معاملہ اور تنازعہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر مذاکرات کا خواہاں ہے ۔ جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کا خواہاں ہے ۔ دوسری رکاوٹ بھارت کی طرف سے یہ ہے کہ بھارت اپنی شرائط اور نکات پر مسائل پر بات چیت کیلئے بضد ہے اور وہ پیشگی شرائط کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے جوپاکستان کو منظور نہیں ۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی فضا کا نہ ہو نا بھی ایک بڑا اور بنیادی مسئلہ ہے نیز مقبوضہ کشمیر میں بھارت سب سے زیادہ فوج لمبے عرصے سے تعینات کرنے کے باوجود بھی حالات سے نمٹنے میں ناکامی پر سخت دبائو کا شکار ہے جس کا ذمہ دار وہ اپنی پالیسیوں اور مظالم کی بجائے پاکستان کو گردانتا ہے۔ اس فضا میں مذاکرات کی توقع ہی عبث ہے اور اگر مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو ان کا حسب سابق لاحاصل ہونا نوشتہ دیوار ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ امریکہ سمیت اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اس ضمن میں کردار ضرور ادا کرنا چاہیئے۔ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی اور معاملات کا تصفیہ بھی ہونا چاہیے لیکن اس کیلئے محض ثالثی کی پیشکش کافی نہیں بلکہ عملی طور پر کوشاں ہونے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ملک کے انکار اور احتراز کے باعث یہ کیسے ممکن ہوگا۔ ہمارے تئیں یہ تنازعہ ہی بھارت کے احتراز انکار اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کو تسلیم کرنے کے بعد اس سے مکر جانے سے پیدا ہوا ہے اگر اقوام متحدہ اپنا کردار اد ا کر ے اور منظور شدہ قرار داد کی روشنی میں استصواب رائے کر ایا جائے تو سب سے اہم اور بنیادی تنازعہ کے حل میں پیشرفت ہوگی۔ ایسا کرتے ہوئے عالمی برادری بھارت کی مرضی و منشا کی پابند اس لئے نہیں کہ اس ضمن میں خود بھارتی وزیر اعظم سلامتی کونسل میں وعدہ کر چکے ہیں جس کے بعد لیت و لعل اور احتراز اختیار کرنے پر عالمی برادری کا مسئلہ کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر زور نہ دینا مسائل کا باعث بنا ۔ بہر حا ل اس منظر نامے کے باوجود بھی دیکھا جائے تو بھی ثالثی کی ہر پیشکش کا پاکستان کی جانب سے خیر مقدم اور بھارت کی جانب سے انکار سے صورتحال بخوبی واضح ہے کہ مسئلہ کہاں ہے اور مفاہمت و مذاکرات کی فضا میں تنازعے کے حل پر کون آمادہ نہیں ۔ امریکہ سمیت اقوام عالم کی پیشکشوں کا اگر چہ خیر مقدم کے باوجود جائزہ لیا جائے تو یہ محض تکلفانہ رسمی اور سطحی نوعیت ہی کے ہوتے ہیں جن کو عملی جامہ پہنانے کی کوئی جستجو اور لگن نہ قبل ازیں دیکھی گئی ہے اور نہ موجودہ امریکی پیشکش کے حوالے سے کسی سنجیدہ جستجوکا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے اس کے باوجود کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی اس میں کردار ادا کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے اگرواقعی ٹرمپ نے سنجیدہ کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے تو اس سے امید وابستہ کی جا سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل اوبا ما انتظامیہ نے بھی اپنے دور حکومت کے ابتداء میں پاک بھارت کشید گی کو ختم کروانے میں اہم کردار ادا کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں خطے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک سے کہا تھا کہ وہ باہمی مذاکرات کے ذریعے ہی کشیدگی کو ختم کریں ۔ محولہ فضا میں امریکی پیشکش کا ثمر آورثابت ہونا اور دونوں ملکوں کو قریب لانے میں کامیابی کا امکان کم ہی نظر آتا ہے الایہ کہ بھارت اپنے رویے پر نظر ثانی کرے اور امریکہ و اقوام متحدہ کی ثالثی قبول کر کے با مقصد مذاکرات پر آمادہ ہو ۔

متعلقہ خبریں