Daily Mashriq


سینیارٹی کے مطابق تقرریوں کی ضرورت

سینیارٹی کے مطابق تقرریوں کی ضرورت

خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل آئی جی اختر علی شاہ کو اعلیٰ گریڈ میں ہونے کے باوجود جونیئر کو ترجیح دینے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر اسٹیبلشمنٹ میں رپورٹ کرنا پڑی جبکہ سندھ حکومت آئی جی سندھ کو کنارے لگانے کی ناکام تگ و دو میں ہے۔ صرف یہ دو واقعات نہیں بلکہ آئے روز افسران اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرتے رہتے ہیں ۔تقرریوں اور تبادلوں میں نا انصافیاں اور میرٹ کی خلاف ورزیاں بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ یہ صرف سندھ' خیبر پختونخوا ہی کے معاملات نہیں پنجاب اور بلوچستان میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ ایماندار افسران کی حوصلہ افزائی اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ سرکاری امور کو قوانین کے دائرے میں نمٹانے کے خواہشمند ہوتے ہیں جو صاحبان اقتدار کو منظور نہیں۔ قانون کی حکمرانی میرٹ اور سرکاری امور کو مروجہ طریقہ کار کی پابندی کرتے ہوئے نمٹانے کو جب اس طرح سے نا ممکن بنا دیا جائے گا تو اچھی حکمرانی اور عوام کے مسائل کا حل کہاں سے ہوگا۔ جب ایسی صورتحال ہوگی تو عوام کی حکمرانوں سے بد دلی اور عدم اعتماد کااظہار فطری امر ہوگا۔ سادہ سا سوال ہے کہ ہر سیاسی حکومت مروجہ سرکاری طریقہ کار کے مطابق اعلیٰ عہدوں پر اہل اور دیانتدار افسران کی تقرری کیوں نہیں کرتی۔ اگر ایسا نہیں کرسکتی یا نہیں کی جاتی تو ڈھنڈورا پیٹنے کی کیا ضرورت ہے۔ جس طرح سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج چیف جسٹس بنتاہے اگر یہی فارمولہ آرمی چیف کی تقرری اور آئی جیز کی تقرری کے لئے بھی اپنایا جائے تو حکومت کو ناپسندیدہ افسران کا سامنا تو ہوگا لیکن اس سے وابستہ قباحتوں سے بھی تو حکومت کا واسطہ نہ پڑنا تنقید سے بچنا کم فائدہ مند امر ہوگا۔ میرٹ اور سینیارٹی پر آنے والے اعلیٰ افسر سے انصاف اور عوامی مسائل پر سر کھپانے کی بجا طور پر توقع کی جاسکتی ہے اور اگرکوئی اعلیٰ عہدیدار اس ضمن میں کوتاہی کا مرتکب ہو جائے تو متعلقہ صوبائی حکومت کے سربراہ اس سے جواب طلبی کرسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں عمارت کی بنیاد ٹیڑھی رکھ کر توقع کی جاتی ہے کہ ہماری مرضی اور مفادات کا خیال رکھتے ہوئے عوام کی خدمت کی جائے تو ایسا ممکن نہیں۔

مچھر مار مہم' دیر آید درست آید

20مئی تک جاری رہنے والے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور کی چاروں زونز میں مچھر مار مہم دیر آید درست آیدکے مصداق احسن اقدام ہے۔ اگرچہ اس کے آغاز کا اعلان کردیاگیا ہے لیکن فی الوقت اس امر کی اطلاع نہیں کہ اس اعلان پر عملی طور پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے یا نہیں۔ اگر ابھی تک عملی اقدامات باقی ہیں تو اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں مچھروں کی یلغار شہریوں کے لئے خاص طور پر تکلیف دہ امر بن چکاہے جس کے باعث بچوں' بزرگوں اور خواتین کے بالخصوص اور دیگر افراد کے بالعموم ملیریا کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔ مچھروں کے خاتمے کے لئے سپرے کو کار آمد اور موثر بنانے کے لئے دھواں بننے والی دوا کا معیاری اور مدت میعاد کے دورانیہ میں ہونا چاہئے۔ عموماً اس طرح کی شکایات آتی ہیں کہ سپرے کے باوجود بھی مکینوں کو مچھروں سے نجات نہ مل سکی۔ شہر کے مضافاتی اور جن علاقوں میں پانی کی نکاسی کا بہتر انتظام نہیں سپرے کا آغاز وہیں سے کیاجائے اور ان علاقوں میں سپرے کا دورانیہ اور دوا کی مناسب مقدار کا استعمال خاص طور پر یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں