Daily Mashriq

ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی پر سیاسی منظرنامہ

ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی پر سیاسی منظرنامہ

ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں پیپلز پارٹی کا جلسہ ذوالفقار علی بھٹو کی سامراج دشمنی ' عوامی دوستی کی طرز سیاست اور پاکستان کو دنیا کا ناقابلِ تسخیر ملک بنانے کی جدوجہد کو اجاگر کرنے کی بجائے متوقع طور پر آئندہ سال یا اس سال برپا ہونے والے انتخابات کے لیے مہم کا حصہ تھا۔ نہ پارٹی کے نقطۂ نظر کی کوئی وضاحت نظر آئی نہ آج کے بین الاقوامی حالات میں ملک کو آگے بڑھانے کے لیے حکمت عملی نظر آئی ' نہ متبادل معاشی معاشرتی اہداف کا ذکر کیا گیا۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرنز کے صدر اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے والد آصف علی زرداری نے کہا کہ آئندہ وزیر اعظم پیپلز پارٹی کا ہو گا۔ آج کے حالات میں یہ بہت بڑا دعویٰ ہے۔ جب حکمران مسلم لیگ ملک کو ترقی دینے کے منصوبوں کو انتخابی نعرہ بنانے کی طرف راغب نظر آتی ہے اور ملک کی شاید سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی تحریک انصاف حکومت کو کرپشن اور خراب طرز حکمرانی کے ایشو پر چیلنج کر رہی ہے۔ آصف علی زرداری نے اس دعوے کی دلیل یہ دی ہے کہ انہوں نے 15روز پنجاب میں قیام کیا اور ان کے پندرہ روزہ قیام ہی کی بدولت بلے والوں یعنی تحریک انصاف اور کاغذی شیروں یعنی حکمران مسلم لیگ کا حال خراب ہو گیا۔ اس حال خراب ہونے کے شواہد کیاہیں انہوں نے نہیں بتایا۔ البتہ اس حوالے سے ان کے اس سے پہلے کے دعوے قابل غور ہوجاتے ہیں کہ جن میں انہوں نے کہا کہ وہ دکھائیں گے کہ انتخاب کیسے لڑا جاتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جہاں ایک طرف بلاول بھٹو جن پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے ( اس میں یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ حال ہی میں سیاست میں لانچ ہوئے ہیں اور ان کے پاس کوئی عہدہ اب تک نہیں رہا ) حکمران مسلم لیگ کو کرپشن کے ایشو پر چیلنج کرتے رہیں گے۔ حکومت کی طرز حکمرانی پر تنقید کرتے رہیں گے اس طرح وہ وہی باتیں دہراتے رہیں گے جنہیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کئی سال سے اپنی سیاست کا محور بنائے ہوئے ہیں۔ اس طرح یہ میدان عمران خان کے لیے خالی نہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان میں اس حقیقت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بڑے جلسے اور مقبول عام تقریریں اگرچہ شہرت کا باعث ہوتی ہیں تاہم انتخابات کی حرکیات اور انتخابات کے دن کی منصوبہ بندی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔پیپلز پارٹی کو اگرچہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی نشست حاصل ہے تاہم ملک کی واحد اپوزیشن پارٹی تحریک انصاف نظر آتی ہے۔ پچھلے دنوں ایسے تبصرے اور خبریں شائع ہوتی رہی ہیں کہ جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا انتخابی سمجھوتا ہو سکتا ہے لیکن یہ اس وقت کی باتیں ہیں جب بلاول بھٹو حکمران مسلم لیگ کو کرپشن اور بری حکمرانی کے ایشو پرچیلنج کرتے نظر آ رہے تھے اور آصف زرداری ابھی ملک سے باہر تھے۔ اب پیپلز پارٹی کے ورکروں کو پارٹی کا وزیر اعظم دینے کا وعدہ آصف زرداری کر رہے ہیں اور بلاول بھٹو زرداری محض شامل باجا نظر آرہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں منتخب ہونے کی صلاحیت رکھنے والوں کی کمی تحریک انصاف میں نظر آتی ہے ۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے پاس منتخب ہونے کی صلاحیت رکھنے والوں کی کمی نہیں اور نہ ہی جوڑ توڑ اور انتظامات کرنے والوں کی کمی ہے۔ تاہم مقبول عام ووٹ بنک نظر نہیں آتا۔ یہی حال سندھ میں پیپلز پارٹی کا ہے وہاں بھی پیپلز پارٹی کے لیے ہمدردی رکھنے والا ووٹ بینک بہت کم ہو چکا ہے۔ اس لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں کی انتخابی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ سندھ میں وزیر اعظم نواز شریف اس لیے جلسے کر رہے ہیں اور بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی سے بددل ہونے والے ووٹر تحریک انصاف کی طرف جانے کی بجائے مسلم لیگ ن کی طرف آئیں۔ اور زرداری اس لیے پنجاب کو توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہیں کہ پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب کا مسلم لیگ ن سے برگشتہ ہونے والا ووٹ تحریک انصاف کی بجائے پیپلز پارٹی کو حاصل ہوجائے۔ اس طرح اگرچہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن بظاہر ایک دوسرے کے گڑھ پر حملہ آور ہو رہی ہیں۔ تاہم ان کا ہدف ایک ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن سے بددل ووٹروں اور سندھ پیپلز پارٹی کی حکمران سے برگشتہ ووٹروں کو تحریک انصاف کی طرف نہ جانے دیا جائے ۔ ٹی وی پر آج کل کئی ماہ پہلے کی ایک فوٹیج نظر آ رہی ہے جس میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے پیپلز پارٹی کی طرف سے حکمران مسلم لیگ کے لیے ڈیل کی پیش کش کا ذکر کیا۔ اور اس کی شرطیں یہ بیان کیں کہ ڈاکٹر عاصم کو ضمانت پر رہا ہونے دیا جائے اور ایان علی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جائے۔ یہ دونوں شرطیں پوری ہو گئی ہیں۔ بلکہ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن اور خود زرداری بھی بیرون ملک سے واپس آ گئے ہیں ۔ اس ڈیل کے بعد دونوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف انتخاب مہم بھی زوروں پر ہے۔ جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے وہ تو تین ساڑھے تین سال سے حکمران مسلم لیگ ن پر کرپشن کی سرپرستی اور بری حکمرانی کے الزامات عائد کر رہی ہے اور انتخابات کی تیاری میں مصروف نظر آرہی ہے۔ اس فعالیت سے تحریک انصاف مقبولیت تو حاصل کر رہی ہے تاہم منتخب ہونے کی صلاحیت رکھنے والے تحریک انصاف میں کم نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین نے انتخابی سمجھوتے کی افواہوں کے باوجود پیپلز پارٹی پر بھی کرپشن کے الزامات کا ذکر ترک نہیں کیا ہے ۔ انتخابی مہم کی اس گرم بازاری سے یہ خیال ابھرتا ہے کہ آیا سیاسی پارٹیوں کو قبل از وقت انتخاب کی کوئی آس ہے۔ اس امید کی ایک وجہ پاناما کیس کا فیصلہ بھی ہے جو جلدی آنے کی توقع ہے۔ اگر ایسا ہوا تو توقع ہے کہ سیاسی گھرانوں کے اکثر چشم و چراغ آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیں گے تاکہ انتخابات کے بعد سیاسی اتحاد پر غور کر سکیں۔

متعلقہ خبریں