Daily Mashriq

برطانیہ کا بریگزٹ اور جبرالٹرکا مستقبل

برطانیہ کا بریگزٹ اور جبرالٹرکا مستقبل

برطانیہ میں پچھلے سال ہونے والے بریگزٹ ریفرنڈم میں مجموعی طور پر تو برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کیلئے ووٹ دیا لیکن کچھ علاقوں میں یورپی یونین کے حق میں پڑنے والا ووٹ اب برطانیہ کیلئے نئے مسائل کا سبب بن رہا ہے۔ ان علاقوں میں جبرالٹر کا جزیرہ بھی شامل ہے، جس نے یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں پچانوے فیصد سے بھی زیادہ ووٹ ڈالے۔ جب سے برطانیہ نے بریگزٹ کے لیے یورپی یونین کے سربراہ کو خط لکھ کر رسمی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جبرالٹر پر ایک نیا تنازعہ سر اٹھا رہا ہے۔ اسلامی سپہ سالار طارق بن زیاد اسپین(اندلس)کی فتح کے حوالے سے مشہور ہیں۔ ان ہی کے نام سے مشہور جبل الطارق ''جبرالٹر'' کا جزیرہ آج کل برطانیہ اور اسپین میں کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اسپین کا کہنا ہے کہ جزیرے کے عوام کی اکثریت کا یورپی یونین کے حق میں ووٹ دینا اسپین کی اس مانگ کی تائید ہے کہ جس میں وہ اس جزیرے پر برطانیہ کے ساتھ شراکت اقتدار کا خواہاں ہے۔ جبرالٹر کی تاریخ انتیس سو سال سے بھی زیادہ قدیم ہے۔یہ بحیرہ روم کے دروازے جنوبی اوبیرین ساحل پر ایک چھوٹا سا جزیرہ نما ہے۔یہ جزیرہ نما یورپ کا سب سے زیادہ قلعہ بند اور متنازعہ مقام بن گیا ہے۔جبرالٹر کی اہمیت کی بنیادی وجہ اس کا محل وقوع ہے۔ اسی وجہ سے اس پرگزشتہ صدیوں کے دوران متعدد محاصرے اور لڑائیاں وقوع پذیر ہوئی ہیں۔ اگرچہ جبرالٹر بہت چھوٹا سا خطہ زمین ہے لیکن دفاعی نقطہ نظر سے اپنے محلِ وقوع کے باعث بہت اہم ہے۔ یہ افریقہ کے شمالی ساحل سے صرف بارہ میل دور ہے۔ یہاں برطانیہ کا فوجی اڈہ ہے، بندرگاہ ہے اور جہازوں کے اڑنے اور اترنے کے لیے فضائی بیس بھی موجود ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جبرالٹر کی ساری آبادی کو دوسرے مقامات پر منتقل کرکے اس کو ایک اہم فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ پہاڑ نما جزیرہ اسپین کے جنوب میں واقع ہے۔ جبرالٹر کا محلِ وقوع تجارتی جہاز رانی، تیل کی ترسیل اور فوج سے متعلق سازوسامان کی منتقلی کے لیے بھی اہم ہے۔ جبرالٹر711ء سے لے کر 1462ء تک مسلمانوں کی حکومت میں رہا۔ مسلمانوں کے بعد اسپین نے اس علاقے پر حکمرانی قائم کی۔ 1704میں اینگلو ڈچ فوج نے یہ جزیرہ اسپین سے چھین لیا لیکن نو سال بعد یعنی 1713ء میں یہ برطانیہ سے جڑ گیا اور تب سے آج تک یہ برطانوی علاقہ کہلاتا ہے۔ پانچ اعشاریہ نو کلو میٹررقبہ پر مشتمل اس جزیرے کی شہرت کی بڑی وجہ اس پر 1300 فٹ بلند چٹان ہے جسے راک آف جبرالٹر کہتے ہیں۔ جہاں اسپین اس جزیرے پرتخت نشینی کی نزع کے تناظر میں اپنا حق جتاتا ہے وہاں برطانیہ کہتا ہے کہ ایک معاہدے کے تحت اسپین نے جبرالٹر کو اس کا حصہ بنا دیا تھا اور اس کا حق اس لئے بھی زیادہ بنتا ہے کہ اس نے زیادہ دیر تک جبرالٹر پر حکمرانی کی ہے۔ دونوں ملک اپنے دعوؤں کے ثبوت میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ یورپی اتحاد کا حصہ ہے لیکن جبرالٹر یورپی اتحاد کے باہر سے درآمدات پر اپنے ٹیرف خود مقرر کر سکتا ہے۔ اسپین کا خیال ہے کہ جبرالٹر کی سرحد کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے جس سے اسپین کے وسائل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس میں خاص طور پر سگریٹوں کی سمگلنگ شامل ہے۔ جب سے برطانیہ نے یورپی اتحاد کو چھوڑنے کا عمل شروع کیا ہے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یورپی یونین کے مسودے کے مطابق مستقبل میں برطانیہ کے ساتھ جو بھی طے ہوگا وہ اسپین کی مرضی کے بغیر جبرالٹر پر لاگو نہیں ہوگا۔ یعنی اسپین کو جبرالٹر پر ایک قسم کا ویٹو مل جائے گا۔ اطلاعات ہیں کہ سپین نے جو یورپی یونین کا رکن ہے، اس شرط کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کافی کوششیں کی ہیں۔ جبرالٹر کی عوام 1967ء اور2002 ء میں ہونے والے ریفرنڈم میں واضح اکثریت سے برطانیہ سے الحاق کا فیصلہ کرچکے ہیں لیکن ان ادوار میں برطانیہ کے پاس پورے یورپ کی حمایت تھی۔ لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ ویسے بھی اس جزیرے کے عوام کے پاس برطانیہ کو لے کر کچھ تلخ یادیں موجود ہیں۔ اس میں سر فہرست جنگ عظیم دوم کے دوران اس جزیرے سے سارے عوام کا انخلا تھا جو جزیرے کو جنگی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کیلئے کیا گیا۔ منجھے ہوئے یورپی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین بریگزٹ کے بعد جبرالٹر پر اسپین کے مطالبات کی حمایت جاری رکھے گا۔ اب حالات کشیدگی کے طرف بڑھ رہے ہیں۔ حالانکہ برطانوی خاتون وزیر اعظم تھوڑا نرم لہجہ اپنائے ہوئے ہیں لیکن حالات کے کشیدہ ہونے کا اندازہ گزشتہ اتوار کے روز برطانوی سیکرٹری دفاع سر مائیکل فیلن کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس میں انہوں نے برطانیہ کے علاقے کی حفاظت کرنے کے لئے ''تمام راستے'' استعمال کرنے اور برطانیہ کی طرف سے جبرالٹر کی خود مختاری کا دفاع کرنے کیلئے فوجی طاقت استعمال کرنے کا اشارہ دیا۔ ان حالات میں برطانیہ کے پاس جبرالٹر کی آبادی کی حمایت کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ یورپی یونین تو پہلے ہی برطانیہ سے حالیہ برگزیٹ کی وجہ سے نالاں بیٹھی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یورپی طاقتیں اس مسئلے کا پرامن حل نکالیں اور معاملے کو طاقت کی بجائے گفت وشنید سے حل کریں۔ پاکستانی خارجہ تعلقات کے اداروں کو اس معاملے پر کڑی نظر رکھنی ہوگی کیونکہ یہ معاملہ صرف برطانیہ اور اسپین تعلقات کا نہیں بلکہ یورپی یونین بھی اس میں شریک ہے۔

متعلقہ خبریں