Daily Mashriq


آئینہ اور چہرے

آئینہ اور چہرے

زندگی کا مشاہدہ اور تجربہ کتاب کے حرفوں میں قید رہتا ہے ۔جو چاہے ورق کے قفل کھولے اور اپنے وجدان کو ان حرفوں کی قندیل سے روشن کرلے۔اپنے داخل کی دنیاؤں کی سیر کرلے کہ جہاں بہت سے ہیرے موتی اپنے وجود کو آشکارہ کرنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ۔ خارج کی بیکراں کائنات سے کہیں وسیع کائنات تو انسان کے داخل میں موجود رہتی ہے کہ جسے شاید ہی انسان ایک زندگی میں دریافت کرسکے ۔ انسان کابحیثیت مخلوق سب سے منفرد حوالہ اس کا شعور ہے کہ جس نے انسان کو عظمتوں کی بلندیوں سے روشناس کروایا ہے ۔ انسانی شعورکی تربیت دانش کے رستے سے ہوتی ہے اور دانش کا یہ سلسلہ بہت پرانا ہے ۔انسان نے سینہ بہ سینہ دانش کی اس روایت کو پروان چڑھایا ہے۔درس گاہیں دانش گاہیں ہیں کہ جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے انداز بدلتی رہی ہیں ۔ آج کے جدید سکول ، کالج اور یونیورسٹیاں ماضی کے ایک طویل سفر کے بعد اس مقام پر پہنچی ہیں ۔ ترقی اور اتقاء کے اس رستے میں کتنے سقراط ، افلاطون ارسطواور فیثاغورث اپنا کردار نبھا گئے ہیں کہ انسانیت بس ان معلوم و نامعلوم ہستیوں کا شکریہ ہی ادا کرسکتی ہے ۔ افسو س کہ ہمارے سماج میں دانش کو شعور میں بدلنے والوں کی قدر نہیں کی جاتی ورنہ ان سے افضل لوگ اور کون ہوسکتے ہیں کہ جن کا اوڑھنا بچھونا ہی علم و آگہی ہو۔ شخصیت پرست معاشروں میں عالم اور دانش ور کی کوئی کیا قدر کرے گا کہ یہاں تو شخصیات ہی اہم ٹھہرتی ہیں کہ وہ نفع نقصان کے ترازو میںتُلتی ہیں ۔مگر میں دانش کی کسوٹی پر پوری اترنے والی شخصیات سے جب بھی ملتا ہوںتو واپسی پر ایک شدید احساس کمتری ساتھ لاتا ہوں ۔سوچتا ہوں کہ زندہ تو میں بھی ہوں لیکن جب اپنا احتساب کرتا ہوں تو خسارہ ہی خسارہ نظر آتا ہے۔ایسا ہی ایک تجربہ گزشتہ روز استاد محترم ڈاکٹر فقیرا خان فقری کے توسط سے ہاتھ آیا۔استاد کا کام ہی ہر دم احسان کرنا ہوتا ہے سو ڈاکٹر صاحب ایک اور کرگئے ۔کمپیوٹر کے حوالے سے مصنوعی ذہانت کے جدید ترین موضوع پر پی ایچ ڈی کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں ۔ کیونکہ سٹیفن ہاکنگز کہتا ہے کہ انسان کو اس مصنوعی ذہانت سے مستقبل میں بہت سے خطرات ہیں ۔ پروفیسرڈاکٹرمحمدعابدنے مصنوعی ذہانت کے لسانی حوالے کو اپنے پی ایچ ڈی تھیسس میں موضوع بنایا ہے۔Computational Languageایک خاص موضوع ہے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا ۔اسی کی ایک شاخ نیچرل لینگویج پروسیسنگ بھی ہے۔ یہ موضوع بجائے خود بڑا عجیب اور دلچسپ ہے ۔ کیونکہ کمپیوٹر 0101کی بائینری لینگویج کو ہی سمجھ سکتا ہے ۔جبکہ ڈاکٹر صاحب انسان کی فطری لسانیات کے ذریعے کمپیوٹر کو براہ راست سمجھانے کی صلاحیت پر تحقیق کرچکے ہیں ۔ہم جس دور میں جی رہے ہیں اس میں انسان کامصنوعی ذہانت کے ساتھ ایک خاص رشتہ اور تعلق استوار ہوچکا ہے ۔ خد اجانے آنے والے دنوں میں یہ مصنوعی ذہانت کیا کیا گل کھلائے گی ۔ایسی صورت میں اس فنامینا کو سمجھنا از بس ضروری ہوگیا ہے ۔اس حوالے سے ڈاکٹر عابد کی یہ کاوش عالمی معیار کی ہے ۔فخر کی بات یہ ہے یہ اعزاز پشاور یونیورسٹی کو حاصل ہے کہ اس کے نئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمحمد عابدایک بہت بڑی دانش ور شخصیت ہیں ۔ چند منٹوں کی ملاقات کسی بڑے علمی سیشن سے کم نہ تھی ۔ علم کا ایک سیل رواں تھا کہ جاری وساری تھا۔میں جوبہت بولنے کی بیماری کا شکار ہوں وہاں مکمل طور خاموش رہا کیونکہ اس لیول تک پہنچنا میرے بس میں تھا ہی نہیں کہ جس لیول سے ڈاکٹر صاحب گفتگو کررہے تھے ۔وی سی کی حیثیت سے بھی وہ بہت کلیئر تھے کہ ان کا کام طلباء اور اساتذہ کو سہولیات بہم پہنچانا ہے سسٹم خود بخود کامیابی کی طرف چلتا ہے ۔ فنانشل حوالوں سے ان کی اپروچ بڑی واضح اور مثبت تھی کہ یونیورسٹی کے اخرا جات کو پورا کرنے کے لیے بجائے بچت کرنے کے فنڈ کے حصول کی کوشش کی جانی چاہیئے ۔ کیونکہ یونیورسٹیوں کا کام تعلیم دینا ہے اور تعلیم پر خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ بحیثیت سربراہ وہ یہ عزم رکھتے ہیں کہ فنانس کے لیے نئے امکانات تلاش کریں گے۔ میں نے ان پر سوال کیا کہ سی پیک کے حوالے سے ان کے کیا ارادے ہیں تو جواب میں انہوں نے کہا کہ پشاور یونیورسٹی ڈاکٹر زاہد انور کی سربراہی میں پہلے سے ہی چائنہ سٹڈی سیل قائم کرچکی ہے ۔جس میں چینی زبان سکھانے کے علاوہ وہاں کے دیگر حوالوں کو اجاگر کرنے کا کام ہوگا۔ ڈاکٹر صاحب چھپے رستم نکلے کہ دو کتابوں کا خود کو مصنف بتا کر ہمیں اور بھی احساس کمتری میں ڈبو گئے ۔''چین براستہ خنجراب '' ان کا سفر نامہ ہے جو انہوں نے 1993میںچین کے سفر سے واپسی پر تحریر کیا تھا ۔ا ور ایک دوسری کتاب ''آئینہ اور چہرے ''مزے کی کتا ب ہے۔ یوں تو میں کتاب پڑھنے کو ترجیح دیتا ہوں لیکن کچھ ملاقاتیں کتب بینی سے زیادہ لطف دیتی ہیں ۔ ڈاکٹر فقیرا کا مشکور ہوں کہ اس ملاقات کا ااہتمام کردیا ۔قارئن کے ساتھ اس ملاقات کا خلاصہ شیئر کردیا۔

متعلقہ خبریں