Daily Mashriq

آرمی چیف ،جمہوریت اور خبریت

آرمی چیف ،جمہوریت اور خبریت

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ایک گھنٹے کی ملاقات کا خلاصہ ایک جملے میں یوں بیان کیا ہے کہ عوام کے لئے خوش خبری ہے کہ آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔کوئی اور ملک ہوتا تو شاید ایک سیاست دان کو آرمی چیف سے ملنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی اور اگر ملاقات ہو جاتی تو اس میں بریکنگ نیوز والی کوئی بات نہ ہوتی اور پھر کسی فریق کو یہ کہنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی کہ آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ ہر جمہوری معاشرے میں آرمی اور اس کا چیف جمہوریت کے ساتھ ہی کھڑے ہوتے ہیں اور انہیں جمہوریت کے ساتھ ہی کھڑا ہونا چاہئے ۔ اس کا کیاکیجئے کہ ملک پاکستان میں اُلٹی گنگا بہتی رہی ہے ۔یہاں سیاسی قیادت کو بارہا آرمی چیف سے ملاقات کی ضرورت پیش آتی رہی ہے اور پھر اس ملاقات کو خبر بنتے بھی دیکھا گیا ۔اس کے مقاصد،عواقب اور نتائج پر جم کر بحث ہوتی رہی ہے ۔پاکستان میں لڑکھڑاتی ڈولتی جمہوریت اب تاریخ میں دوسری بار اپنی مدت پوری کرنے کے قریب آ چکی ہے ۔ماضی میں کوئی بھی جمہوری حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکی اور کئی بار جمہوریت کا تسلسل ٹوٹتے ہی ملک غیر معینہ مدت کے لئے مارشل لاء کی راہوں پر گامزن ہوتا رہا اور ہر فوجی حکمران کی کم ازکم مدت دس سال رہی ہے ۔فوجی حکومتوں سے نجات کے لئے جہاں سیاسی جدوجہد کا سہارا لیا جاتا تھا وہیں اس نظام کی بساط لپیٹنے کے لئے غیر ملکی طاقتوں سے اخلاقی مدد اور ثالثی بھی کرائی جاتی رہی ۔عالمی ادارے اور سفارت کار فوجی حکمرانوں پر بحالی جمہوریت اور عوام کو اقتدار میں شریک کرنے پر زور دیتے رہے۔اب زمانے کے انداز بدل گئے ہیں ۔عوام جابرانہ شخصی اور ادارہ جاتی آمریت کو قبول کرنے کو تیار نظر نہیں آتے ۔ٹیکنالوجی کی تیزرفتار ترقی نے عوام کو زیادہ طاقتور اور پراعتماد بنا دیا ہے۔عالمی مالیاتی ادارے بھی اب بجٹ کی تیاری اورقرضوں کی فراہمی اور دوسرے پراجیکٹس کی صورت میں ریاستوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کے حامل ہیں ۔عالمی ضمیر بھی جمہوریت اور شہری آزادیوں کا گلہ گھونٹنے کو قبول نہیں کرتا ۔یہ وہ عوامل ہیں جنہوں نے ملک میں جمہوریت کے پودے کو اکھاڑ پھینکنے کے خدشات کو کم کیا ہے ۔عالمی اور گرد وپیش کا ماحول اب کسی مہم جوئی کے لئے ساز گار نہیں رہا ۔ اس کے باوجود دنیا میںسب کچھ عالمی ماحول کے تابع نہیں ہوتا ۔جمہوریت کو اصل استحکام اس وقت ملنا شروع ہوتا ہے جب وہ ڈلیور کرتی ہے ۔جب اس کے اثرات اور ثمرات براہ راست عام آدمی تک پہنچتے ہیں ۔جب ایک ووٹ دینے والا اپنی پرچی کو آنکھیں بند کرکے دریا برد کرنے کے مترادف نہیں سمجھتا بلکہ وہ ووٹ کی پرچی کو ملک ومعاشرے میں حقیقی تبدیلی کی ایک توانا کوشش سمجھ کر بیلٹ باکس میں ڈالتا ہے ۔اسے یقین اور اعتماد ہوتا ہے کہ وہ یہ نشان زدہ پرچی ڈبے میں ڈال کر ملک میں ترقی اور تبدیلی کے عمل کا ایک اہم شراکت دار ہے اور اس کے بدلے اسے سڑکیں ،پل ،صحت ،صفائی اور تعلیم کی سہولیات ،تحفظ ،عدل اور انصاف حاصل ہوگا ۔یوں وہ ایک خوبصورت اجتماعی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔ عوام کے دلوں میںیہ شعور اور اعتماد پیدا کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہوتا ہے ۔سیاسی اور جمہوری حکومتیں ڈلیور کرتی ہیں تو ان کی سپیس ازخود بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ان کی حسن ِ کارکردگی ان کی قبولیت اور مقبولیت کا دائرہ بڑھاتی چلی جاتی ہے۔عوام کو ایسے حکمران اپنے اپنے سے لگتے ہیں ۔وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے میں عار محسوس نہیں کرتے ۔ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں فوج نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور کمال ازم کے دفاع کے نام پر سیاست میں پوری طرح ساجھے دار تھی ۔عوام بھی فوج کے اس کردار کو قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموش تھے ۔جمہوری عمل سے رجب طیب اردوا ن جیسی کرشماتی شخصیت اُبھر کر سامنے آئی تو انہوں نے اختیارا ت کا مرکز اپنے عہدے کو بنانے کی بجائے زمین پر نظر آنے والی تبدیلی کو مطمح نظر بنائے رکھا یوں ایک فرد کی بجائے پوری سیاسی اور جمہوری قوتوں کی سپیس بڑھتی چلی گئی ۔عوام کا دبائو اور جمہوری حکمران کی اخلاقی ساکھ نے ترکی کے فوجی جرنیلوں کو پس قدمی پر مجبور کیا ۔اس لئے جمہوریت کومضبوط بنانے کی ذمہ داری صرف فوج کی نہیں ہوتی بلکہ اس کام میں سیاسی جماعتیں اور جمہوری نظام کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے ۔آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس میں کوئی خبریت نہیں ۔گزشتہ چند برس میں بارہا کانوں میں بڑے بوٹوں کی چاپ اور عزیز ہم وطنو السلام علیکم کی آواز گھنٹیاں بجاتی رہی اور کئی مواقع پر ''جانے کی باتیں جانے دو '' کے پوسٹر بھی چسپاں دیکھے جاتے رہے مگر کسی جرنیل نے مہم جوئی کی کوشش نہیں کی ۔ملک کے بہت سے سیاسی طوفانوں کو جنرل راحیل شریف کی ملازمت میں توسیع سے جوڑا گیا مگر راحیل شریف مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ایک وقار کے ساتھ گھر چل دئیے ۔فوج کے اندر احتساب کا عمل تیز ہوا اور بدعنوانی کے کچھ وردی پوش کرداروں تک نظام ِاحتساب کے ہاتھ پہنچ گئے ۔یہ فوج کے ادارے میں ذہنی اور عملی تبدیلیوں کے اشارے تھے ۔صاف لگ رہا ہے کہ فوج ایک ڈلیور کرتے ہوئے جمہوری نظام کو سپیس دینے کو تیار ہے ۔ اب جہاں آرمی چیف کو ہر حال میں جمہوریت کے ساتھ ہی کھڑا ہونا چاہئے وہیں اب پاکستان کی جمہوریت اور سیاست کو بھی میچور ہونے کے ساتھ ثمرآوربھی ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں