Daily Mashriq


اس یاد دہانی کا فائدہ؟

اس یاد دہانی کا فائدہ؟

قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کا کردار اور قربانیاں سب سے زیادہ ہیں۔ روسی حملے کے وقت پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا تھا افغان جنگ میں ہم نے امریکا اور مغرب کا ساتھ دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسداد دہشتگردی کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ہم نے طالبان کے خلاف امریکا کا ساتھ دیا ردعمل میں طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے 60ہزار لوگ شہید ہوئے اور ہماری معیشت تباہ ہوگئی مگر ہم نے ثابت قدم رہ کر دہشتگردی کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کا ساتھ دینے پر دہشتگردی کا شکار ہوئے ہیں فاٹا ،بلوچستان اور کراچی میں الجھایا گیا مگر ہم نے فاٹا سمیت ہر جگہ دشمنوں کا مقابلہ کیا۔ دشوار ترین علاقوں میں عالمی برادری آئے اور اس طرح لڑ کر دکھائے جس طرح ہم نے دشوار گزار علاقوں میں دہشتگردوں کو شکست دی۔ پاکستان کا دہشتگردوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں یہ سب امریکہ کا ساتھ دینے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا تذکرہ اپنے میاں مٹھوبننے کے مترادف ہوگا اگر ہم بار بار اسی ایک رٹ کی گردان کرنے کی بجائے عالمی دنیا کے تحفظات دور کرنے پر سنجیدگی سے توجہ دیں اور ان کی غلط فہمیاں دور کرنے کی سعی کریں تبھی پاکستان عالمی دبائو سے نکل سکتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے روس کے خلاف امریکہ کا ساتھ بھی دبائو دیا اس وقت پاکستان کے پاس یہ امکان ہی نہ تھا کہ انکار کیا جاتا۔ روس کی افغانستان میں مداخلت پاکستان پر ایک طرح سے بالواسطہ حملے کے مترادف تھا۔ جبکہ طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ نہ دینے پر پاکستان کو بھی ان کا ساتھی قرار دیا جاتا مگر یہ بد قسمتی ہی شمار ہوگی کہ طالبان کے خلاف کارروائی میں پاکستان کی امریکہ کو سہولت کاری اور انٹیلی جنس شیئر نگ جیسی سہولیات او رتعاون کی فراہمی کے باوجود ہنوز پاکستان اس الزام سے مبرا نہیں کہ پاکستان کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں انٹیلی جنس اداروں کی حد تک اس طرح کا تعلق ضرور ہوگا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں لیا جانا چاہیئے کہ پاکستان ان عناصر کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے اور ان کو مبینہ طور پر وقتی پناہ بھی دیتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا کو اس امر کا یقین کیوں نہیں آتا اور ایسے کیا اقدامات کئے جا ئیں کہ اس ضمن میں عالمی دبائو میں کمی آئے اور تحفظات دور ہوں۔ افغانستان میں لڑی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم دوہرے سے بھی زیادہ پسے گئے اور الٹا الزام بھی ہمیں پر لگ رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سیدھے سادھے معاملات کو واضح طور پر سمجھنے اور اس کو مرتکز کر کے دنیا سے گفت و شنید کی بجائے بیانیہ تبدیل کیا جانا کوئی کامیاب حکمت عملی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں معذرت خواہانہ رویہ یا پھر اپنے آپ کو بلاوجہ قصور وار سمجھنے کی بجائے معروضی حقائق کو سامنے رکھ کر امریکہ سمیت دنیا کو بتا دینا چاہیئے کہ بوقت ضرورت مل کر جو حکمت عملی اختیار کی گئی تھی اس کی ساری ذمہ داری پاکستان پر عائد نہ کی جائے بلکہ اسلام آباد سے زیادہ واشنگٹن اس کا ذمہ دار ہے ریاض بھی مبرا نہیں ۔ اب جبکہ واشنگٹن اور ریاض کی ترجیحات بد ل گئی ہیں تو اسلام آباد کو اس امر کا الزام دینا کہ اب بھی ان عناصر سے واسطہ رکھا گیا ہے فطری سی بات ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی جغرافیائی بعد کے باعث اپنا دامن چھڑ ا گئے مگر پاکستان کے پاس یہ موقع تھا اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں جاری جنگ کو بالحکمت پاکستان کی سرزمین پر لے آئے جس سے نمٹنے اور دبانے میں پاکستان کو جان جوکھو ں میں ڈالنا پڑی یہ انہی غلطیوں کا نتیجہ ہے کہ آج افغانستان میں قیام امن ممکن نہیں ہو پارہا۔ اگر افغانستان میں آئے امریکہ اور اس کے اتحادی مقصد حاصل کرجاتے یا پھر روس کی طرح افغانستان سے مکمل طور پر واپس چلے جاتے اور روس ہی کی طرح اپنی پالیسیوں میں حقیقت پسندانہ تبدیلیاں لاتے تو موجودہ صورتحال سے بچنا ممکن تھا امریکہ اور اس کے اتحادی اب بھی افغانستان سے نکلنے پر تو تیار نہیں اب وہ مختلف طریقوں سے پاکستان کو بھی متاثر کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔ بلوچستان کے حالات میں ان کا ہاتھ کسی سے پوشیدہ نہیں وہ غبا ر جب تھمنے لگا ہے تو ایک اور فتنہ پر دازی جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ الزام بھی پاکستان پر لگا کر اور ساز شیں بھی پاکستان کے خلاف کر کے پاکستان پر پابندیاں عاید کی جائیں اور پاکستان کو دبائو میں لایا جائے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے پاس اس سے بہتر کوئی حکمت عملی کی صورت نظر نہیں آتی کہ ان پر انے دوستوں سے پرانے تعلقات کے نقصانات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں اس طرح کی تبدیلیاں لائی جائیں جو پوری دنیا کیلئے قابل قبول ہوں ماضی میں جن عناصر کی سرپرستی کی ضرورت تھی اب و ہ ضرورت ہیولے کی شکل میں پیچھا کرنے لگی ہے۔ اس ہیولے سے اب پوری طرح سے جان چھڑا لی جائے اور جس نئے فتنے کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں اس پر توجہ مبذول کی جائے اور سازش کے پس پردہ عناصر کے ارادوں کو بھانپ کر اس کا اچھی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔ اب جبکہ ہمیں اس امر کا احساس ہو چکا ہے کہ ماضی میں امریکہ کا ساتھ دینے کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں تو ان غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ ممکنہ ازالے کی بھی سعی کی جائے اور اس کے اثرات کے زائل ہونے کیلئے بھی معقول اقدامات کئے جائیں ۔

متعلقہ خبریں