Daily Mashriq


منصف ہو تواب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

منصف ہو تواب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیرصدارت اجلاس میں ڈی جی نیب خیبرپختونخوا کو مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے مبینہ الزام میں شکایت کی جانچ پڑتال کا حکم دیدیا گیا۔ رکن قومی اسمبلی مولوی امیر زمان کے خلاف سرکاری ترقیاتی فنڈز میں خوردبرد اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور رکن صوبائی اسمبلی بلوچستان عبدالمالک کاکڑ کے خلاف ترقیاتی فنڈز میں خوردبرد کے مبینہ الزام میں شکایت کی جانچ پڑتال کا ڈی جی نیب بلوچستان کو حکم دیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب کے بلا امتیاز عمل میں جس جس سے تفتیش اور سوالات کرنے کی ضرورت پڑے تامل کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے لیکن دوسری جانب جس طرح اس طرح کی صورتحال کو میڈیا پر جاری کرکے ایک ہوا کھڑا کیا جاتا ہے اس سے لوگ یہ توقع کرنے لگتے ہیں کہ ہو نہ ہو الزام سچا ہوگا اور نیب اس الزام کو ثابت کرکے ملزمان کو سزا دلوادے گی لیکن معاملے کو خوب اچھالنے کے بعد پھر ایسی خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے کہ لوگوں کے مطالبات کے باوجود اس امر کاعلم نہیں ہوتا کہ الزامات سچے تھے یا پھر ملزم بے گناہ تھا۔ علاوہ ازیں نیب میں بہت سارے ایسے کیسز عرصہ دراز سے معرض التوا میں ڈالے گئے ہیں جو سنگین نوعیت کی بد عنوانیوں پر مشتمل ہیں۔ مگر اس ضمن میں خاموشی اختیار کی گئی ہوتی ہے۔ اس طرح کی صورتحال سے نیب پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ ہمارے تئیں نیب اس وقت تک کسی معاملے کا افشاء نہ کرے جب تک اس شخص یا افراد کے خلاف ٹھوس شواہد اور ایسی دستاویزات موجود نہ ہوں جن کی بنیاد پر دائر ہونے والے ریفرنس کے ثابت ہونے کا یقین نہ ہو۔ نیب کے اجلاسوں کے پریس ریلیز ز میں افراد کے نام تولئے جاتے ہیں مگر بعد ازاں کارروائی کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ بلوچستان میں مشہور زمانہ کیس ہو یا خیبر پختونخوا میں لینڈ سکینڈل یا پھر پنجاب و سندھ میں اہم مقدمات ' قوم بدعنوان عناصر کا کڑا احتساب چاہتی ہے۔ تازہ اجلاس میں جن عناصر کے خلاف شکایات کاجائزہ لیاگیاہے اگر ان شکایات کی نوعیت سنجیدہ اور جاندار مقدمہ بن سکتا ہے تو ایسا ضرور ہونا چاہئے اور اگر ایسا نہیں تو پھر پگڑی اچھالنا خود نیب کے حق میں بہتر نہ ہوگا اور لوگ آہستہ آہستہ نیب کو بھی خانہ پری کرنے والے ادارے سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہ ہوں گے۔

اضافی ڈیوٹی کامعاوضہ بھی ادا کیا جائے

خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں کے چوکیداروں سے آٹھ گھنٹے سے زائد ڈیوٹی لینے پر پابندی عائدکرنے کی منطق اس لئے سمجھ سے بالا تر ہے کہ کسی سرکاری ملازم سے آٹھ گھنٹے سے زائد خدمت لینے کی قانونی طور پر گنجائش ہی نہیں۔ اب تک اس قانون کی خلاف ورزی کیوں ہوتی رہی۔ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ چونکہ سرکاری سکولوں کے چوکیداروں سے کوئی دو سالوں سے اضافی ڈیوٹی لی جاتی رہی ہے اس لئے قانون کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو جتنے عرصے انہوں نے اضافی کام کیا ہے اس کا معاوضہ قانون کے مطابق ادا کیا جائے۔ محکمہ تعلیم کا صرف یہ حکمنامہ کافی نہیں کہ چوکیداروں سے اضافی ڈیوٹی نہ لی جائے۔

حقدار کو حق ملنا چاہئے

ہمارے نامہ نگار کے مطابق پشاوربس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی ) منصوبے پر پشاور کے مزدور حلقے نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے میں پشاور اور خیبر پختونخواکے مزدوروںکوکام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور سارے مزدوروںاور انجینئرزکو پنجاب سے لایا گیا ہے جو پشاور اورخیبر پختونخوا کے مزدورطبقے کیساتھ ناانصافی ہے۔ فوارہ چوک صدر،ہشتنگری، فردوس، گلبہار اوردیگرعلاقوں میں دیہاڑی دارمزدور روزانہ کام ملنے کے انتظارمیں بیٹھے رہتے ہیں۔پشاوربس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی ) منصوبے میں پشاور اور خیبر پختونخوا کے مزدوروںکوکام کرنے کا موقع نہ دینے کی شکایت اگر درست ہے تو اس کی تحقیقات کے بعد متعلقہ کمپنیوں سے باز پرس کی جائے اور ان کو مقامی مزدوروں کو کھپانے کا پابند بنایا جائے۔ بہر حال اس ضمن میں کوتاہی اختیار کرنے کو کسی تعصب اور نفرت کے کسی جذبے سے جوڑنے کی گنجائش نہیں۔ کام کی مہارت رکھنے والوں کو دوسرے صوبے سے لانے میں کوئی قباحت نہیں تھی لیکن اگر جان بوجھ کر ایسا رویہ اختیار کیاگیا تو یہ قابل مذمت امر ہے جس کی روک تھام منصوبے کے سرکاری نگرانوں کی ذمہ داری تھی۔ بہتر ہوگا کہ باقی ماندہ کام میں اس شکایات کا ازالہ کیاجائے اور حتی الوسع مقامی افرادی قوت سے کام لیا جائے۔

متعلقہ خبریں