رشیق جا ں کو ن ؟

رشیق جا ں کو ن ؟

قندوز افغانستان میں اس وقت آسمان سے آہن اور آگ بر سادی گئی جب معصوم بچے حفظ قرآن کی سند کی مسند پر جلو ہ افر و ز ہو رہے تھے۔ دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں ایسی با بر کت محافل منعقد نہیںہو ا کرتی کیو ں کہ ایک تو صیہونیت نے دیگر مذاہب کی نو جوان نسل کو فحاشی اور لادینیت یعنی سیکولر ازم نے ایسا انٹا غفیل کر دیا ہے کہ وہ اللہ کی ذات مبارکہ کو بھو ل ہی گئے ہیں اورنہ ہی ان کے پاس کوئی ایسی سہل روحانی کتا ب ہے جس سے اپنے سینے آبا د کر کے اللہ سے نا تا جو ڑ سکیں۔ قرآن حکیم دنیا کی واحد کتا ب ہے جو سب سے زیا دہ آسانی سے سمجھ آجا تی ہے اور انتہا ئی سہل طر یقے سے زبر ہوکر سینہ میں بس جا تی ہے۔ یہ وہ واحد کتا ب ہے کہ جس کو جتنی بار بھی پڑ ھو اس کو پڑھنے کی چاہت ختم نہیں ہوتی جبکہ کوئی دوسری کتا ب ایک مر تبہ پڑھ لی جائے تو دوبارہ پڑھنے کو دل مانتا ہی نہیں۔ قرآن معجزطراز بھی ہے اور معجزہ جاری بھی ہے ، اس لیے اس کتا ب کو ماننے والے بھی اور نہ ماننے والے بھی کبھی اس سے اکتا تے نہیں ہیںکیو ں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتا ب میں کہہ دیا ہے کہ اے انسان اس میں تمہا ر ا ذکر ہے یہ کتا ب خود بھی گواہی دیتی ہے کہ اس کی ہر سطر میں اور ہر صفحہ پر انسان کا ذکر موجود ہے۔ سقراط نے چار ہزار سال پہلے کہا تھا کہ اگر اللہ کو پہچاننا ہے تو خو د کو پہچانو اور خو د کو پہچاننے کا ذریعہ ہی کتا ب ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس کتا ب سے ہٹ کر ان کو دنیا کی نعمتیں میسر ہیں یا ہو سکتی ہیں تو یہ ان کی بھول ہے ، یہ عالیشان محلا ت ، دولت کی ریل پیل، غلا م و باندیا ں ، وسیع تر کا روبا ر ، ہو ائی جہازوں کی ملکیت ، بحری جہا زو ں کے بیڑوں کا مالک ہو نا یہ کوئی نعمت نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ ہدا یت و رشد نہ ہو یہ سب ہدایت و رشد کے بغیر عذاب ہے ، یہ بات سید ھی سادی سی ہے کہ جن بچو ں پر اللہ کے کلا م کو اپنے سینے میں محفوظ کر نے پر پھول نچھاور کر نا چاہیے تھے ان پر انگا رے برسا ئے گئے۔ جو وسائل استعما ل کیے گئے وہ خود گو اہی دے رہے ہیں کہ یہ وسائل ان کے لیے نعمت نہیں عذاب وضلالت ہیں کیوں کہ ایک روز سب نے اپنے اعمال کے ساتھ پیش ہوجانا ہے ۔
جن معصوم بچو ں کو دین کی تعلیم حاصل کر نے پر آگ اور تپتے آہن سے بھو ن ڈالا کیا اس اقدام سے یہ مسلما ن بچو ں میں دین کی چاہت اور اللہ سے رشتہ کو اس طر ح توڑ سکیں گے ہر گز نہیں۔ بڑے دکھ کی بات تو یہ ہے کہ عالم اسلام کے حکمر ان تو ایسے انٹا چت ہو ئے ہیں کہ امر یکا کے سوا کوئی طاقت نہیں ہے حالا نکہ مسلمان کا ایمان ہی یہ ہے کہ اصل طا قت رب الجلیل کے سوا کوئی نہیں ہے کسی اسلامی ملک کے سربراہ نے امریکا سے استفسا رنہیں کیا کہ ان بچوں کا کیا قصور تھا کہ ان کو انتہا ئی سفاکی سے بھون ڈالا۔ یہ دوسر ا بڑا واقعہ جو مبینہ ہو لو کا سٹ سے بھی سفا کانہ ہے اس سے قبل پا کستان کے قبائلی علا قہ ڈما ڈولہ میں فجر کے وقت جب ننھے ننھے بچے مدرسے کی مسجد میں اپنے اللہ کی صلو اة کی غر ض سے طہا رت میں مصروف تھے اس وقت کے فوجی آمر پر ویز مشرف نے کتنی ڈھٹائی سے اعتراف کر تے ہو ئے امریکی جرم کو اپنے سر لے لیا تھا کیو ں کہ اس کو اپنے اقتدار کا استحکا م چاہیے تھا۔ وہ اس سے پہلے دائیں بائیں بغل میں پلّے دبا کر کما ل پاشا کو اپنا آئیڈیل قرار دے چکا تھا وہ جہا لت کا شکار تھا کہ کما ل پا شا جو زبردستی کا اتا ترک بن بیٹھا تھا وہ کبھی بھی کسی کا آئیڈیل نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ جن کا آئیڈیل تھا ان کے اشارے پر اس نے امّہ کو خلا فت سے محر وم کیا۔ قوم کی تقدیر محض کھوج لگا نے سے نہیں بدلی جا تی ہیں بلکہ عملی اقدام سے بدلنی پڑ تی ہے برسوں پر انی بات ہے غالباً1999ء کہ سابق وزیر اعظم سنگا پور تشریف لے گئے تھے جہاںوہ سنگا پور کی تر قی سے گہر ے متاثر ہوئے انہو ں نے اس مو قع پر اصرا ر کیا کہ ان کی سنگاپور کے وزیر اعظم لی یو سے ملا قات کر ائی جا ئے چنا نچہ ان کی ملاقات کا بند وبست ہو ا اس موقع پر میا ں نو از شریف نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان بھی سنگا پور ما ڈل بن سکتا ہے تو ان کا جو ا ب تھا کہ قطعی نہیں یہ جو اب اچانک اور میزبانی کے اصولو ں سے ہٹ کر تھامگر صاف دل انسان جھو ٹ سے کام نہیں لے سکتے۔
نو از شریف کا حیر انگی کے ساتھ دو سر اسوال تھا کہ کیوں ایسا نہیں ہو سکتا تو انہوں نے جوا ب دیا کہ وہ مختلف حیثیت میں نو مرتبہ پاکستان جا چکے ہیں جہا ں انہو ں نے پاکستان کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے اس کے علا وہ وہ ہندوستان کی آزادی سے پہلے وکالت کر تے تھے اور ان کے پاس ہند وستان کے باشندے کر اچی سے کلکتہ تک ان کے پا س مقدمے لے کر آتے تھے جب کوئی ہندوایسا مقدمہ لے آتا جس میں کوئی جان نہ ہوتی اس کوبتایا جا تا کہ مقدمہ کمزور ہے اور تم ہار جاو گے تووہ ہندو کہتا تو اچھا کوشش کرکے مخالف سے میر ی صلح کرا دو وہ وہ صلح کرا دیا کرتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں سیا ست دان بااختیا ر نہیں ہیں جہا ں بھی سیاست با اختیار نہ ہو ں وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا کیوں کہ سیا ست دان میںلچک ہو تی ہے ۔ اب نوازشریف اس فارمولے پر کا م کر رہے ہیں کہ مر جاؤںگامگر ۔۔۔افغانستان کا حال بھی ایسا ہی ہے جہا ں ساری طا قت نیٹو کے پا س ہے اور افغانستان کی سول حکومت محض تما شائی ہے قندوز میںجو ہوا وہ مسلما ن ممالک کی ذمہ داری سے زیا دہ بے حس اشرف غنی پر عاید ہو تی ہے۔ اس سے تو حامد کر زئی بہتر رہا کہ اس نے بعض مواقع پر بمبار ی کرنے کی کسی حد تک مخالفت کی چاہے وہ زبانی ہی تھی کی تو ، امریکا کی جانب سے بھی اور خود اشر ف غنی کی جانب سے بھی طالبان کو مذاکر ا ت کی دعو ت دی جا تی ہے مگر دعوت کے لیے جو لچک دار رویہ ہونا چاہیے وہ مفقود ہے اور معاملہ جو ں کا تو ں ہے ۔