یک شہر آرزو

یک شہر آرزو

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور کو ملک کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک شہر کہنے والے محققین اور تاریخ دانوں نے اس شہر کے بہت سارے نام گنوائے ہیں۔ جن میں سے ایک نام پیش آور ہے جو مغلیہ عہد حکومت میں رائج ہوا اور گمان ہے کہ یہی نام پشاور کی وجہ تسمیہ بھی بنا، مگر اس کے برعکس کچھ لوگ پشاور کی وجہ تسمیہ یہاں رواج پانے والے وہ بہت سارے پیشے بتاتے ہیں جن کے حوالے سے آج بھی یہاں کی ہر گلی اور محلے کو یاد کیا جاتا ہے۔ مثلاً ڈھکی نعلبندی کو اس لئے ڈھکی نعلبندی کہا جاتا ہے کہ یہاں پر گھوڑوں کی سموں کو نعل لگانے والے رہتے تھے یا یہاں گھوڑوں کی سموں کو نعل لگانے والوں کی دکانیں تھیں۔ بازار بٹیر بازاں میں تیتر بٹیر اور طوطے مینا بکتے تھے اور ڈبگری بازار میں ڈبہ گر ڈبے بنا کر فروخت کرتے تھے۔ قصہ خوانی بازار قصے کہانیاں سنانے والوں کے لئے مخصوص تھا تو صرافہ بازار میں سونے چاندی کے زیورات کا کاروبار تھا تو مسگراں بازار میں پیتل تانبے یعنی مسی برتن بنتے اور فروخت ہوتے تھے۔ چوک ابریشم گراں میں ریشم کی تجارت ہوتی تھی یا ریشم کی مصنوعات بنتی تھیں تو مچھی ہٹہ میں مچھلی منڈی تھی یا مچھلیوں کی دکانیں تھیں، پھوڑ گراں میں چٹائیاں بنا کر بیچی جاتی تھیں تو محلہ پنکھا سازاں میں دستی پکھیاں اوراس قبیل کے دیگر ہینڈی کرافٹ تیار کئے جاتے تھے چڑوی کوبان میں چیڑ کو کوٹا جاتا تھا۔ یہی عالم موچی لڑہ، بازار بزازاں، تندور سازاں، ڈوما گلی، ساربانان، فیلبانان، و علیٰ ھٰذالقیاس یہاں کی دیگر گلیوں اور بازاروں کا تھا۔ القصہ یہ کہ یہاں کی گلیاں محلے اور بازار مختلف پیشوں کے ناموں سے منسوب کئے گئے اور یوں پشاور کے نام کی ایک وجہ تسمیہ پیشہ ور بھی بتائی جانے لگی۔ پشاور کو ایشیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک شہر کہا جاتا ہے۔ عہد قدیم میں یہ شہر مختلف تہذیبوں کا گہوارہ تھا۔ جس میں سب سے مؤثر تہذیب گندھارا کے نام سے یاد کی جاتی۔ کہتے ہیں مہاتما گوتم بدھ کو جس درخت کے نیچے بیٹھ کر تپسیا کرنے کے بعدگیان حاصل ہوا وہ مقام بڈھ بیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پشاور شہر میں پیپل منڈی کو کسی زمانے میں یہاں کھڑے نہایت قدیم پیپل کے درخت کی وجہ سے پیپل منڈی کہا جاتا تھا۔ پشاور سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے امریکہ میںمقیم ممتاز دانشور، محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر سید امجد حسین کے بقول مہاتما گوتم بدھ کو پیپل منڈی کے اس درخت کے نیچے تپسیا کرنے کا موقع ملا تھا اور ان کو وہیں گیان نصیب ہوا تھا۔ اشوکا اور کنکشا کے عہد حکومت میں پشاور کو گندھارا عہد سلطنت کا مرکزی شہر یا دارالحکومت ہونے کی گواہی کے علاوہ مہاتما گوتم بدھ کی راکھ کا پشاور میں ملنا اور اس کا پشاور کے عجائب گھر میں محفوظ ہونا محققین کے ان دعوئوں پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ اپنی جنم بھومی بنارس سے چل کر پشاور پہنچنے والے مہاتما گوتم بدھ کی تعلیمات کا مرکز برصغیر ایشیا کا عظیم اور قدیم شہر پشاور ہی رہا ہے۔ مشہور کتاب دی پٹھان کے مصنف سر اولف کیرو بتاتے ہیں کہ سفید ہن قبائل کے آئے روز کے حملوں سے عاجز آکر پشاور کے بودھ بھکشوئوں نے افغانستان کے جنوب میں گندھارا آباد کرنا چاہا اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔ لیکن عربی زبان کے حروف تہجی میں 'گ' کا حرف نہ ہونے کی وجہ سے وہ افغانستان کے جنوب میں آباد کئے جانے والے گندھارا کو قندھار کے نام سے یاد کرنے لگے۔ اس بات کا ثبوت ہمیں افغانستان کے جنوب میں ایستادہ گوتم بدھ کے ان دیو ہیکل بتوں نے دیا جن کو طالبان نے ریزہ ریزہ کرکے رسم بت شکنی ادا کردی۔ ہم جس پشاور کو گندھارا تہذیب کا مرکز کہتے ہیں وہ آج کے پشاور سے مختلف تھا۔ آج کا پشاور، پشاور شہر، پشاور صدر، یونیورسٹی ٹاؤن، حیات آباد، نوتھیہ قدیم، نوتھیہ جدید، سکندر پورہ، گل بہار، سکندر ٹاؤن، اوران جیسی بے شمار نو آبادیوں اور کالونیوں کے علاوہ پشاور کے گردو نواح میں قائم مضافات اور دیہاتوں پر مشتمل ہے۔ جن کے حدود اربعہ کا تعین کرتے وقت ہم پطرس بخاری کے لاہور کا جغرافیہ کی تقلید میں کہہ سکتے ہیں کہ آج کے پشاور کے شمال میں بھی پشاور آباد ہے اور اس کے جنوب، مغرب اور مشرق میں بھی پشاور ہی پشاور ہے۔ ہم نے پشاور کو گندھارا تہذیب کا منبع و مبدا کہا ہے۔ اس ضمن میں ہمیں ایک نہایت اہم بات یاد رکھنی ہوگی کہ اس دور کا پشاور نہ سولہ دروازوں پر مشتمل فصیل شہر کے اندر مقید چھوٹا سا شہر تھا اور نہ ہی عہد حاضر میں چہار سو پھیلی آبادیوں، قصبوں، کالونیوں اور مضافات پر مشتمل شہر، ان دنوں پشاور اپنے چہارسو ایستادہ فلک بوس پہاڑوں کے درمیان موجود ایک پرفضا وادی کے اندر پھیلا ہوا تھا اور تاریخ کے اوراق پر ان دنوں کے پشاور کو پشاور وادی یا وادی پشاور کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ہم نے آج کل اور ماضی بعید کے پشاور کا تجزیہ پیش کیاہمارے پیش نظر پشاور کا مستقبل بھی ہے جو نہایت تیز رفتاری سے اپنی تعمیری منزلوں کے حصول کے لئے ترقیاتی مرحلے طے کر نے کی آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔ اللہ کرے وہ دن ضرور آئے جب ایشیا کا قدیم ترین شہر جدید ترین تقاضوں کا مظہر ثابت ہوکر دنیا والوں سے اپنا آپ منوانے لگے۔ لیکن موجودہ صورت حال کے پیش نظر ہم اب بھی ہنر مندوں کے اس شہر کی حالت شکست و ریخت کو دیکھ کر جانے کس کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں کہ
اب میں ہوں اور ماتم شہر آرزو
توڑا جو تونے آئینہ، تمثال دار تھا

اداریہ