Daily Mashriq


افغانستان میں بربریت کا حالیہ واقعہ

افغانستان میں بربریت کا حالیہ واقعہ

گزشتہ دنوں افغانستان کے شہر قندوز میں ایک مدرسے پر گن شپ ہیلی کاپٹروں اور دوسرے جدید اسلحے سے لیس افغان اور امریکی افواج نے حملہ کر کے 100 سے زیادہ حفاظ کرام شہید کر دیئے اور کئی سویلین اور حفاظ کرام زخمی بھی ہوگئے۔ ہر انسان چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور مسلک سے ہو خون کے آنسو رو رہا ہے۔ کوئی آنکھ ایسی نہیں جو اشک بار نہ ہوئی ہو۔ اس مدرسے میں دستاربندی کی تقریب ہو رہی تھی جبکہ ظالم اور سفاک امریکہ اور افغان حکومت کے جنگی ہوائی جہازوں نے مدرسے پر بم گرا کر مدرسے کے معصوم حفاظ کا خون کر دیا۔ افغانستان اور امریکہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس مدرسے میں طالبان لیڈر موجود تھے مگر واقعہ کے چشم دید گواہ کے مطابق وہاں پر کوئی طالب یا کوئی افغان اور امریکہ حکومت دشمن موجود نہیں تھا بلکہ وہاں خالصتاً ایک دینی اور مذہبی اجتماع ہو رہا تھا۔ اس قسم کے بربریت اور سفاکانہ حملے ماضی میں بھی ہوئے۔ اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کر لیں تو امریکہ اور افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت پہلے بھی اس قسم کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی امریکی ایئرپورٹ پر ہتک آمیز تالاشی لی گئی۔ اسی طرح ماضی میں امریکی ایئرپورٹ پر مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمان اور شیخ رشید کیساتھ بھی انتہائی توہین آمیز سلوک کیا گیا تھا۔ اگر مسلمانوں کے حکمران اسی طرح نااہل اور نالائق رہے تو مسلمانوں کیساتھ ایسا ہوتا رہے گا۔ کمزوری، جارحیت اور بربریت کو دعوت دیتی ہے۔ امریکہ اور اتحادی دوسروں کو دہشتگرد اور انتہا پسند کہتے چلے آرہے ہیں جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی خود دہشتگرد اور انتہا پسند ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام پر قبضہ کر کے ان کو کونسا سکھ دیا بلکہ تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان ممالک پر قبضہ کر نے سے وہاں کے مسائل میں حد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ عراق پر یہ الزام لگایا جا رہا تھا کہ وہاں جوہری ہتھیار ہیں مگر وہاں پر نہ ہی جوہری اور نہ ہی کیمیاوی ہتھیار ملا۔ لیبیا میں بھی وہاں کے عوام کو قذافی کیخلاف کیا اور اب شام میں بھی خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ دوبئی کو تو وہاں کے حکمرانوں نے عیاشی کا اڈہ بنا دیا ہے۔ سعودی عرب میں بھی امریکی مفادات کا زیادہ خیال رکھنے والے نئے حکمران بٹھائے گئے اور پاکستان پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کی پُشت پناہی کر رہا ہے۔ دراصل اس قسم کے الزامات کا مقصد مسلمانوں کے نااہل حکمرانوں کی وجہ سے ان کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ اگر ایک طرف عراق اور لیبیا میں تیل اور گیس کے بے تحاشا ذخائر موجود ہیں تو دوسری طرف افغانستان میں تیل، گیس، یورینیم اور لیتھیم کے ذخائر کے علاوہ اس کی اپنی ایک جغرافیائی حیثیت ہے۔

جہاں پر ناجائز قبضہ کر کے وہ ایران، پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستیں اور چین کو قابو کرنا چاہتا ہے اور ابھی لیبیا پر قبضہ کرکے وہاں کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اگر ہم افغانستان، عراق، فلسطین میں امریکہ کے بیٹے اسرائیل کے زیر تسلط مسلمانوں کی حالت پر طائرانہ نظر ڈالیں تو امریکہ نے افغانستان میں 3لاکھ اور عراق میں تقریبا ً 10لاکھ بے گناہ شہری مارے ہیں جن میں چھ لاکھ بے گناہ معصوم بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی دہشتگردی اور انتہا پسندی کی نام نہاد جنگ میں 70ہزار پاکستانی سویلین اور 10ہزار کے قریب قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکار بھی شہید ہوئے اور 120 ارب ڈالر سے زیادہ نُقصان بھی ہوا۔ عراق کے تقریباً 25لاکھ لوگ گزشتہ کئی سالوں سے بے گھر ہیں۔ دہشتگردی اور انتہا پسندی تو امریکہ پوری دنیا میں کر رہا ہے بلکہ یہی امریکہ ہے جس نے کوریا پر سال1950 میں، گو ئٹے کال پر 1954، انڈونیشیا پر 1955، کانگو پر 1964، کیوبا پر 1960، ویت نام پر 1975، لبنان پر1984، عراق پر1991، افغانستان پر 2001 میں بلاجواز حملہ کر کے جارح ہونے کا ثبوت دیا۔ اگر مجموعی جرائم کے لحاظ سے مختلف ممالک کا موازنہ کیا جائے تو اس لحاظ سے امریکہ میں سالانہ 2کروڑ جرائم جبکہ ان کے اتحادی ممالک برطانیہ اور جرمنی میں 70، 70لاکھ، فرانس میں 40لاکھ، کینیڈا میں 35لاکھ جبکہ سعودی عرب میں اسلامی طرز نظام کی وجہ سے 500 جبکہ ترکی میں 300 جرائم ہو تے ہیں۔ اگر عریانی اور فحاشی کی عالمی صنعت کو دیکھا جائے تو امریکہ اس صنعت سے سالانہ 17ارب ڈالر، جاپان 20ارب ڈالر اور برطانیہ 3ارب ڈا لر کما رہا ہے۔ امریکہ اور اتحادیوں کو جمہوریت، خواتین اور انسانی حقوق کی آڑ میں کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے بلکہ ان کو سب سے پہلے اپنے حالات کو ٹھیک کرنا چاہئے۔ اگر غریب ممالک کی بے اتفاقی اسی طرح رہی تو غریبوں کیلئے اس دنیا میں جینا دشوار ہو جائے گا۔ لہٰذا غریب ممالک اور بالخصوص مسلمان ممالک کوچاہئے کہ وہ آپس میں اتحاد اور اتفاق برقرار رکھیں بصورت دیگر امریکہ اور اتحادی اس دنیا کے غریب ممالک کی لیڈر شپ کو چن چن کر ختم کر دیں گے۔ اس کے علاوہ مسلمان قیادت کو چاہئے کہ وہ اپنے ممالک کو سائنس اور ٹیکنالوجی اور دور جدید کے ماڈرن علوم سے آراستہ کریں اور اپنے وسائل کو بروئے کار لاکر مسلمانوں کی پسماندگی اور غربت کو ختم کریں کیونکہ جب تک مسلمان امریکہ اور دیگر غیر ممالک کے زیراثر رہیں گے اس وقت تک مسلمان اپنی مرضی نہیں کر سکتے۔ دراصل دہشتگرد امریکہ ہے مسلمان یا پاکستان نہیں۔

متعلقہ خبریں