Daily Mashriq


بھارت اور اسرائیل کی دہشت گردی

بھارت اور اسرائیل کی دہشت گردی

دنیا میں بیسویں صدی کی دو ریاستیں ایسی ہیں جو اپنی تاریخ کی ابتداء سے لے کر آج تک مظلوم و بے گناہ عوام کے خلاف اس ''گناہ کی پاداش'' میں کہ وہ اپنے بنیادی حقوق (استصواب رائے' حق خود ارادیت اور اپنے وطن میں آزادی کے ساتھ رہنے کے حقوق کے حصول ) کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ظلم و استبداد کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔ جس دن سے بھارت نے آزادی حاصل کی اسی دن سے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں اور پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے خلاف ایک ایسی مہم چلا رکھی ہے جس نے ایک طرف پاکستان کو اپنے قیام کے چوبیس برس کے اندر اندر تین جنگوں سے دو چار کیا اور دوسری طرف کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئے گئے وعدوں کے برعکس آج تک بد ترین غلامی کاشکار بنائے رکھا ہے۔ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ گزشتہ تیس برسوں میں جو ظلم روا رکھا گیا اس کی نظیر دنیا میں صرف اسرائیل ہی میں نظر آتی ہے۔بھارت نہ صرف کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف گزشتہ ستر برس سے سازشوں' فسادات اور کشمیریوں کی نسل کشی پر تلا ہوا ہے بلکہ بھارت کے اندر دیگر اقلیتیں سکھ برادری اور بالخصوص آج کل مسیحی اقلیت ان کے بد ترین ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ ان کے گرجوں کو جلایا جاتا ہے اور کرسمس منانے نہیں دیا جا رہا۔ اس وقت بھارت میں دلت اقلیت کو بدترین امتیازی سلوک سے دو چار کیا جا رہا ہے۔ ان کے کئی لوگ احتجاج کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں اور شدید مظاہرے جاری ہیں۔ بھارت کی تمام قابل ذکر اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی اور اس کی تربیت یافتہ آر ایس ایس( راشٹریہ سیوک سنگھ) کی سخت مذمت کی ہے۔ کانگریس کے راہول گاندھی نے بجا کہا ہے کہ نیچی ذات کے ہندوئوں کو معاشرے میں ذلیل کرکے رکھنا بی جے پی اور آر ایس ایس کے ڈی این اے( DNA) میں شامل ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے اسرائیل کے نیتن یاہو کے ساتھ دوستی کی جو جھپیاں ڈالی ہیں وہ اس بات کی غماز ہیں کہ ''کند ہم جنس باہم جنس پرواز'' آدمی اپنی صحبت سے پہنچانا جاتا ہے۔ ان دونوں افراد کی سرشت میں مذہبی' نسلی اور انسانی تعصبات شامل ہیں۔ لیکن ان دونوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ انسانی خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر بے گناہ انسان کا خون بلا امتیاز مذہب و نسل بہت قیمتی ہے کیونکہ ہر انسان اللہ تعالیٰ کے کنبے کا فرد ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات بالکل واضح نظر آتی ہے کہ ظالم کو اس دنیا ہی میں زندگی گناہوں کی سزا دیتی ہے۔ ہٹلر' سٹالن' مسولینی کی تاریخ ابھی کل کی بات ہے اور شاید مودی بھول چکے ہیں کہ بھارت کے سب سے بڑے لیڈر گاندھی نے کہا تھا کہ '' اگر بھارت نے ترقی کرنی ہے تو یہاں ذات پات کی تقسیم ختم ہو جائے گی'' لیکن وہ تو ختم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کبھی ترقی نہیں کرسکے گا۔ اور اس پرمستزاد کشمیر جیسا بڑا مسئلہ بھی درپیش ہو۔ بھارت اور اسرائیل کو شاید معلوم نہیں کہ اپنی دانست میں وہ مسلمانوں کو اپنے ملک وپڑوسی سے ختم کر کے من موجیاں کرنے کی مہم چلانے میں مشغول ہیں اور اس وقت کشمیر اور فلسطین میں آگ لگائے ہوئے ہیں لیکن یہ آگ بہت جلد ان کے دامنوں کو لپیٹ میں لینے والی ہے۔ کشمیریوں اور فلسطینیوں کے پاس باقی کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کی غلامی برداشت کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی سبیل کریں۔ وہ تو سب ہرچہ بادا باد کی حالت سے گزر رہے ہیں۔ مسلمان ممالک کے لئے بھی یہ حالات لمحات فکریہ و المیہ ہیں۔ مصر اور سعودی عرب اپنی جانوں کی خیر مانگنے کے پیچھے لگے ہیں۔ اسرائیل کے حوالے سے خلیجی ممالک کے سر پنچ ملک کے حکمران نئے نئے فلسفے سامنے لا رہے ہیں۔ بھارت پر جب بھی کشمیر کے نوجوانوں کی شہادت کی ضرب پڑتی ہے تو ان کے سفارت کار ''جامع مذاکرات'' کی رٹ لگا کر وقت حاصل کرکے ان نازک حالات کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی مذاکراتی ٹیم ہروقت تیار رہتی ہے بس وہاں سرحد پار سے تھوڑا اشارہ ہو جائے۔ہماری کشمیر پالیسی میں کبھی بھی استقلال نہیں رہا بلکہ حالات اور ضروریات کے مطابق اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر میں آگ لگی ہوئی ہے اور ہماری کشمیر کمیٹی آرام کی نیند سو رہی ہے۔ یہی حال بیرونی ملکوں میں ہمارے سفارت کاروں کا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے لہٰذاآج برہان وانی کی شہادت نے کشمیری نوجوانوں میں جو تحریک پیدا کی ہے اس کو دبانے کے لئے بھارت بے قابو ہوگیا ہے اور کشمیر اسمبلی کے بھارت نواز ارکان بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ''مودی سرکار پاگل ہوگئی ہے'' ۔ آئیں' ہم پاکستانی سب مل کر مقبوضہ کشمیر میں برپا ظلم و ستم کے خلاف دنیا بھر میں کہرا م مچا دیں اور اس درندگی کو روکنے کے لئے دامے درمے سخنے ہر اقدام اٹھا لیں۔ اللہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حفاظت کرے۔ آمین

متعلقہ خبریں