حکومت کاری،ایک بڑا چیلنج

حکومت کاری،ایک بڑا چیلنج

نواز شریف(1990 تا 93 اور 1997تا 99)اور بینظیر( 1988 تا 90 اور1993تا 96)دونوں 1988 سے 1999 کے درمیان تک غیر مسلسل طور پر دو دو دفعہ ا س عہدے پر رہے۔آئین پاکستان میں کی گئی13 ویں اور14 ویں ترمیم کے باعث نواز شریف تاریخ میں پہلی دفعہ سب سے طاقتور پاکستانی وزیر اعظم بنے۔ اس عرصے کے دوران پانچ سال اور چار ماہ اس عہدے پر رہ کر نواز شریف سب سے زیادہ عرصہ اس عہدے پر رہنے والی شخصیت ہیں۔2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کامیاب ہوئی تو ایک بار پھر وزارت عظمیٰ نواز شریف کو ملی لیکن 2017 میں ان کو عدالت عظمیٰ نے پانامہ کیس میں وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیا جس کے بعد مسلم لیگ ن ہی کے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔پیپلز پارٹی کے چار ادوار حکومت ہوں یا مسلم لیگ ن کے تین دور،کسی بھی عہد حکومت میںپاکستان کے غریب عوام کی حالت نہ بدلی البتہ بھٹو خاندان، آصف زرداری اور شریف خاندان کے اثاثوں میں ہوشربا اضافہ ضرور ہوا۔ان ادوار حکومت میں امیر امیر تر ہوا اور غریب غریب تر۔قومی اثاثوں پر نظر ڈالیں تو ان کی حالت قابل رحم ہو گئی۔پیپلز پارٹی نے اگر پاکستان سٹیل ملز اور قومی ایئر لائن پی آئی اے کو تباہ کیا تو مسلم لیگ ن نے بھی اس تباہی کو بڑھاوا دیااور آج یہ دو ادارے پاکستانی معیشت پر بوجھ ہیں۔نواز شریف کے ادوار حکومت میں سڑکوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی جبکہ پیپلز پارٹی کے ادوار میں کوئی بڑا کام تو نہ ہوا البتہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خوب اضافہ ہوا اور غریب عوام کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے بینظیر انکم سپورت پروگرام جاری کیا گیا جو قوم کو بھکاری بنانے کے مترادف تھا۔مسلم لیگ ن نے بھی غریبوں کی عزت نفس بحال کرنے کی بجائے اس بھکاری پن کو جاری رکھا۔موٹر وے کی تعمیر،ایٹمی دھماکے اور سی پیک مسلم لیگ ن کا کریڈٹ ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کا دامن بڑے فیصلوں سے خالی ہے لیکن دونوں ادوار ہی کشکول گدائی کے رہین منت ہیں اور یوں کہ ان دو گھرانوں کے ادوار میں پاکستان خطرناک حد تک بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا اور آج پاکستان کا ہر بچہ بوڑھا اور جوان سوا لاکھ روپے کا مقروض ہے۔یہ وہ قرض ہے جو پاکستان کے غریب عوام کے نام پر شاہانہ انداز میں لیا گیا اور ان کروڑوں غریب عوام پر فی کس سوالاکھ کے حساب سے لاد دیا گیا جنہوں نے شاید خواب میں بھی سوا لاکھ روپیہ نہ دیکھا ہو۔پڑھے لکھے نوجوان قوموں کا اثاثہ ہوتے ہیں ۔ہم نے وہ وقت بھی دیکھا کہ جب پڑھا لکھا پاکستان ایک خواب تھا اور وہ وقت بھی کہ اس ملک کے نوجوان ایم اے اور ایم ایس سی کی ڈگریاں ہاتھوں میں لئے جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔نواز شریف نے ان بے روزگاروں کے لئے پیلی ٹیکسیاں درآمد کیں اور ان گریجویٹس کو ڈرائیور بنا دیا۔پھر یہ منظر نامہ بنا کہ ان پڑھ بھی ٹیکسی چلا رہا ہے ،واجبی تعلیم والا بھی اور گریجویٹ بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہے۔نئی نوکریوں کی گنجائش پیدا کرنے ،عوام کو سستا انصاف فراہم کرنے اورانہیں علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں یہ حکومتیں مکمل طور پر ناکام ہوئیںتاہم آصف زرداری امریکہ اور دبئی جبکہ شریف برادران لندن کے ہسپتالوں سے فیض یاب ہوتے رہے۔ان حکومتوں کی ناکامی سے فائدہ اٹھا کر مارشل لا ء لگانے والے ڈکٹیٹرز مسیحا کے بہروپ میں سامنے آئے تو لوگوں نے یہ سوچ کر سکھ کا سانس لیا کہ اب ان کے دن پھریں گے لیکن درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق آمروں نے اپنا الو سیدھا کیا،حکمرانی کا شوق پورا کیا اور ملک کو لاینحل مسائل میں مبتلا کر کے چلتے بنے۔ضیاء الحق نے جہاد کے نام پر ملک کو امریکی کالونی بنایا اور مشرف نے اسی امریکہ کی جنگ کو اپنے ہی ملک کے گلی کوچوں میں پھیلا کر ہزاروں پاکستانیوں کی موت کا سامان کیا۔اس منظر نامے میں جب تحریک انصاف ایک پاپولر عوامی سیاسی جماعت بنی تو قوم کی ایک قابل لحاظ تعداد کو یہ امید ہوئی کہ شاید یہ جماعت عشروں پر محیط سٹیٹس کو توڑ دے اور لڑکھڑاتا پاکستان سنبھل جائے۔دو ہزار تیرہ میں اس جماعت کو پختونخوا میں جو حکومت ملی وہ اسی خواہش کی آئینہ دار معلوم ہوتی ہے کہ لوگ باریاں لینے والوں سے تنگ ہیں۔عام خیال تھا کہ جب یہ حکومت اپنے آخری سال میں داخل ہوگی تو عوام کسی دوسری سیاسی جماعت کی حمایت میں پر تول رہے ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔پختونخوا کے لوگ ویسے تو ہر الیکشن میں ایک نئی جماعت کو موقع دینے کے حوالے سے مشہور ہیں لیکن تحریک انصاف کے لئے ان کی حمایت بڑھی ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کے عوام نے تبدیلی کو محسوس کیا ہے۔
تحریک انصاف کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس نے پیپلز پارٹی کو بہت پیچھے دھکیل کر دوسری بڑی سیاسی جماعت کی پوزیشن حاصل کی اور یہ بھی پیش نظر رہے کہ اگر تحریک انصاف حکومت بنا بھی لے تو اسے اسٹیبلشمنٹ کی ہدایات پر چلنا ہوگا۔اگر اس نے پر پرزے نکالنے کی کوشش کی تو اسے بھی انہی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو نواز لیگ کو درپیش ہیں۔اگر نواز لیگ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھی تو وہ تحریک انصاف کے لئے وہی فضا پیدا کرے گی جو تحریک انصاف نے اس کے لئے مسلسل پانچ سال پیدا کی۔یہ بات طے ہو چکی کہ حکومت جس کی بھی بنی کانٹوں کا تاج ہوگی پھولوں کی سیج نہیں۔

اداریہ