مشرقیات

مشرقیات

ایک دن امام مالک کی حضرت ابن شہاب الزہری سے ملاقات ہوئی ۔ امام مالک کے استاد حضرت ربیعہ رائی بھی ساتھ تھے ۔ حضرت ابن شہاب الزہری نے چالیس سے زائد احادیث بیان کیں ۔ امام مالک کا کہنا ہے کہ دوسرے دن ہم امام الزہری کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا : کتاب میں دیکھو ، تاکہ میں حدیثیں بیان کروں، کل میں نے جو کچھ بیان کیا تھا ، کیا تم نے دیکھ لیا ؟ حضرت ربعیہ نے کہا : یہاں ایک شخص موجود ہے ، جو تمام احادیث آپ کو سنا دے گا ، جو آپ نے کل بیان کی تھیں ۔ امام الزہری نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ حضرت ربیعہ نے بتایا : ابن ابی عامر یعنی امام مالک ۔ امام الزہری نے فرمایا : ''سنائو''۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں چالیس احادیث سنادیں ۔ امام الزہری نے تعجب سے کہا ، میں سمجھتا تھا کہ یہ احادیث میرے سوا کسی دوسرے کو یا د نہیں ہیں ۔ اس کے بعد امام مالک ،ابن شہاب الزہری سے بھی علم حاصل کرنے لگے ۔ اما م الزہری نے اپنے ہونہار شاگرد امام مالک کا نام ''علم کا محافظ '' رکھ دیا تھا ۔ سال ہا سال تک اپنے سینے کو علم دین سے منور کرنے کے بعد اب وہ وقت آگیا تھا کہ امام مالک خود مسجد نبوی ۖ میں مسند د رس پر فائز ہوں اور مسائل کے سلسلے میں فتوے دیں ، لیکن امام مالک نے خود آگے بڑھ کریہ بار گراں نہیں اٹھایا ۔ آپ فرماتے ہیں : ''میں خود نہیں بیٹھا ، یہاں تک کہ اہل علم میں سے ستر علمائے کرام نے شہادت دی کہ میں اس منصب کا اہل ہوں ''۔ رسول اقدس ۖ کی مسجد میں امام مالک نے پچاس سال سے زائد عرصہ تک درس دیا ۔ درس کی مجلس نہایت پروقار ہوتی تھی ۔ آپ کے شاگرد کہتے ہیں امام مالک ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ گویا ہم ہی میںسے ہیں ، کھل کر باتیں کرتے تھے ، لیکن جب درس دینے بیٹھتے تو ان کے کلام سے ہم پر ہیبت طاری ہوجاتی ، گویا وہ ہمیں پہچانتے ہی ہیں نہیں ، نہ ہم انہیں جانتے ہیں ۔ مجلس کے وسط میں شہ نشین تھی ، جس پر امام مالک صرف ا س وقت تشریف رکھتے ، جب حدیث کاا ملا کروانا ہوتا ، مجلس میں شرکت کرنے والوں کے لئے جگہ جگہ پنکھے رکھے ہوتے تھے ۔ حدیث کا درس ہوتا تو عوداور لوبان چلایا جاتا ، صفائی او رنفاست کا یہ حال تھا کہ فرش پر ایک تنکا بھی نظر نہ آتا تھا ۔
امام مالک فتویٰ دینے میں بہت احتیاط کرتے تھے ۔ طویل باتوں سے ہمیشہ گریز کرتے ۔ فرضی مسائل پر فتویٰ نہ دیتے تھے اور اسے فتنہ قرار دیتے تھے ۔ اپنا جواب ماشاء اللہ لا قوة الا باللہ سے شروع کرتے اور اکثر اپنے فتوے کے آخر میں کہتے یہ صرف ہمارا خیال ہے ، ہمیں اس پر پکا یقین نہیں ہے ۔
اخلاص نیت کا یہ عالم تھا کہ ان مسائل پر فتویٰ نہیں دیتے تھے ، جو قاضیوں (ججوں )کا حق تھے ۔ فتویٰ دینے میں بہت غور سے کام لیتے تھے اور خود آپ کا کہنا ہے کہ اکثر مجھے ایسے مسائل پیش آجاتے ہیں کہ میں ایک سال کی راتیں ان پر سوچنے میں گزار دیتا ہوں ۔

اداریہ