Daily Mashriq


’سی پیک کے دوسرے مرحلے سے صنعتی ترقی تعاون کو فروغ ملے گا’

’سی پیک کے دوسرے مرحلے سے صنعتی ترقی تعاون کو فروغ ملے گا’

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے لیے اسٹیج اب صنعتی تعاون کے لیے مقرر کیا گیا ہے، جس سے نجی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور ملک کی برآمدات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے تحت سی پیک بزنس کونسل کے پہلے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اب سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ہیں جہاں صنعت کاری اور زرعی ترقی موجودہ حکومت کا اہم اہداف ہوں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیس) گزشتہ کچھ دہائیوں سے دنیا بھر کی کئی ترقی پذیر ریاستوں کے لیے ترقی کا انجن رہا ہے اور یہ پاکستان کے لیے بہتر وقت ہے کہ وہ اپنے خصوصی اقتصادی زون کو ترقیاتی مرکز میں تبدیل کرے۔

عبدالرزاق داؤد نے اس امید کا اظہار کیا کہ خصوصی اقتصادی زونز مختلف ذرائع سے سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کریں گے کیونکہ یہ ٹیکس اور ٹیرف کی مراعات، کسٹم طریقے کو درست اور کم پابندیوں کی پیش کش کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیار مال کی پیداوار اولین ترجیح ہے اور اس سے پاکستان کو تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اس موقع پر مشیر تجارت کے ساتھ سی پیک بزنس کونسل کی مشترکہ صدارت کرنے والے وزیر برائے ترقی، منصوبہ بندی اور اصلاحات خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ اس فورم کے قیام کے پیچھے کا مقصد حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان ایک رابطہ قائم کرنا اور پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون کو باہمی مفاد کے لیے نئی بلندیوں پر پہنچانا ہے۔

خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ ’اس صنعتی تعاون کے ذریعے ہم تجارتی عدم توازن کو دور کرنے، زرعی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی وسیع کرنے اور دونون ممالک کے درمیان کاروبار سے کاروبار تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں‘۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کا دائرہ کار صنعتی اور زرعی تعاون، سماجی-اقتصادی ترقی، تجارت اور مارکیٹ تک رسائی تک بڑھانے پر توجہ دی گئی اور اب نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ سی پیک بزنس کونسل کا قیام بڑے منصوبوں کی چھت کے نیچے صنعت کاری کی رفتار کو تیز کرے گا۔

قبل ازیں سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف نے کونسل کے پہلے اجلاس میں تمام اراکین کا استقبال کیا اور کہا کہ بی او آئی سی پیک بزنس کونسل کے لیے بطور سیکریٹریٹ خدمات انجام دے گا اور اس سلسلے میں پیشہ وارانہ افراد کی ٹیم کو رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ چین کے ساتھ صنعتی تعاون کے معاملات کو طے کرنے کی اپنی صلاحیت کو بہتر کر رہا ہے اور اراکین سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں ٹھوس تجاویز پیش کریں۔

متعلقہ خبریں