Daily Mashriq


مہنگائی کی روک تھام کیلئے فوری قلیل المدتی اقدامات کی ضرورت

مہنگائی کی روک تھام کیلئے فوری قلیل المدتی اقدامات کی ضرورت

مہنگائی ایک ایسا طاقتور اور بے رحم جن ہے جو ایک مرتبہ سیڑھی کے جتنے دانت پھلانگ کر اوپر چلی جائے اسے واپس لانا تقریباً ناممکن امر ہوتا ہے۔ مہنگائی کی کئی وجوہات اور عوامل ہوتے ہیں‘ وطن عزیز میں اس کے بڑے عوامل میں جہاں گیس‘ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے وہاں بجٹ اور رمضان المبارک کو بھی تاجر حضرات اشیائے صرف کو مہنگا کرنے کا نادر موقع سمجھتے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور ایندھن کی مہنگائی کے دو اسباب ہیں، ایک عالمی مارکیٹ میں اُتار چڑھاؤ‘ عالمی کساد بازاری اور حالات کے باعث ہونے والی مہنگائی ہے۔ اس قسم کی مہنگائی حقیقی مہنگائی ہوتی ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے لیکن وطن عزیز میں حقیقی مہنگائی کیساتھ ساتھ جو مصنوعی مہنگائی کی جاتی ہے اس میں بددیانتی‘ ہوس زر‘ ناجائز منافع خوری جیسے عوامل کیساتھ ساتھ سیاسی عوامل کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کی حکومت آنے پر لوگ بینکوں اور کاروبار سے رقم نکال کر سونے اور جائیدادوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، جس سے روپے کی گردش کم ہوتی ہے، افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد رقم کونوں کھدروں سے نکل کر اچانک مارکیٹ میں آتی ہے اور معیشت مستحکم ہونے لگتی ہے۔ روپے کی قدر میں ٹھہراؤ آتا ہے جسے اگرچہ معیشت کو مصنوعی آکسیجن دینے سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن بہرحال عام آدمی چونکہ زیادہ متاثر نہیں ہوتا اس لئے قدرے بہتری محسوس ہوتی ہے چونکہ ہر دو قسم کی حکومتوں کی موجودہ حکومت کے قائدین ومقتدرین سخت ناقد واقع ہوئے ہیں اور عوام کو یقین دلانے میں کامیابی کے بعد برسراقتدار آئے ہیں کہ وہ زمام اقتدار سنبھالتے ہی معیشت کا پہیہ درست کریں گے، عوام کو ریلیف ملے گا اور ملک پر نہ صرف مزید قرضوں کا بوجھ نہیں لادا جائے گا بلکہ ملک کو قرضوں سے نجات دلائی جائے گی۔ لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ کا مدت اقتدار برعکس ثابت ہوا۔ عوام دوست پالیسیاں بنانے کا حکومتی عزم اور خلوص نیت سے انکار ممکن نہیں لیکن عملی طور پر جب تک اس کے نتائج واثرات سامنے نہ آئیں اس وقت تک کی صورتحال کے تناظر میں ان کو ناکامیوں سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔ اس کی وجوہات جو بھی ہوں اور حالات کی ستم ظریفیاں جیسے بھی ہوں، معاشی حقائق خواہ کتنے بھی تلخ اور لاینحل ہوں عوام بہرصورت ریلیف نہ سہی مہنگائی میں اضافہ برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ لیکن مہنگائی میں اضافہ دراضافہ ہی ہو رہا ہے۔ عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس حکومت کی معاشی پالیسیاں کیسی تھیں، کیسی رہی ہیں اور کیسی ہیں، عوام کا پیمانہ اور کسوٹی مہنگائی کی شرح ہے۔ اس کسوٹی پر پرکھا جائے تو موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مہنگائی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ شرح 9.4 تک جا پہنچی ہے جبکہ گزشتہ حکومت میں یہ صرف چار فیصد تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر پاکستانی کیلئے مہنگائی کی شرح میں ایک سال کے دوران دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تیس فیصد کمی کرکے برآمدات میں اضافہ کی جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ عملی طور پر سامنے نہ آسکیں۔ علاوہ ازیں لوٹی ہوئی دولت واپس لانے اور بھاری بیرونی سرمایہ کاری ہونے جیسے دعوے تو ہوا ہی میں رہ گئے، مستزاد حکومت کو اُلٹا ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرنا پڑا جس کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع نہیں۔ حکومت کی اس سعی سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت بنیادی معاشی بگاڑ کی درستگی کیلئے کوشاں ہے لیکن اس کی رفتار اتنی سست اور نتائج اتنے غیریقینی ہیں کہ اس سے کسی بڑی تبدیلی کی توقع وابستہ نہیں کی جا سکتی۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں جو مشکل راستہ اختیار کیا ہے اس کی بنا پر محض آٹھ مہینوں کے دوران مہنگائی کی شرح میں دگنے اضافے کی صورت میں جو اُفتاد آپڑی ہے وہ عوام کی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کے باعث برآمدات میں اضافے کی بجائے عوام پر مہنگائی کا بوجھ دوگنا ہو چکا ہے۔ اس ساری صورتحال میں قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کی جانب سے صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد آئندہ تین سے 6ماہ کیلئے اہم اشیائے خورد ونوش کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے پیش بندی کا مضبوط نظام بنانے کے عملی اقدامات کی بجائے محض فیصلہ ہی سامنے آیا ہے جس پر عملدرآمد اورکامیابی سراب سے کم ثابت ہونا مشکل نظر آتا ہے۔جس کے اجلاس میں متعلقہ وزارتیں اشیا کی ترسیل اور قیمتوں میں استحکام کیلئے وزیراعظم کو اہم اقدامات کیساتھ ساتھ قلیل اور درمیانے درجے کی پالیسیوں کی تجاویز پیش کریں گی۔ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ قوانین پر نظرثانی کی جائے گی تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا نظام یقینی بناتے ہوئے ناجائز منافع خوری، گروہ بندی اور اجارہ داری کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اجلاس میں ماہ رمضان کے دوران اشیا کی دستیابی پر بھی گفتگو کی گئی۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت کے رمضان پیکج پر عمل کیا جائے گا تاکہ سستی قیمت پر اشیا کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ حکومت جب تک اجلاسوں اور فیصلوں میں مصروف رہے گی مہنگائی کی شرح کی آسمان کو چھونے کا خطرہ ہے۔ بہتر ہوگا کہ فوری طور پر کم ازکم ناجائز منافع خوری کی روک تھام کیلئے سرکاری ٹیمیں حرکت میں آئیں اور روزانہ کی بنیادوں پر ٹیمیں منڈی اور مارکیٹوں میں جاکر من مرضی کے ریٹ وصول کرنے والوں کی روک تھام کریں۔ صورتحال کو تشویشناک ہونے سے روکنے کیلئے قلیل المدتی اقدامات نہ کئے گئے تو مشکلات میں گھرے عوام کیلئے جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنا بھی خدانخواستہ ناممکن ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں