Daily Mashriq

اسلامی نظریاتی کونسل کی نیب بارے سفارشات

اسلامی نظریاتی کونسل کی نیب بارے سفارشات

اسلامی نظریاتی کونسل نیب کے قوانین کا جائزہ لے کر سفارشات ہی مرتب کر سکتی ہے جس پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ بہرحال اسلامی نظریاتی کونسل کا نیب قوانین کاجائزہ لے کر سفارشات کی مرتبی اہم معاملہ اس لئے ہے کہ نیب کے طرز تفتیش اور خاص طور پر ملزمان سے سلوک اور ان کو عدالت میں پیش کرنے کے طریقہ کار کے باعث جہاں نیب کی تحویل میں ملزمان جان سے گئے وہاں ایک ریٹائر بریگیڈیئر خودکشی جیسے انتہائی اقدام پر مجبور ہوئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے اعلامیہ کے مطابق نیب کی طرف سے ملزموں کو ہتھکڑیاں پہنانا پاکستانی قانون اور اسلامی شریعت کی خلاف ورزی ہے، علاوہ ازیں جرم ثابت ہونے سے پہلے ملزم کی میڈیا میں ہتک کرانا تکریم انسانیت کی اسلامی اقدار کے منافی اقدام ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نیب اس قسم کے اقدامات سے باز رہے۔نیب کو عدالت گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کا بھی کہہ چکی ہے لیکن اس طریقۂ کار کی بھی خلاف ورزی عمل میں آئی ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ نیب سے قومی احتساب کے ادارے کے طور پر عوام کی جو توقعات وابستہ ہیں اس کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ احتساب کے عمل میں سختی اور شفافیت کیساتھ ساتھ نیب کو ملزمان کے عزت نفس اور خاص طور پر محض الزام لگنے پر ملزمان کی میڈیا کے سامنے پابجولاں پریڈ کسی طور مناسب نہیں۔ نیب جس پر ہاتھ ڈال دیتی ہے ضروری نہیں کہ اس پر کیس ثابت بھی کرسکے۔ ملزم کے قصوروار ہوکر سزا پانے اور باعزت بری ہونے کے دونوں امکانات قریب قریب ہوتے ہیں لیکن نیب جس کسی کو بھی گرفتار کرتی ہے میڈیا کو خبر جاری کرکے اور میڈیا کو کوریج کا موقع دے کر ملزمان سے جس سلوک کی مرتکب ہوتی ہے اس کا ازالہ بے گناہ ثابت ہونے پر کسی طور ممکن نہیں ہوتا۔ نیب کا کسی کو نوٹس کا اجراء ہی کوٹھوں چڑھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ملزم اور اس کے اہل خاندان دوست واحباب جس کرب اور خجالت سے دوچار ہوتے ہیں اس کی دین‘ قانون‘ آئین اور اخلاقیات میں کوئی گنجائش نہیں۔ نیب کو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات یا پھر اپنے حوالے سے قانون سازی یا عدالت کے ذریعے ممانعت جیسے اقدامات کی نوبت نہیں آنے دینا چاہئے بلکہ نیب خود ایسا طرزعمل اختیار کرے جو آئین، قانون اور اخلاقیات کے عین مطابق اور پاسدار ہوں۔

لکی مروت کی ایتھوپیا سے تمثیل

سینیٹ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے اراکین نے لکی مروت کے خصوصی دورے کے موقع پر چیئرمین سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ جنوبی اضلاع بشمول لکی مروت پسماندہ ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں، 70سال میں یہاں پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا، کرم تنگی ڈیم یہاں کے عوام کی ضرورت ہے جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ سے یہ علاقے شدید متاثر ہیں، تیل اور گیس پیدا کرنے والے یہ علاقے خود ان نعمتوں سے محروم ہیں، ملک میں71فیصد علاقے پسماندہ ہیں، صرف 29فیصد علاقوں کے لوگ ترقی کے ثمرات سے مستفید ہورہے ہیں، لکی مروت کی مثال ایتھوپیا جیسی ہے وہاں بھی لوگوں کو پانی اور خوراک میسر نہیں اور یہاں بھی عوام پانی اور خوراک کیلئے ترس رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ حکومتوں کو مجبور کریں کہ 70فیصد بجٹ ان علاقوں کو دیا جائے جو معدنی دولت اور قدرتی ذخائر سے مالامال ہونے کے باوجود پسماندہ ہیں۔ کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے حوالے سے کمیٹی کے چیئرمین نے لکی مروت کو ایتھوپیا کا مماثل قرار دے کر ان سارے حکمرانوں کو آئینہ دکھایا ہے جو خیبر پختونخوا پر حکمرانی کر چکے ہیں یا جو اس وقت حکمران ہیں۔ ان کے الفاظ پر کسی طور بھی مزید تشریح اور تبصرے کی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ حکمرانوں کو اس آئینے میں اپنی صورت دیکھنے اور عوام کے مسائل کے حل میں سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا جائے۔ حکمرانوں کو اگر عوام کے مسائل کا ادراک واحساس ہو اور وہ خلوص سے علاقائی اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر وسائل کا استعمال بروئے کار لانے کی زحمت کریں تو لوگوں کی حالت زار کا کم ازکم یہ عالم تو نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں