Daily Mashriq


بجٹ‘ کیا حکومت کے پاس معاشی ویژن نہیں؟

بجٹ‘ کیا حکومت کے پاس معاشی ویژن نہیں؟

پی ٹی آئی کی حکومت اپنے پہلے سالانہ وفاقی بجٹ کی تیاری کے مرحلے میں داخل ہونے والی ہے، توقع ہے کہ مئی کے تیسرے ہفتے میں حکومت اپنا باقاعدہ پہلا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی، یہی بجٹ اس کے معاشی ویژن کا آئینہ دار بھی ہوگا لیکن بجٹ کیلئے جو سازگار متوازن معاشی ماحول ضروری ہے حکومت اس سے کلی طور پر محروم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ملکی زرمبادلہ میں کمی، ملکی اور غیر ملکی بھاری قرضے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا اس وقت ڈیفالٹ کا شدید خطرہ تھا، دوست ممالک سے ملنے والی رقم سے مشکل وقت تو ٹل گیا ہے لیکن خطرات اور بحرانی کیفیت ختم نہیں ہوئی۔ یہ صورتحال ملک میں سرمایہ کاری کیلئے ناموافق ہے۔ حکومت نے ضمنی بجٹ دے کر صنعتکاروں کو مراعات دیں لیکن اس کے باوجود ملکی صنعت بحال نہیں ہوسکی، بجلی اور گیس کا بحران رہا تو ضمنی بجٹ میں دی جانے والی مراعات کا بھی حکومت اور سرمایہ کاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ وقت تھا کہ حکومت اپنا معاشی ویژن دیتی، اس کے مطابق اقدامات اٹھاتی اور فیصلے کرتی، لیکن حکومت نے صرف یہی رٹ لگائے رکھی کہ کرپشن کی وجہ سے ملک بحران میں گھرا ہوا ہے اور کرپٹ سیاستدان اس کے ذمہ دار ہیں، آج بھی حکومت کا یہی مؤقف ہے جبکہ اسے مسائل کے ادراک کیلئے دیوار کی دوسری جانب بھی دیکھنا چاہئے، حقیقی مسائل یہ ہیں کہ ملک میں ٹیکس کلچر نہیں ہے، قانون میں بہت زیادہ سقم ہے، عدالتیں حکم امتناعی دے دیتی ہیں جس کی وجہ سے ٹیکس اکٹھا کرنے میں دشواری رہتی ہے، ملک میں کل ٹیکس چار ہزار ارب اکٹھا ہوتا ہے جس میں سے سو دو سو ارب غیرملکی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے، خطہ کی صورتحال کے باعث دفاع کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اس پر کم وبیش سترہ سو ارب کی خطیر رقم درکار ہوتی ہے، این ایف سی ایوارڈ میں پچیس سو ارب صوبوں کے پاس چلے جاتے ہیں، وفاقی حکومت دفاع، داخلہ اور خارجہ امور کیساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں اور سروسز کے عوض ادائیگیوں کی پابند ہوتی ہے ہماری درآمدات زیادہ اور برآمدات بہت ہی کم ہیں لہٰذا یہ تمام لازمی اخراجات ہر قیمت پر وفاق کو پورا کرنا پڑتے ہیں۔

آزاد ماہرین معیشت کی رائے ہے کہ یہ مسائل تو ہر حکومت کو درپیش رہے ہیں، تحریک انصاف کی حکومت سے اس کے دعویٰ کے باعث توقعات بھی بہت زیادہ تھیں لیکن یہ حکومت اپنا کوئی معاشی ویژن نہیں دے سکی، جس کی وجہ سے مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں اور حکومت ابھی تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکی جو اس نظام کی درستی کیلئے شمار کیا جائے اور اب اسے اگلے سال کیلئے وفاقی بجٹ دینا ہے بجٹ سے پہلے حکومت آئی ایم ایف کے پاس جارہی ہے اور تین سال کیلئے اس کیساتھ معاہدہ کرنا چاہتی ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں امکان ہے کہ آئی ایم ایف سے بارہ ارب ڈالر مل جائیں، اس رقم کی واپسی کیلئے حکومت بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں وقت کیساتھ ساتھ اضافہ کرتی چلی جائے گی، یوں مہنگائی کا ایک طوفان ہے جو ہمارا پیچھا کرتا رہے گا حکومت آئی ایم ایف کیساتھ جو معاہدہ کر رہی ہے اگر حالات سازگار رہے تو اس کے اچھے اثرات اگلے سات آٹھ سال بعد ملیں گے لیکن اس خطہ اور ہمارے ہمسایہ ممالک کے سیاسی حالات ہمیں براہ راست متاثر کرتے رہیں گے جس سے یہ معاہدہ بھی معاشی بہتری کے اعتبار سے بے اثر ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت اس صورتحال سے باہر نکلنے کیلئے ملک میں تعمیرات کے شعبے میں پیش رفت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس صنعت سے وابستہ دیگر چالیس صنعتوں کا پہیہ چل سکے لیکن ملک میں توانائی کے بحران کے باعث کچھ اچھی امید نظر نہیں آرہی۔ توانائی کا بحران اپنی جگہ لیکن ملک میں بجلی اور گیس کی چوری اور اس کے علاوہ ٹیکس بچانے اور چوری کرنے کا رواج ملکی معیشت کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے۔ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں آٹھ ہزار ارب ٹیکس جمع کرکے دکھاؤں گا لیکن اس وقت حکومت کو تاریخ کے بدترین ٹیکس شارٹ فال کا سامنا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ حکومت فیصلے کر رہی ہے اور نہ بہتر حکمت عملی دکھا رہی ہے۔ حکومت کی کمزور گرفت کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھی ہے اور مستقبل قریب میں یہ مزید بھی بڑھ سکتی ہے، یہ ایک خطرناک صورتحال ہے جو حکومت کی بے بسی ظاہر کررہی ہے۔ ابھی تو حکومت کو دو بڑے بحرانوں سے نمٹنا ہے، حکومت کا پہلا امتحان تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معاشی صورتحال ہے۔ پاکستان جیسے کمزور معیشت رکھنے والے ممالک کیلئے یہ بہت خوفناک صورتحال خیال کی جارہی ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں رد وبدل، امریکہ چین تجارتی جنگ اور عالمی بینکوں کی جانب سے سرمایہ کاری میں کمی کے رجحان نے عالمی منڈی میں کساد بازاری کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے جس سے ترقی اور سرمایہ کاری کا عمل ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ روزگار میں کمی ہوئی ہے اور بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ وزارت خزانہ میں بھی اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سوچ بچار کیا جارہا ہے یہ وہ پس منظر ہے جس میں حکومت بجٹ تیار کر رہی ہے، آج کے معاشی حقائق یہ ہیں کہ دوست ممالک سے غیرمعمولی قرضے بھی حاصل کرنے کے باوجود ہمارے مقامی مسائل حل نہیں ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان، کب تک اسد عمر پر اعتماد کرتے رہیں گے اس کا جواب تو وزیراعظم ہی دے سکتے ہیں، تاہم فیصلہ کرنے والوں نے ایک فیصلہ کر لیا ہے کہ جو بھی خرابیوں کا ذمہ دار ہے اسے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی اہم شخصیات سمیت متعدد اہم سیاستدان مستقبل قریب میں گرفتار ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

متعلقہ خبریں