Daily Mashriq


کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا

کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا

آج ہم کھیل برائے امن وترقی پر بات کریں گے کہ آج اپریل کے مہینے کی6تاریخ ہے اور 23اگست 2013 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلان کے مطابق ہر سال 6اپریل کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں کھیل برائے امن کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ہے کہ دنیا والوں کو کھیلوں کی افادیت سے آگاہ کرنے کے علاوہ دنیا میں رہنے والے مختلف ممالک کے درمیان امن محبت اور دوستی کو فروغ دیا جاسکے۔ ہمیں وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب ہمیں

پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب

جو کھیلو گے کودو گے ہوگے خراب

جیسے نظریات ازبر کرائے جاتے تھے، یہ بات اس حد تک تو بجا تھی کہ ہمیں سارا وقت کھیل کود میں ضائع کرنے کی بجائے کچھ پڑھنا لکھنا اور سمجھنا بھی چاہئے لیکن بعد ازاں کھیل کھیل میں پڑھنے لکھنے کی اہمیت سے بھی اہل دانش آگاہ ہوئے اور وہ کھیل کو زندگی کا ایک اہم حصہ گرداننے لگے۔ دراصل زندگی میں کھیلنا کودنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا خوش وخرم رہنا ضروری ہو سکتا ہے۔ کھیل کود انسان تو انسان ہر جاندار کی فطرت میں شامل ہے۔ کیا آپ نے ٹہنی ٹہنی پھدکتی چڑیوں کو نہیں دیکھا۔ کتنی خوش وخرم اور چاک وچوبند نظر آتی ہیں جب وہ چوں چوں چوں چوں کے چہچہاتے نغمے چھیڑتی ایک دوسری سے لڑتی جھگڑتی اور کھیلتی کودتی نظر آتی ہیں۔ یہ بات انسان اور چڑیوں تک ہی محدود نہیں آپ دنیا کے ہر جانور کو کھیلتے کودتے اور موج مستیاں کرتے دیکھ سکتے ہیں۔ انسان اور جانوروں کے کھیل کود میں اگر کچھ فرق ہے تو بس اتنا سا کہ حضرت انسان اپنے کھیل کود کے مختلف نام مقرر کرتا ہے اور ان کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے کچھ اصول اور ضابطوں کی پابندی کرتا ہے اور اگر کوئی فریق یا کھلاڑی کھیلوں کے ان اصول وضوابط کی پاسداری نہیں کرتا تو اس کو کھیل سے خارج کر دیا جاتا ہے یا اس کیساتھ کھیلنا کودنا یوں بند کردیتا ہے جیسے کسی سے ناراض ہوکر اس کا حقہ پانی بند کر دیا جائے۔

بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے

ہوتا ہے شب وروز تماشا میرے آگے

اسد اللہ خان غالب کی خوردبین اور دوربین نگاہوں کو تو ساری دنیا ہی بچوں کے کھیلنے کودنے کا میدان نظر آتا ہے، ان کے نزدیک کھیلنا کودنا صرف اور صرف بچوں ہی کی فطرت میں شامل ہے۔ شاید اس لئے کہ وہ دنیا جہاں کے غموں سے بچے ہوتے ہیں۔ حضرت انسان جس وقت نومولود بچے کی حیثیت سے کسی کے گھر کے آنگن میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ تب ہی سے ہنسنا کھیلنا اورقلقاریاں مارنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر اسے بھوک نہیں لگی شدائد موسم نے نہیں ستایا، اسے کوئی جسمانی تکلیف کا سامنا نہیں یا اسے نیند نہیں آرہی تو وہ اپنی ماں کی گود یا اپنے پنگھوڑے ہی میں کھیلنا شروع کر دیتا ہے۔ جس کا ساتھ دینے کیلئے وہ اپنے چاہنے والوں کے لاڈ اور پیار اور بے پناہ محبت سے حظ اُٹھاتا ہے۔ بچہ جب ماں کی گود یا پنگھوڑے کو خیرباد کہہ کر گھر آنگن یا گلی محلہ کے بچوں کیساتھ کھیلنا کودنا شروع کرتا ہے تو وہ کھیل کود کے بہانے جو سیکھتا ہے اسے زندگی بھر یاد رکھتا ہے اور جب وہ زندگی کے سفر میں بچپن کی حدود سے اس پار نکل جاتا ہے تو وہ اس زمانے کو بھلائے نہیں بھول پاتا جب وہ ہنسنے اور خوش رہنے کیلئے لاشعوری طور پر ہی سہی کھیل کود کو زندگی کا جزو لاینفک سمجھتا تھا اور ایک دن وہ بھی آتا ہے جب وہ اپنی عمر کے لحاظ سے بچہ نہیں رہتا تو وہ کھیل کود کے زمانے کو یاد کرکے بے اختیار ہوکر کہہ اُٹھتا ہے

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی

مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی

ہم اپنے بچپن میں چینجو، جُر، گیند گیٹا، گلی ڈنڈا، کبڈی، توپ ڈنڈا، آنکھ مچولی یا چھپن چھوپ، ٹِب کڑبا، گیٹی چھپانا، بلورے یا کنچے جیسے لاتعداد لوک کھیل کھیلا کرتے تھے اور جب کبھی کھیلوں کے میدان میں ٹیم بناکر کھیلنے کا موقع ملتا تو فٹبال، کرکٹ اور ہاکی جیسے عالمی سطح کے کھیل، کھیل کر بھی اپنی چستی چالاکی اور صلاحیتوں کا لوہا منوانے کی کوشش کرتے، کہتے ہیں کہ کرکٹ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے بچپن کا پسندیدہ کھیل تھا، انہوں نے اپنے ہم عمر ساتھیوں کو کنچے کھیلنے سے روک کر انہیں کرکٹ کھیلنے کی ترغیب دی تھی، کرکٹ ہمارے ملک کا مقبول ترین کھیل ہے جبکہ ہاکی کو ہم قومی کھیل کہتے ہیں، یہ کھیل پاکستان کے نوجوانوں میں جہد مسلسل کا جو عزم اور حوصلہ بیدار کرتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، کھیلوں کے میدان میں پاکستان کے نامور کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کا جو نام روشن کیا اور جو مقام حاصل کیا ہے وہ اس بات کا غماز ہے کہ ہم کھیل کھیل میں امن اور ترقی کی منزلوں کو پالینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جانتے ہیں اپنے مدمقابل فاؤل کھیلنے والے چال باز کھلاڑیوں کی ہرچال اور اس کے ہتھکنڈوں کو اور جانتے ہیں ہر اس آندھی طوفان دہشت اور بربریت کا رخ موڑنے کا کھیل بھی ہمارے پیارے وطن میں امن اور سلامتی کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے نفرتیں اور کدورتیں اگانے کا باعث بنتی ہے، ہم امن اور سکون چاہتے ہیں اور جنگی جنونیوں کوگلے سے لگا کر سپورٹ مین شپ کا مظاہرہ کرنے کے خواہا ں ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا

متعلقہ خبریں