Daily Mashriq


فخر پشاور ایوارڈز۔۔ چند گزارشات

فخر پشاور ایوارڈز۔۔ چند گزارشات

اچھے کام کی تعریف نہ کرنا بھی بخل کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر کسی حکومتی ادارے کی کارکردگی پر گرفت کرنا عوامی مفاد میں بنتا ہے اور کالم نگار‘ تجزیہ کار ان پر اظہار خیال کرتے ہیں تو بہتر کارکردگی کو سراہنا بھی تو ضروری ہے۔ گزشتہ برس پشاور کی ضلعی حکومت نے ایک عرصے بعد اہل کمال کی پذیرائی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کیا تھا اور مختلف شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی پر ان شہریوں کی پذیرائی کیلئے فخر پشاورکے نام سے ایوارڈز دئیے تھے جو بقول مرزا غالب کسی صلے کی پرواہ کئے بغیر اپنی ذمہ داری نبھا رہے تھے اور اسے عرصے بعد کے الفاظ ہم نے اس لئے دئیے کہ حاجی غلام علی کے دور میں بھی اسی نوعیت کے ایوارڈز پہلے دئیے جا چکے ہیں جنہیں اعتراف فن کا نام دیا گیا تھا حالانکہ اس وقت بھی اصولی طور پر یہ طے کیا گیا تھا کہ ان ایوارڈز کو ہر سال جاری رکھا جائے گا تاہم بعد میں کیا ہوا اور اعتراف فن کے نام سے دئیے جانے والے وہ ایوارڈز جاری کیوں نہ رہ سکے اس حوالے سے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ

رموز مصلحت ملک خسروان دانند

گدائے گوشہ نشینی تو حافظاؔ مخروش

اس لئے سابقہ سے کوئی تعرض رکھتے ہوئے فخرپشاور ایوارڈز پر آتے ہیں جن کے حوالے سے ایک بار پھر یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ اس سال بھی یہ اعزازت تقسیم کئے جائیں گے۔ اس ضمن میں ضلع ناظم پشاور محمد عاصم خان اور ان کی ٹیم کی کاوشیں یقینا تحسین کے قابل ہیں کہ انہوں نے سال گزشتہ کی طرح ایک بار پھر اس سلسلے میں قدم اُٹھایا ہے۔ اگرچہ ہماری معلومات کے مطابق اعتراف فن ایوارڈز کی طرح یہ فخرپشاور ایوارڈز بھی صرف ایک سال تک ہی محدود تھے لیکن گزشتہ برس ان ایوارڈز کی جس طرح عوامی سطح پر زبردست پذیرائی دیکھنے کو ملی‘ ضلع ناظم نے اس سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور اب ایک بار پھر ان کیلئے تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں۔ نامزدگیوں کیلئے مخصوص فارم تقسیم کئے جا رہے ہیں اور تمام تر ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ حقداروں کے چناؤ میں کوئی کسر نہ رہ جائے‘ کہ بقول حالیؔ

اہل معنی کو ہے لازم سخن آرائی بھی

بزم میں اہل نظر بھی ہیں تماشائی بھی

اس حوالے سے چند گزارشات ہم نے پچھلے برس بھی ایوارڈز کی تقریب کے بعد انہی کالموں میں پیش کی تھیں اور موقع غنیمت جانتے ہوئے کچھ گزارشات ایک بار پھر کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان ایوارڈز کی اہمیت کم نہ ہو بلکہ دو چند ہوجائے اور اگر اسے سخن گسترانہ بات نہ سمجھا جائے تو عرض ہے کہ پچھلے سال ایوارڈز جتنی بڑی تعداد میں تقسیم کئے گئے تھے انہیں اگر ریوڑیاں تقسیم کرنے سے تشبیہہ دی جائے تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہوگا تاہم اس میں دو باتیں تھیں ایک تو یہ کہ جس طرح ریوڑیاں بانٹنے کے حوالے سے ہمارے ہاں محاورہ مشہور ہے اس کا اطلاق سال گزشتہ کے ایوازڈر پر نہیں کرنا چاہتے کیونکہ تقسیم ایوارڈز کیلئے نامزدگیاں کرتے ہوئے معیار تب بھی سخت ہی رکھا گیا تھا۔ اس لئے ان پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور دوسری بات یہ ہے کہ پہلی بات جس کی طرف سے ہم نے اوپر کی سطور میں اشارہ کیا اس کا دوسری بات سے گہرا تعلق بنتا ہے یعنی متعلقہ کمیٹی کی ناتجربہ کاری تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں ایوارڈز بانٹے گئے جن سے بہرصورت اعراض برتنا چاہئے تھا۔ دراصل ایوارڈز کوئی بھی ہوں ان کی حیثیت تب برقرار اور مستحکم رہ سکتی ہے جب ان کی تعداد محدود ہو اور ان کیلئے نامزد ہونے والوں کو کڑے امتحان سے گزار کر ان کا انتخاب کیا جائے جبکہ گزشتہ سال اس حوالے سے تھوڑی سی غفلت ضرور ہوئی البتہ اس میں کسی بدنیتی کا گمان کہا جاسکتا ہے نہ شائبہ نظر آتا ہے۔ بس متعلقہ کمیٹی نے ’’شوق گل بوسی میں کانٹوں پہ زبان رکھ دی تھی، جس میں ان کا قصور نہیں بلکہ نیک نیتی کو دخل ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال بعض بہت اہم شخصیات بھی نامزد ہونے سے رہ گئی تھیں حالانکہ ان کی خدمات بہت زیادہ تھیں اس لئے اُمید کی جانی چاہئے کہ اس بار ان کو محروم نہ ہونا پڑے۔ یعنی بقول محشر بدایونی

کرے دریا نہ پل مسمار میرے

ابھی کچھ لوگ ہیں اس پار میرے

ہم نے گزشتہ برس بھی گزارش کی تھی کہ ایوارڈز صرف ایک شیلڈ کا نام نہیں بلکہ ہر ایوارڈز کیساتھ کچھ نہ کچھ رقم بھی ہونی چاہئے تاکہ جسے ایوارڈ سے نوازا جائے اس کی حوصلہ افزائی ہو‘ مگر افسوس ہے کہ نہ اعتراف فن ایوارڈ کیساتھ ایسی کوئی حوصلہ افزائی روا رکھنے کی سوچ اُبھری تھی نہ ہی گزشتہ سال فخرپشاور ایوارڈز کیلئے رقم مختص کی گئی تھی۔ اس لئے کیا ہی بہتر ہو کہ اگر اس بار بھی ایسا نہ ہو سکے تو کم ازکم آنے والے سال سے نقد حوصلہ افزائی کے بارے میں بھی ضرور سوچا جائے اور دوسری بات یہ ہے کہ جسے ایوارڈ یعنی شیلڈ دی جائے اس کو خوبصورت سرٹیفکیٹ بھی ضرور دیا جائے کیونکہ شیلڈز تو پرانے بھی ہوجاتے ہیں‘ ان کی چمک ماند پڑ جاتی ہے البتہ اگر کمپیوٹرائزڈ اور کلرفل سرٹیفکیٹ ساتھ میں دیا جائے تو اسے فریم کرکے رکھا جاسکتا ہے اور اصل سند ہی وہی ہوتا ہے‘ اس لئے اگر آنے والے سال میں ان دو سالوں کے ایوارڈ یافتگان کیلئے نقد رقم اور سرٹیفکیٹس کا اہتمام کیا جائے تو اس اعزاز کی قدر دوچند بلکہ سہ چند ہوجائے گی۔

ماقصہ سکندر ودارا نہ خواندہ ایم

از ما بجز حکایت مہر ووفا مپرس

متعلقہ خبریں