Daily Mashriq

لوکل باڈیر انتخابات میں اُردگان کی ناکامی

لوکل باڈیر انتخابات میں اُردگان کی ناکامی

ترکی میں81صوبوں میں30میٹرو پولیٹن، 351میونسپل میئر، 1350صوبائی اور 20500 میونسپل کونسلروں کیلئے لوکل باڈیز کے انتخابات 31مارچ کو ہوئے۔ ان انتخابات میں طیب اُردگان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AK) اور اپوزیشن پارٹی ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHR) کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق طیب اُردگان کی پارٹی ترکی کے تین اہم شہروں استنبول، انقرہ اور آزمان میں ہار رہی ہے۔ استنبول جو ترکی کا معاشی اور اقتصادی حب ہے وہاں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی 48.8فیصد کے مقابلے میں48.5 فیصد ووٹ، انقرہ میں 50.9فیصد کے مقابلے میں 47.2 فیصد ووٹ جبکہ اُزمر میں 58فیصد کے مقابلے میں 38.3فیصد ووٹ سے ہار گئی۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو ترکی کے صدر طیب اُردگان 2003 سے وزیراعظم اور صدر کے عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور ترکی کے صدر طیب اُردگان نے ترکی کو ایک مقام پر پہنچایا۔ وہ مسلمانوں کو متحد اور مضبوط وحدت کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ میرے ناقص خیال میں مسلمان اُمہ میں اُردگان وہ واحد دوراندیش لیڈر ہیں جس سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اسلامی کانفرنس تنظیم او آئی سی کے ممالک کو ایک مقام پر لاکھڑا کر سکتے ہیں۔ طیب اُردگان نے ہر دور اور ہر وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ حال ہی میں پاک بھارت جنگ میں مسلم دنیا میں صرف طیب اُردگان تھے جنہوں نے پاکستان کی کھل کر حمایت کی اور بھارت کو تنبیہہ کی کہ اگر پاکستان پر جارحیت کی گئی تو ترکی پاکستان کیساتھ کھڑا ہوگا۔ اگر ہم غور کریں تو ترکی میں طیب اُردگان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ) (AK کی شکست کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ترکی کی کرنسی لیرا پچھلے ایک سال میں ڈالر کے مقابلے میں 40فیصد گر گئی اور اسی طرح ملک کا بیرونیقرضہ انتہائی حد تک بڑھ گیا۔ اس کے علاوہ افراط زر یعنی مہنگائی اور بیروزگاری میں انتہائی حد تک اضافہ ہوا اور ملک میں کرنسی کی قدر میں انتہائی کمی واقع ہوئی۔ ترکی کا فی کس جی ڈی پی جو2017 میں 10597ڈالر تھا 2018 میں کم ہوکر9632 ڈالر ہو گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2005 میں ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر ڈالر کے مقابلے میں1.2 تھی جو بڑھتے بڑھتے اگست 2018میں 7 تک پہنچ گئی۔ اسی طرح افراط زر یعنی مہنگائی 12فیصد رہی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال ترکی کی کئی اشیاء جن میں ایلومینیم اور سٹیل شامل ہیں پر بے تحاشا ٹیکس لگایا تھا جس کی وجہ سے بھی ترکی کی اقتصادی حالت کافی حد تک خراب ہو گئی۔ ان انتخابات کے نتائج اور حکمران پارٹی کی شکست کے بعد ہم اُمید کرتے ہیں کہ ترکی کے صدر طیب اُردگان اپنی خامیوں پر غور کریں گے اور ملک سے بے روزگاری، مہنگائی، لیرا کی قدر میں کمی کی وجوہات پر غور کر کے اپنی اقتصادیات صحیح ٹریک پر ڈالیں گے۔ مسلمانوں میں اس وقت کوئی ایسا لیڈر نہیں جس میں طیب اُردگان جیسی خصوصیات ہوں۔ وہ اس وقت مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ ترکی عوام کو بھی چاہئے کہ اس مشکل وقت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنے لیڈر طیب اُردگان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ترکی اور اُمت مسلمہ کو مضبوط کرنے میں ان کا ساتھ دیں۔ طیب اُردگان نہ صرف ترکی کے عوام کیلئے بلکہ پوری اُمت مسلمہ کیلئے دل میں درد اور محبت رکھتے ہیں۔ طیب اُردگان کی ناکامی سے نہ صرف ترک بلکہ اُمت مسلمہ کو نقصان ہوگا۔ اگر ہم غور کریں تو 57 اسلامی ممالک کو اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دیا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ اس وقت کوئی ایسا لیڈر اور راہنما نہیں جو مسلمانوں کو متحد کر سکے۔ اس وقت صرف طیب اُردگان سے یہ اُ مید کی جا سکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کی کشتی کو پار کر لے گا۔ مسلمانوں کے آپس میں نفاق اور اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے قائدین کو چن چن کا مارا گیا۔ ان میں شاہ فیصل شہید، معمرقذافی اور صدام حسین کے نام سرفہرست ہیں۔ مسلمانوں کے نفاق کی وجہ سے فلسطین، کشمیر، شام اور لبنان میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہے اور ان سب کی وجہ مسلمانوں کی نااہل قیادت، سائنس وٹیکنالوجی میں پسماندگی اور تعلیم کی کمی ہے۔ میں اس کالم کے توسط سے مسلمان حکمرانوں سے بھی استدعا کرتا ہوں کہ وہ اس مشکل گھڑی میں ترکی کا ساتھ دیں تاکہ اس قسم کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ امریکہ اور اہل مغرب کو چاہئے کہ وہ مسلمان دشمنی چھوڑیں اور دوسرے ممالک کیساتھ اتحاد اور اتفاق سے رہیں کیونکہ زور، ظلم اور بربریت سے کبھی ملکوں اور ریاستوں کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا دور لد گیا۔ جس طرح امریکہ ترکی کی کئی چیزوں پر زیادہ ٹیکس لگا کر ترکی کی اقتصادیات خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے امریکہ کے عوام اور صدر ٹرمپ کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور دوسرے ممالک کیساتھ تعلقات اچھے رکھنا چاہئے۔ میں اس کالم کی توسط سے ترکی عوام سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ طیب اُردگان کے ہاتھ مضبوط کریں اس سے نہ صرف ترکی مضبوط ہوگی بلکہ مسلم اُمہ بھی مضبوط ہوگا۔

متعلقہ خبریں