Daily Mashriq

چار ٹانگوں والے وہیل نے 5 کروڑ سال قبل پاکستان کا سفر بھی کیا تھا، تحقیق

چار ٹانگوں والے وہیل نے 5 کروڑ سال قبل پاکستان کا سفر بھی کیا تھا، تحقیق

لیما: سانس دانوں کو 5 کروڑ سال قبل کے وہیل کے فوسلز ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ معدوم ہو جانے والی ان اقسام کا پاکستان اور بھارت میں بھی وجود تھا۔

سائنسی جریدے ’کرنٹ بائیولوجی‘  میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سائنس دانوں کو پیرو کے جزیرے پلایا میڈیا لونا سے وہیل کے نچلے جبڑے، دانت، ریڑھ کی ہڈی، پسلیاں اور پچھلی ٹانگوں کی ہڈیاں ملی ہیں جو لگ بھگ 5 کروڑ سال پرانے ہیں اور حیران کن طور پر ان میں جھلی دار 4 ٹانگیں بھی تھیں جن کی مدد سے وہ تیر اور چل بھی سکتے تھے۔

ماہرین نے فوسلز کے مطالعے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ چار پیروں والے وہیل اور ڈولفن نے پیرو اور بحیرہ اوقیانوس سے ہوتے ہوئے بحیرہ عرب کا سفر بھی کیا اور معدوم ہوجانے والی یہ اقسام اُس زمینی اور بحری خطے میں بھی موجود تھی جو اب پاکستان اور بھارت کہلائے جاتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ وہیل کے اگلے پاؤں چھوٹے اور تیرنے کے کام آتے تھے جب کہ پچھلے پاؤں مضبوط، لمبے اور چلنے کے کام آتے جن پر وہیل اپنا وزن اٹھا سکتے تھے۔ ان پیروں کی لمبائی 4 میٹر تک ہوسکتی ہے۔

ماہرہن نے مزید بتایا کہ چار پیروں والی وہیل کی باقیات اس سے قبل مصر، نائیجیریا، سینیگال اور مغربی سہارا سے مل چکے ہیں تاہم وہ اتنے ناکافی تھے کہ جن کی بنیاد پر کوئی حتمی بات کہی جا سکتی ہو۔ سائنس دانوں کو حاصل حالیہ کامیابی نے پرانے نظریات کو تبدیل کردیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے وہیل اور ڈولفن جب اپنا بوجھ زمین پراُٹھانے کے قابل نہیں رہیں اور زمین میں خوراک کی کمی کے باعث سمندر کو مستقل مسکن بنایا تو آہستہ آہستہ ان کے پاؤں پروں میں تبدیل ہوگئے اور پچھلے پاؤں مکمل طور پر غائب ہوگئے۔

سائنس دان پُر امید ہیں کہ  پیرو سے ملنے والے وہیل کے رکاز (Fossil) سے جانوروں کے ارتقائی مراحل سے متعلق نظریات میں انقلابی تبدیلی آئے گی اور سوچ کا ایک نیا زاویہ سامنے آئے گا۔

متعلقہ خبریں