Daily Mashriq


دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مددگار غذائیں

دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مددگار غذائیں

سفید دانتوں کی چمک سے اپنی مسکراہٹ کو جگمگانا کس کی خواہش نہیں ہوتی اور لاتعداد افراد اس مقصد کے لیے ہزاروں روپے ڈینٹسٹ کو دے کر ان کی صفائی بھی کرواتے ہیں مگر اس مقصد کو حاصل کیا جائے؟

تو اس کا جواب بظاہر تو آسان ہے اور وہ ہے زیادہ برش کرنا، مگر یہ کام اتنا بھی آسان نہیں۔

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ دانتوں کی سفیدی کی دو اقسام ہوتی ہے بیرونی اور اندرونی۔

پہلی قسم میں دانتوں کے داغ دور کرکے سفیدی کو بحال کیا جاتا ہے یا اصل شکل میں واپس لایا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم میں قدرتی سے زیادہ سفیدی لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تو موتیوں جیسے سفید دانتوں کا راستہ ہوسکتا ہے آپ کے کچن میں چھپا ہو، جی ہاں کچھ غذائیں دانتوں کی سفیدی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

گوبھی

گوبھی کو کچا کھانا دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مدد دے سکتا ہے، اگر کچی گوبھی چبانا مشکل ہو تو اسے پیس لیں اور پھر کھالیں، یہ سبزی دانتوں کی سطح پر موجود داغ دھبوں کو دور کرسکتی ہے، اس کو جتنا زیادہ چبائیں گے، اتنا زیادہ لعاب دہن بنے گا جو کہ داغوں کو ہٹانے میں مدد دے گا۔

اسٹرابیری

یہ سرخ پھل کسی جادوئی پھل سے کم نہیں، یہ دانتوں کی سفیدی کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہوتا ہے جو کہ کسی اچھے ریگ مال کی طرح کام کرنے کے ساتھ ساتھ وٹامن سی کے حصول کا اچھا ذریعہ بھی ہے۔ اسٹرابیری کو بیکنگ سوڈا کے ساتھ دانتوں کو جگمگانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ اسے صرف کھانا بھی دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مدد دیتا ہے۔

پنیر اور دہی

اگر تو آپ کے دانتوں پر پیلاہٹ جم رہی ہے تو اس سے نجات کے لیے پنیر ایک بہترین غذا ثابت ہوسکتی ہے۔ پنیر کیلشیئم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو کیوٹیز سے نجات میں مدد دیتا ہے۔ طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہائیڈروجن کی سطح دانتوں کی صحت کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ پنیر سے ہائیڈروجن کی سطح بڑھتی ہے اور دانتوں کی فرسودگی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یہی کام دہی بھی کرتا ہے جو منہ میں لعاب دہن کی مقدار بڑھاتے ہیں جس سے دانتوں کی سطح پر جمے داغوں کو ہٹانے میں مدد ملتی ہے۔

بیج اور گریاں

بیج اور گریاں جیسے اخروٹ، بادام، سورج مکھی کے بیج اور کاجو وغیرہ بھی دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مدد دیتے ہیں جو دانتوں کی سطح پر جم جانے والی پیلاہٹ کو دور کرکے سفیدی کا حصول ممکن بناتے ہیں۔

انناس

انناس میں ایک انزائمے برومیلن موجود ہوتا ہے جو اکثر ورم کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ انزائمے دانتوں کی سطح پر پروٹین کو متاثر کرکے داغوں اور پیلاہٹ کو دور کرتے ہیں، جب ایک بار پروٹین منتشر ہوجاتے ہیں تو لعاب دہن قدرتی طریقے سے ان داغوں کو بہا لے جاتا ہے جس سے دانت زیادہ جگمگانے لگتے ہیں۔

پیاز

پیاز دانتوں کی سفیدی اور صفائی کے لیے موثر ٹول ثابت ہوسکتی ہے۔اس سے سانس میں بو ہوسکتی ہے مگر اس میں موجود سلفر کمپا?نڈ پلاک کو بننے سے روکتا ہے، بس کچھ پیاز کے چند ٹکڑے چبائے یا دانتوں پر پیاز پر رگڑنے سے دانتوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔

نمک

چٹکی بھر آئیوڈین سے پاک نمک لیں اور کچھ مقدار میں مسٹرڈ آئل (سرسوں کے تیل) میں شامل کردیں، اگر چاہیں تو چٹکی بھر ہلدی کا بھی اضافہ کرسکتے ہیں۔اس کے بعد مکسچر کو لیں اور شہادت کی انگلی سے اس سے دانتوں پر دو منٹ تک مالش کریں۔ اس کے بعد چند منٹ کے لیے منہ بند کرکے رکھیں اور پھر نیم گرمی پانی سے کلیاں کرلیں اور اس مکسچر کا استعمال معمول بنانے سے چند دنوں میں آپ نمایاں فرق دیکھ سکیں گے۔

متعلقہ خبریں