افغانستان کے وسائل کی حفاظت کی ضرورت

افغانستان کے وسائل کی حفاظت کی ضرورت


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا افغانستان کی قیمتی معدنیات اور وسائل میں حصہ داری پر اصرار کرنا اور امریکی حکام کی ڈونلڈ ٹرمپ کو پورے افغانستان پر تسلط کے قیام سے قبل اس کا ممکن نہ ہونے کی بریفنگ سے امریکہ کی افغانستان آمد کی بلی بالآخر تھیلی سے باہر آگئی ہے۔ امریکہ کی کویت و عراق اور خلیجی ریاستوں سے متعلق پالیسی کا محور بھی تیل کی دولت پر ہاتھ صاف کرنا تھا ۔ اپنے مقصد میں نہ صرف امریکہ پورا اتراہے بلکہ امریکہ نے تیس سال استعمال کے بقدر تیل کاذخیرہ بھی کرلیا ہے۔ ان اقدامات سے امریکہ کی امن پسندی اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کے تھانیدار اعلیٰ ہونے کا بھرم بھی پوری طرح کھل چکا ہے۔ ایک عالمی طاقت ہونے کے بل بوتے پر دنیا میں اپنے مقاصدکے حصول ' سیاسی و معاشی مفادات کے امکانات و مواقع کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ دنیا کو جس طرح تگنی کا ناچ نچا رہاہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ امر نہیں ایک ایسے تباہ حال ملک جس کی سر زمین پر جنگ کو نصف صدی ہونے کو ہے بجائے اس کے کہ عالمی ممالک کم از کم افغانستان کے قیمتی معدنی وسائل کو بروئے کار لانے میں افغانستان کی مدد کرکے اس کی مشکلات میں کمی لائی جاسکے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈٹرمپ کی اس منطق کو عجیب و غریب گردانا جائے گا جس میں انہوں نے چینی کمپنیوں کی کان کنی کے ذریعے حصول منافع کو تنقید کا نشانہ بنا یا ہے کیونکہ چین کی کمپنیاں افغانستان کی حکومت سے معاہدے کرکے افغانستان کے وسائل سے نہ صرف خود استفادہ کر رہی ہیں بلکہ افغانستان کو بھی معاہدے کے مطابق ادائیگی کرتی ہیں ۔ سب سے بڑی بات یہ کہ افغانستان میں چینی فوجی اڈے نہیں اور نہ ہی چین کسی بہانے اپنی فوجیں لانے کے بعد افغانستان میں کان کنی کے شعبے پر قبضہ جمانہ چاہتا ہے چین کی طرح امریکہ کو باقاعدہ معاہدے کے ذریعے کان کنی کا حق ضرور حاصل ہے لیکن امریکی فوج کی موجودگی میں کیا افغان حکومت سے آزادانہ معاشی و اقتصادی معاہدہ ممکن ہے اور امریکہ افغان حکومت کو دبائو میں لائے بغیر ایساکرسکتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر امریکی حکام کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے تھا نہ کہ چینی کمپنیوں کے کام پر معترض ہوا جائے۔ ہمارے تئیں امریکہ کو چینی طرز کی کان کنی مطلوب ہی نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اس میں امر مانع کوئی نہ تھا اور نہ ہی امریکی حکام کو افغانستان پر مکمل تسلط کے قیام سے قبل ایسا ہونا ممکن نہ ہونے کی بریفنگ دینی پڑتی۔ اس وقت بھی افغانستان عملی طور پر امریکہ ہی کے تسلط میں ہے۔ تخت کابل پر براجمان شخص افغان ہونے کے باوجود امریکی زبان بولتا ہے اور امریکی پالیسیوں پر چلتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں ان کو امریکی طاقت کی چھتری تلے بھی حکومت کرنے میں کامیابی نہیں ملتی اور پورے افغانستان میں داخلی قوتیں سخت مزاحمت کر رہی ہیں۔ امریکیوں کو افغانستان میں قیمتی معدنیات سے استفادے میں ان داخلی قوتوں سے ضرور مزاحمت کا سامنا ہوگا۔ امریکہ کو افغانستان کے قدرتی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کی منصوبہ بندی میں مزید کیا مطلوب ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان آمد سے لے کر اب تک امریکہ سمیت دیگر ممالک جتنا ممکن ہوسکتا تھا افغانستان سے قیمتی قدرتی دھاتوں اور وسائل کی منتقلی میں مصروف رہیں اور اب تک نجانے کتنی قدرتی دولت کی منتقلی عمل میں آئی ہوگی۔ ایک جانب جہاں امریکہ کی افغانستان کے وسائل پر نظر ہے تو دوسری جانب افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے جن کے خلاف مزاحمت اور پیش بندی نظر نہیں آتی۔ اس سے اس امر کا شبہ بلا سبب نہیں کہ داعش کی آڑ میں افغانستان کے قدرتی وسائل کو بغیر کسی معاہدے اور افغانستان کو مالی منفعت دئیے بغیر منتقل کئے جائیں۔ افغانستان قدرتی وسائل اور قیمتی معدنیات سے مالا مال ملک ہے صرف لیتھیم نامی قیمتی دھات کے ذخائر کی مالیت ایک ہزار ارب ڈالر سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ افغانستان کو سونے کی چڑیا سمجھ لیاگیا ہے جس کا افغانستان کے عاقبت نا اندیش حکمرانوں کو تو احساس نہیں مگر افغانستان کی داخلی قوتوں کو اس کا احساس ہے اور وہ برابر مزاحمت میں مصروف ہیں۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکی حکام کا اصل چہرہ سامنے آنے کے بعد افغانستان کے عوام کو اب اس امر کا فیصلہ کرلینا چاہئے کہ کون ان کا دوست اور کون دشمن ہے اور جن کو وہ صف دشمناں میں شمار کرتے ہیں ایسا کرکے وہ کن عناصر کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں اور خود اپنی آزادی سلامتی اور قدرتی وسائل کا اختیار دوسروں کے ہاتھ میں دے کر انہی کے ہاتھوں کھیل بھی رہے ہیں۔ افغان حکمرانوں اور تخت کابل کی اب آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور ان کو افغانستان کے وسائل کے تحفظ کے لئے اپنے عوام کی مدد سے عملی اقدامات اٹھانا چاہئے جو لوگ مزاحمت کا ر ہیں سچ سامنے آنے کے بعد ان کی مزاحمت کابڑھنا اور عوام کی مزید ہمدردیاں حاصل کرکے قوت پکڑنا فطری امر ہوگااس لیئے کابل کو اب اس امر کا فیصلہ کرلینا چاہئے کہ وہ اغیار کے ہاتھوں کاکھلونا ہی بنتا رہے گا۔ یا اپنے ملک میں قیام امن کے لئے داخلی قوتوں سے معاملات طے کر کے ملکی وسائل کی حفاظت کی جائے۔

اداریہ