Daily Mashriq


قانون سازی کرکے مذہبی آزادی پر قدغن مناسب نہ ہوگی

قانون سازی کرکے مذہبی آزادی پر قدغن مناسب نہ ہوگی

اگرچہ رویت ہلال کے ضمن میں حکومت کی جانب سے قانون سازی اور تعزیر لاگو کرنا افراد اور معاشرے پر قدغن لاگو کرنے اور کسی حد تک ان کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا میں ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے والوں اور رمضان المبارک اور عیدالفطر جیسے مقدس فریضے اور ایام کو متنازعہ بنانے والوں کو کھلی چھٹی دینے کی بھی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قانون سازی کے اقدام کے ساتھ ساتھ حکومت کو اس ضمن میں اتمام محبت کے طور پر ایک سنجیدہ سعی کی مزید ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو بھی کی جانی چاہئے جس کے بعد خیبر پختونخوا میں غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں پر پابندی میں عوامی احتجاج اور اسے مذہبی آزادی میں مداخلت کا جواز نہیں رہے گا۔ کسی بھی مذہبی معاملے میں پابندی، گرفتاری اور سزا سے مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن کم اور پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ رہتاہے۔ مثال کے طور پر اگر صوبے کے مختلف علاقوں میں لوگ اچانک عیدالفطر کے اجتماعات کا کسی کمیٹی کے اعلان کی بجائے اپنے اپنے مقامی مسجد کے پیش امام کے اعلان پر انعقاد کریں تو کیا حکومت مسجدوں اور عید گاہوں میں پولیس تعینات کرکے زبردستی ان اجتماعات کو رکوا سکے گی اور ان علماء کوگرفتار کرے گی اور اگر ایسا کیاگیا تو اس کے نتائج کیا برآمد ہوں گے۔ بہتر ہوگا کہ شہری اور صوبائی رویت ہلال کمیٹیوں کی مکمل طور پر تشکیل نو کی جائے۔ ترغیب کے ذریعے متفقہ طور پر رمضان اور شوال کے چاند کا فیصلہ کرنے کی راہ ہموار کرکے ایک ہی روز روزہ رکھنے اور عیدالفطر کی نماز کی ادائیگی کو ممکن بنایا جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس مذ ہبی فریضے کو متنازعہ بنانے کے تمام فریق اس امرکا احساس کریں گے کہ علماء کے درمیان اختلافات اور عدم ہم آہنگی سے عوام ان بابرکت مواقع پر تضادات اور اختلافات کا شکار ہونے سے کس کرب سے گزرتے ہیں۔ ہمارے تئیں علمائے کرام اخلاص کے ساتھ مل بیٹھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس مسئلے کا متفقہ حل تلاش نہ کرسکیں۔ بہتر ہوگا کہ علمائے کرام اس ضمن میں اجماع پیدا کریں اور اپنے ہاتھوں ایسی صورتحال پیدا ہونے نہ دیں جو معاشرے میں مزید تضادات کا سبب بنیں۔

متعلقہ خبریں