Daily Mashriq


ڈینگی کی وبائ

ڈینگی کی وبائ

تہکال میں ڈینگی کی وباء سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور متاثرہ افراد کی تعداد کا دو سو سترہ تک پہنچ جانا تشویشناک معاملہ ہے۔ ہسپتال میں گزشتہ روز تک ساٹھ کے قریب مریض داخل تھے جبکہ باقی کے ٹیسٹ کے نتیجے کا انتظار تھا۔ خوش قسمتی سے صوبے کے دیگر علاقوں سے کوئی ایسی اطلاع نہیں آئی لیکن کسی ایک علاقے میں ڈینگی کے وبائی صورت اختیار کرلینے سے تشویش میں اضافہ اور حفاظتی اقدامات پر توجہ سے صرف نظر ممکن نہیں ۔ متعلقہ حکام کی جانب سے شہریوں کو مناسب احتیاط اور اقدامات کا بھی پابند بنانے کی سعی ضرور کی گئی ہے لیکن ہمارے تئیں یہ کافی نہیں ٹائیروں میں پانی رکھنے اور گھروں و دکانوں کے باہر پانی میں پودے رکھنے سے روکنا ایک سطحی قدم ہوگا جب تک شہر میں جا بجا کھڑے پانی کے تالاب نما گڑ ھوں کو نہ بھر دیا جائے۔ برسات کے موسم میں مچھروں کی افزائش ویسے بھی معمول سے زیادہ ہوتی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں مچھروں کی بہتات اپنی جگہ لیکن چونکہ ڈینگی بخار کا مچھر صاف پانی میں پیدا ہوتااور پلتا ہے جس پشاور میں امکان تو کم ہے مگر سارے شہر کو گندگی کے ڈھیر اور گندے پانی کا جوہڑ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔برسات کا موسم ڈینگی مچھروں کی افزائش کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈینگی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے جو اس وقت بھی 100سے زائد ملکوں میں وبا کی صورت میں موجود ہے۔عالمی ادارے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ڈینگی کے 39کروڑ مریض سامنے آتے ہیں جنہیں اگر بروقت تشخیص اور علاج میسر ہو تو ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔محکمہ بلدیات اور محکمہ صحت کے حکام کو خاص طور پر اس ضمن میں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے جہاںشہریوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہاں اس سے نمٹنے کیلئے بھی ممکنہ احتیاط و تدابیر اور تدار کی اقدامات میں کوتاہی کی گنجائش نہیں ۔ بہتر ہوگا کہ ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں اس کے علاج کے انتظامات اور ادویات کی موجودگی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے۔ عوام کو احتیاطی تدابیر سے بار بار آگاہ کیا جائے جبکہ عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ خود احتیاط سے کام لیں اور ممکنہ بچائو کے طریقوں پر عمل کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ڈینگی کے خدانخواستہ بڑے پیمانے پر پھیلائو کے خطرے کا بروقت احساس کیا جائے اور پانی سر سے اونچا ہونے سے قبل حفاظتی اقدامات اور اس کی روک تھام کا بندوبست کیا جائے۔

متعلقہ خبریں