Daily Mashriq


عائشہ گلالئی کا مقدمہ اور پاکستان کے عوام

عائشہ گلالئی کا مقدمہ اور پاکستان کے عوام

رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر الزامات صحیح ہیں یا غلط اس کا جائزہ اب پارلیمانی کمیٹی خفیہ کارروائی میں لے گی جو نومنتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قائم کر دی ہے۔تاہم ان تین چار دنوں میں مختلف ٹی وی چینلز اپنے اپنے زاویہ سے جتنی دھول اڑا سکتے تھے انہوں نے اڑائی، ٹی وی والوں کی اس کارروائی کے دوران عائشہ گلالئی اور ان کے ''ملزم'' کے بارے میں ایسے جملے بھی سرزد ہوئے جو مناسب نہیں تھے لیکن جب سے ٹی وی چینل میدان میں آئے ہیں اور ان میں ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کا مقابلہ شروع ہوا ہے یہ چینلز کچھ زیادہ ہی آزاد نظر آتے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ کرائم رپورٹر خبر دینے سے پہلے انتظار کیا کرتے تھے کہ ایف آئی آر درج ہوجائے بصورت دیگر کہیں ایسا نہ ہو کہ فریقین مقدمہ میں سے کوئی ان پر اتہام تراشی کا الزام عائد کردے اور الٹا انہیں پیشیاں بھگتنی پڑ جائیں۔ تب یہ بھی کہا جاتا تھا کہ رپورٹر کو ایف آئی آر کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ رپورٹر خود حقائق ہی بیان کرتا ہے ، زمانہ آگے بڑھ گیا ہے اور الیکٹرانک میڈیا والے کیونکہ تصویر پیش کرتے ہیں لہٰذا بہت سے الزامات سے بچ جاتے ہیں لیکن یکطرفہ بیان نشر کرنے کا چلن بھی چل نکلا ہے۔ عائشہ گلالئی کے معاملے میں چند سوال ابھرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ انہوں نے جو الزامات عمران خان پر لگائے ہیں کیا ان کے ازالے کیلئے کوئی قانون نہیں تھا۔ اگر وہ زمانہ ہوتا جس کا ذکر سطور بالا میں کیا گیا ہے تو ان سے کہا جاتا کہ پہلے وہ متعلقہ قانون کے مطابق مقدمہ درج کروا دیں اس کے بعد ان کا بیان شائع یا نشر کر دیا جائے گا۔ محترمہ عائشہ نے کوئی رپورٹ اب تک درج نہیں کرائی ہے اور الیکٹرانک میڈیا کے مختلف چینلز پر الزامات نشر کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان نے 2013 ء میں انہیں نازیبا پیغامات بھیجے تھے اس کے بعد بھی ایسے پیغامات کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک ٹی وی چینل پر انہوںنے کہا کہ آخری پیغام گزشتہ سال آیا تھا۔ اس ''نازیبا'' سے کیا مرا ہے انہوں نے نہیں بتایا ہے۔ دوسرے یا تیسرے دن ایک ٹی وی چینل کے اینکر کو انہوں نے وہ ٹیلی فون پیغام دکھا بھی دیئے جس ٹی وی چینل کو عمران خان ایک عرصہ سے مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اس ٹی وی اینکر نے بھی اپنی گواہی عائشہ گلالئی کے حق میں دے دی ہے حالانکہ وہ منصف ہیں نہ وکیل، تاہم بطور صحافی انہوں نے رائے دی ہے اس کا اتنا ہی وزن ہونا چاہیے جتنا کسی ٹی وی کی خبر کا اور یہ کام ان تمام ٹی وی چینلز نے کیا ہے جنہوں نے محترمہ عائشہ گلالئی کے انٹرویو جاری کیے ہیں اور ان سے اس سوال کا جواب حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ عمران خان نے کیا بات کہہ دی جو انہیں بری لگی، اس بارے میں ان سے بار بارسوال کیا گیا کہ جب پہلی بار انہیں وہ نازیبا پیغام موصول ہوا اس کے بعد وہ چار سال تک کیوں اس بارے میں خاموش رہیں۔ اسی وقت انہوں نے عمران خان اور ان کی پارٹی سے ناطہ توڑنے کا فیصلہ کیوںنہ کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ نسائی حیا کے باعث وہ خاموش رہیں۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ چار سال کے دوران انہیں کئی ایسے پیغامات موصول ہوئے ۔ ان مسلسل پیغامات کے باعث اسی شرم و حیا کا تقاضا تھا کہ وہ پارٹی سے الگ ہو جاتیں یا خود عمران خان سے کہتیں کہ وہ ایسے پیغامات بند کریں یا پارٹی کے اہم ارکان سے شکایت کرتیں اور انہیں کہتیں کہ وہ عمران خان کو سمجھائیں کہ وہ عائشہ گلالئی کو پیغامات بھیج کر غلطی کررہے ہیں۔ انہوںنے ایسا نہیں کیا اور ان پیغامات کو سنبھال کر رکھتی رہیں آخری پیغام ایک ٹی وی انٹرویو کے حوالے سے انہیں ایک سال پہلے موصول ہوا اور اس سارے عرصے میں وہ پارٹی کے کاموں میں پرجوش انداز میں حصہ لیتی رہیں۔ انہوں نے عمران خان سے ملنا جلنا ترک نہیں کیا بلکہ ایک شاہد کے مطابق وہ عمران خان کی رہائش بنی گالہ میں ایک وفد کے ہمراہ ان سے ملنے بھی گئی تھیں جہاں عمران خان نے انہیں وقت دینے سے معذرت کی۔ ان کا قابل اعتراض پیغامات کو سنبھالے رکھنے کا مقصد کیایہ تھا کہ کسی وقت وہ ان پیغامات کو عمران خان کے خلاف یا اپنے حق میں استعمال کرسکیں گی؟دوسری اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کے ''نازیبا'' پیغامات کے بارے میں میڈیاپر اعلان کرنے کیلئے ایسے وقت کا انتخاب کیا جب ایک دن پہلے عمران خان کامیابی کا جشن منا رہے تھے ۔ انہوں نے ٹی وی چینلز پر عمران خان کو کریکٹر لیس کہا۔ عمران خان اور ان کی پارٹی کیا موقف اختیار کرتے ہیں اس سے قطع نظر انہوں نے پاکستان کے عوام کے ایک مقبول لیڈر پر کریکٹر لیس ہونے کا الزام عائد کیا تو انہیں یہ الزام کسی عدالت میں ثابت کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر ان کاالزام عمران خان کے سیاسی مخالفین کی مہم کا حصہ سمجھا جائے گا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنے ٹی وی بیان میں کم و بیش وہی باتیں دہرائی ہیں جو مسلم لیگ ن کے بعض لیڈر عمران خان اور ان کی پارٹی کے بارے میں کرتے رہتے ہیں۔ مثلاًیہ کہ عمران خان خود بنی گالہ میں بیٹھے رہتے ہیں اور ورکر ڈنڈے کھاتے ہیں اور یہ کہ ان کی پارٹی میں خواتین کی عزت نہیں کی جاتی، یہ کہ ان کی پارٹی کے لیڈر کرپٹ ہیں۔ عائشہ گلالئی کے بیان اور مسلم لیگ ن کے بعض عہدیداروں کے بیانات میں یہ مماثلت معنی خیز شمار کی جاسکتی ہے۔اس مقدمے کے اہم ترین فریق پاکستان کے عوام ہیں ۔جن کی توجہ محترمہ گلالئی کے ٹی وی پر بیان ،ٹی وی اینکروں کے سیدھے اور ٹیڑھے سوالات ،مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے عہدیداروں کے تبصروں اور عمران خان کے حامیوں نے قومی اور عوامی مسائل سے ہٹادی ہے ۔یہ مقدمہ خواتین کو ہراساں کرنے اور بے جا تہمت کے مقدمات کی سماعت کی مجاز عدالت میں جانا چاہئے تھا۔ اب پارلیمانی کمیٹی کی ان کیمرہ کارروائی کمیٹی کے ارکان سے براہ راست تو شاید منظر عام پر نہ آئے البتہ خدشہ ہے کہ''باخبر ذرائع ''کے حوالے سے میڈیا والے اس پر خاموش نہ رہ سکیں۔

متعلقہ خبریں