Daily Mashriq


نظافت داما ں

نظافت داما ں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں قائم ہو نے والی حکومت کی 43رکنی کا بینہ سے صدر پاکستان ممنو ن حسین نے حلف لے لیا ،تاہم کا بینہ میں سنتالیس وزراء کی شمولیت تھی چاروزراء میں سے ایک بیر ون ملک علاج کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ دوکو رات گئے اطلا ع ملی اور بروقت پہنچ نہ سکے ، کسی بھی حکومت کے مستقبل کی طر ز حکومت کا بہترین نمو نہ اس کی کا بینہ کی ہیئت ہوتی ہے چنا نچہ نئی وفاقی کا بینہ کی تشکیل اس ا مر کی غمازی کر رہی ہے کہ آئندہ مدت تک یہ نئی حکومت میاں نواز شریف کی حکو مت کا تسلسل رہے گی اور اس میں نواز شریف کا ہی عمل دخل رہے گا ،اب وہ پس پر دہ خاموش نہیں بلکہ محتر ک رہیں گے۔ کا بینہ میں مشاہد اللہ کی شمولیت اس امر کا پیغام ہے کہ ایک منتخب جمہو ری حکومت اپنے فیصلے میں خود مختارہی رہنا پسند کر تی ہے ۔ مشاہد اللہ کی واپسی تو ہو گئی مگر بیچارے پر ویز رشید رہ گئے ، علا وہ ازیں چند دنو ں میں حالا ت نے جو نئی کروٹ لی ہے اس سے نو از شریف کو زبردست سیاسی فائد ہ ہو ا ہے کہ وہ سیا ست میں ایک مضبوط لیڈر کی حیثیت سے ابھر ے ہیں ، سابق وزیر داخلہ نے اپنی تقریر میں اس کی نشاند ہی کر ادی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نو از شریف سے وزیر اعظم کا عہد ہ لے لیا گیا مگر قیادت کوئی نہیںچھین سکتا ۔ سیا سی ہو ا کا رخ یہ کہہ رہا ہے کہ نو از شریف کو سیا ست سے راندئہ درگا ہ کر نے کے لیے نیب کو استعمال کیا جا ئے گا اور پو رے خاندان سمیت سیاست سے خارج کر دیا جا ئے گا ۔یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن مسلم لیگ ن کے زعما ء اور کارکنو ں نے جس کر دار کا مظاہر ہ کیا ہے وہ مسلم لیگ اور سیا سی جما عتو ں کی تاریخ کا سنہر ی ورق قرا ر پا تا ہے ۔ ا س کی موجو دگی میں نو از شریف کو سیا ست سے باہر کر نے کی راہ کٹھن ضرور ہو گئی ہے، بلکہ سیا ست عائشہ گلا لئی کے انکشافات کے بعد پھر ایک مر تبہ ہنگامہ خیز ہو گئی ہے اور عمر ان خان کا سیا سی مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے ۔ جب عائشہ گلالئی نے انکشافات کیے تو تحریک انصاف نے اس کو انتہائی غلط انداز میں لیا اور گھٹیا طور طریقوں سے توڑ پیدا کرنے کی کو شش کی ۔یہ انکشافات عمر ان خان کے لیے سیتا وائٹ سے بھی برا اور بڑا اسکینڈل بن چکا ہے جس میں عمران خان جو اس وقت سیا ست کی اوج ثریا پر فائز ہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے دامن کی نظافت واضح کر یں۔ اگر وہ ایسا نہیںکر تے تو ان پر سیتاوائٹ سے بھی زیادہ گہر ابدنا می کا داغ ثبت ہو جا ئے گا ۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ تحریک انصاف جو پہلے پارلیما نی کمیٹی کی مخالفت کررہی تھی اب اس نے قبول کر لیا اور عمر ان خان نے خود اس کا خیر مقدم کیا ہے ، اگر عمر ان خان جیسا کہ پہلے کہا گیا تھا کہ وہ کسی پا رلیمانی کمیٹی میں پیش نہیں ہو ں گے قائم رہتے تو یہ ان کی سیا سی خود کشی ہو تی ۔یہ ہی سمجھا جا تا کہ گلا لئی درست ہے بلکہ ثابت ہو جا تا ۔ دیکھا جا ئے تو اس وقت دو شخصیت کی سیا سی زندگی کا سوال ہے ایک قومی سطح کی ہے اگر الزام ثابت ہو جا تا ہے تو عمر ان خان کی سیا سی مو ت ہو جا ئے گی اور وہ نہ صرف زندگی بھر کے لیے نا اہل قر ار پاجا ئیں گے بلکہ ان کو قید اور بھاری جر ما نے کی سز ا بھی ہو سکتی ہے لیکن عمر ان نے پارلیما نی کمیٹی کو تسلیم کر کے اپنے رویے میںجو تبدیلی پیدا کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عائشہ گلا لئی سے اب مفاہمانہ رویہ اختیا ر کرنا چاہتے ہیں ، اگر عائشہ اپنے الزاما ت ثابت کر نے میں ناکا م ہو جا تی ہیں تو ان پر بہتا ن طراز ی کے جرم میںمقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔ عمر ان خان جو پہلے کمیٹی کے مخالف تھے یکا یک انہو ں نے کر وٹ کیو ں بدلی ایک تو ا ن کو یقین ہو گیا ہے کہ جو دھو نس دباؤ عائشہ پر ڈالا گیا تھا وہ کا ر گر نہیں ہو پا یا جس کے بعد خود کو اس اسکینڈل سے پاک کرنا ضروری ہو گیا ہے اور چونکہ یہ معاملہ ایک سیا سی جماعت کے اندر کا ہے اس لیے وہ پارلیمانی کمیٹی میں یہ مو قف اختیا رکر نے کاارادہ رکھتے ہیں کہ اس سارے معاملے کا تعلق پارلیما ن سے نہیں ہے پا رٹی رہنما ؤں کا بیچ کا معاملہ ہے رکن پارلیما ن کا استحقاق اس وقت مجر وح ہو تا کہ بحیثیت رکن پارلیمنٹ یا پا رلیمان کے احاطے کے اندر اس کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو جس سے اس کے استحقاق کو زد پہنچی ہو ۔ اب دیکھنا ہے کہ عمر ان خان کیا موقف پیش کرتے ہیں ویسے وہ پارلیما ن میں حاضر ہونے کا ریکا رڈ نو از شریف کے برابر رکھتے ہیں۔اسی طر ح وہ عدالتو ں میں بھی پیش ہو نا گو ارا نہیں کرتے ۔ اب پتہ نہیں کہ پارلیما نی کمیٹی کے بارے میں ان کا کیا رویہ ہو گا اگر پیش نہ ہوئے تو یہ بھی ان کے لیے نقصان دہ ہو گا پیش نہ ہونے کی صورت میںپارلیما نی کمیٹی کویہ اختیا ر ہے کہ وہ حاضر ہو نے سے انکا ر پر سزا سنا دے ۔ عمر ان خان یہ مو قف اختیا ر کر یں کہ یہ ان کی جماعت کے اندر کا معاملہ ہے اور عائشہ کو اگر کوئی شکا یت ہے بھی تو وہ پارٹی کی لیڈر شپ سے ہے عمر ان خان کے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے نہیں ہے اور نہ اس نے شکایت یا الزام قومی اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے لگایا ہے ، لیکن یہا ں یہ بات ضروری ہے کہ جو اسکینڈل ان کے خلا ف بن گیا ہے اس میں ان کو خود کو بہر حال شفاف کر انا ہو گا ۔ خود کو بے گنا ہ ثابت کرنا اب عمر ان خان کی ذمہ داری ہے۔ پانا مہ کیس میں ان کا مو قف تھا کہ ان کا کا م الزام لگا نا ہے اس کو غلط ثابت کر نا ان کی ذمہ داری ہے جن پر الز ام لگتا ہے ۔ عمر ان خان کے اس موقف کے بعد عدالت نے یہ ریمارکس دیئے تھے کہ الزام غلط ثابت کر نا ملز م کی ذمہ داری ہے چنا نچہ اس کے بعد پانا ما کیس میں ملو ث افراد نے ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کی ۔اب یہ عدالت کے ریمارکس کی وجہ سے قانو ن بن گیا ہے کہ بے گنا ہی کے ثبوت فراہم کرنا ملزم کی ذمہ داری ہے۔ چنا نچہ اسی بنیا د پر عمر ان خان کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بے گنا ہ ہیں۔ وہ قصور وار نہیں ہیں وہ پاک صاف ہیں ۔