پاکستانی سیاست کی توڑ جوڑ

پاکستانی سیاست کی توڑ جوڑ

قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی آنکھیں بند ہوتے ہی وطن عزیز میں اقتدار کے حصول اور اس کے ذریعے اپنی نسلوں کے لئے دونوں ہاتھوں سے دھن دولت جمع کرنے کی حرص و ہوس اور پشت در پشت سیاست میں اور بالخصوص اقتدار میں لانے اور رکھنے کے لئے جو تگ ودوشروع ہوئی وہ کئی مارشل لاء سے ہوتے ہوئے آج کی پانچ چھ موروثی اور خاندانی سیاست کی صورت میں تکمیل پذیر ہوئی ۔ ہمارے ملک کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں کے تعلیمی نظام میں تعلیم تو تھوڑی بہت لوگوں کو جیسے تیسے ملتی رہی لیکن تربیت (اخلاقیات ) کا سخت فقدان رہا ۔ جوں جوں وقت آگے بڑھتا رہا ، تعلیم محض نام ، کاروبار اور روزگار اور تجارت میں ڈھل گئی ۔ اوپر سے عالمی تہذیب اور مواصلات اورذرائع ابلاغ نے ہم جیسی قوموں کو اس بری طرح سے رگیدا کہ ترقی یافتہ تہذیبوں (مغربی تہذیب وغیرہ ) کی نام نہاد روشن خیالی تو بے دھڑک در آئی لیکن اُن کی اچھی باتیں یعنی تعلیم و تحقیق ، نظم و ضبط ، دیانت داری اور ملک کے ساتھ وفاداری وغیرہ نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وطن عزیز کے ستر سال ہوئے لیکن ہم اس بحث سے نہ نکل سکے کہ خرابی کہا ں ہے ؟۔بہرحال گزشتہ چاربرسوں کے دوران تو بالکل ایک نئی سیاسی صورت حال سامنے آئی ہے ۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد پاکستانی عوام کو شاید ایک دن بھی سکون کا سانس لینے کا موقع نہیں ملا ، کیونکہ تقریباً ساری اپوزیشن پارٹیوں نے انتخابات میں دھاندلی کا رونا رویا ۔ خیر وہ مسئلہ تو وقت گزرنے کے ساتھ پس منظرمیں چلا گیا ، لیکن تاریخ پاکستان میں اسلام آباد کے دھرنے نے ایک ایسی کیفیت پیدا کی جو پاکستانی سیاست نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی ، اس دھرنے سے ہم نے بحیثیت قوم کیا پایا ، کیا کھویا ، یہ مستقبل کے مئورخ کے ذمہ ہے ، لیکن کچھ اثرات آج کے معاشرے پر بھی مرتب ہوئے جس میں سماجی ، معاشی ، مالی اور سیاسی طور پر مثبت اور منفی دونوں پہلو شامل ہیں ۔ اس دھرنے کے عاملین وحاملین اور اس کے رد عمل میں مخالفین نے جو زبان اور انداز تخاطب اختیار کیا ، وہ اردو زبان و ادب اور پاکستانی تہذیب و ثقافت اور سیاسی کلچر پر کام کرنے والوں کی نقدوتحقیق کے لئے ایک اہم موضوع ہے ۔ میری ناقص رائے کے مطابق ہمارے سیاستدانوں اور ان کے پیرو کاروں کا اس حال تک پہنچنے میں جس چیز نے سب سے اہم کردار ادا کیا وہ تعلیم و تربیت ہے ۔ اسلام میں تعلیم کا مقصد ہی اخلاق و تربیت ہے ۔ ہمارے چند ایک سیاستدانوں کے استشنیٰ کے ساتھ کتنے لوگوں کی تعلیمی ڈگری ایسی ہے جس میں قرآن کریم اورسنت رسول ۖ کی خوشبو بھی رچی بسی ہو ۔ زیادہ تر سیاستدان بی اے ہیں اور وہ بھی جس طرح بی اے کر چکے ہیں و ہ بات پہلے ہو چکی ۔ مٹھی بھر لوگ یقینا امریکہ اور یورپ سے بھی ڈگری حاصل کر چکے ہیں لیکن اُن ڈگریوں کا متعلقہ مضمون سے تو تھوڑا بہت تعلق ہو سکتا ہے لیکن اسلامی تہذیب و ثقافت اور سیاست کے اصول و رموز سے اُن کا بہت کم تعلق ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اب اس بات کا بر ملا اظہار کر رہے ہیں کہ آرٹیکلز63,62کو ترمیم کے ذریعے ختم کیا جائے کیونکہ کوئی بھی ان شرائط پر پورا نہیں اُترتا ۔ ایک صاحب نے تو ببانگ دُھل کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی صادق اور امین نہیں ۔ ارے بھائی ! ہمیں بھی معلوم ہے کہ صحیح معنوں میں تو آج کے پاکستانی معاشرے میں کوئی بھی صادق اور امین نہیں لیکن کیا کوشش بھی نہ کی جائے کہ صداقت و امانت کا کم سے کم معیار تو معاشرے بالخصوص معاشرے کو چلانے والوں میں ضرور ہو ۔ آج کے حالات میں ان شرائط کا کم سے کم معیار یہی ہوگا کہ پاکستان کے آئین و دستور کے مطابق تشکیل کر دہ پارلیمنٹ کے منتخب اراکین گناہ کبیرہ ( بدکاری ، قتل ، چوری ، سود خوری ، حرام خوری یعنی کرپشن وغیرہ ) میں ملوث نہ ہو ۔ چھوٹی موٹی خطائیں انسان سے سرزد ہوتی رہتی ہیں کہ آخر انسان خطا کا پُتلا ہے ۔ لیکن کم از کم بہتان اور غیبت و جھوٹ جیسے بڑے گناہوں سے تو بچاجا سکتا ہے ۔پاکستان کے سیاستد ان اگر جھوٹ اور بہتان جیسے گناہوں سے تو بہ کر کے آگے بڑھیں تو ہماری سیاست اور معاشرے میں بہت بڑی اصلاح آسکتی ہے۔ آج کل تین چار بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے کے ارکان پر تہمتیں اور الزامات لگانے کا جو مقابلہ ہے اور پھر ایسے الزامات جس کو ٹی وی چینلز پر کوئی اپنی ماں بہن بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سُن سکتا ، یقینا ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ۔ اگر ہمارے یہ سیاستدان اس بات سے باخبر ہوتے کہ قرآن و حدیث بغیر ثبوت و تحقیق کے الزام لگانے والے کے بارے میں کیا احکام دیتے ہیں اور اس کی کتنی کڑی سز ا دنیا و آخرت میں ہوگی ، تو یقینا اس سے احتراز کرتے ۔ عوام سے درخواست ہے کہ کسی الزام پر بغیر ثبوت کے کان نہ دھریں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے ''اے ایمان والو ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کرو ، ایسا نہ ہو کہ بغیر تحقیق کے تم کسی کو نقصان پہنچائو جس پر تمہیں بعد میں پشیمانی ہو ''۔

اداریہ