سچ کیا ہے ؟

سچ کیا ہے ؟

میں چاہتی تو نہیں تھی کہ اس حوالے سے کوئی بات لکھوں یا کسی قسم کا تبصرہ کروں لیکن چند باتیں ایسی ہیں جو میرے دل و دماغ سے کسی طور محو ہی نہیں ہو رہیں اور سوچتی ہوں تو ہر بار ایک نیا خیال سامنے آتا ہے ۔ اس وقت پا کستان کی سیاست جس راستے پر گامزن ہے ، اس سمت میں کبھی کسی نے نہیں سوچا تھا ۔ عدالت عالیہ نے ایک ایسا تاریخی فیصلہ سنا یا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا سو اتنی حیرت ہے کہ چھ سجھائی نہیں دیتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ دعوے بھی کیئے جارہے ہیں کہ ایسی کئی باتوں کی نشاندہی جاوید ہاشمی پہلے ہی کر رہے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب جاوید ہاشمی کی ان باتوں کا اب بھی کس کس پر کتنا اثر ہور ہا ہے ۔ کیونکہ میاں صاحب کے چاہنے والے جناب جاوید ہاشمی کی باتوں کو حوالے کے طور پر استعمال ضرور کر رہے ہیں لیکن خود ان کی مسلم لیگ (ن ) کے حوالے سے کس قدر خدمات ہیں ان کا کسی کو کوئی احساس ہی نہیں ۔ ایک نئی بات جو پاکستان کی سیاست میں متعارف کروائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی بھی بات نہ بن پڑے تو کسی کے کردار پر کیچڑ اچھالنا کوئی برائی نہیں ۔ میں عمران خان کو ذاتی طور پر نہیں جانتی اور نہ ہی میں عائشہ گلالئی کے کردار سے واقف ہوں لیکن کسی بھی معاملے کی چھان بین میں ثبوت بہت اہم ہو اکرتے ہیں جو اس سارے معاملے میں کہیں موجود نہیں ۔ عائشہ گلالئی کہتی ہیں کہ عمران خان انہیں پیغامات بھیجتے رہے اور اس سب کی عمر چارسال ہے ۔کئی لوگ کہہ رہے ہیں کہ چار سال تک عائشہ گلالئی نے یہ سب کیوں برداشت کیا ؟ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ایسی کسی بھی بیہودہ بات کے بارے میں انکار کے ہی حوالے سے سہی مگر بات کرنا کئی بار بڑا مشکل ہوجاتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ عائشہ گلالئی ایسی ہی مصلحتوں کا شکارر ہی ہوں ۔ ہو سکتا ہے انہوں نے اپنے قریبی لوگوں سے اس بات کا ذکر بھی کیا ہو اور انہیں حسب روایت خاموشی اختیار کرنے کے مشورے دیئے گئے ہوں کیونکہ ایسے معاملات میںکئی بار ایسا بھی کیاجاتا ہے ۔ لیکن پھر یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ عائشہ گلالئی ایک سیاسی ورکر ہیں ،ایک اہم ایم این اے ہیں ۔ لوگوں کے حقوق کی آواز اٹھاناہی ان کا مقصد حیات ہے پھروہ آخر اپنے معاملے میں کیسے خاموش رہیں ؟ ۔ میں نہیں جانتی کہ اس معاملے میں سچ کیا ہے کیونکہ میڈیا یوں عائشہ گلالئی پر چڑھ دوڑا ہے کہ شاید انہیں اپنی بات کہنی مشکل ہور ہی ہو لیکن یہ بھی درست ہے کہ ان کی باتوں میں ان کے جملوں میں کوئی ربط دکھائی اور سنائی نہیں دیتا ۔ ہراساںکیئے جانے کے کئی مقدمات میں نے خود بھی سنے ہیں۔ ان میں ہمیشہ آواز اٹھانے والی عورت کو مسلسل تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اور یہ بھی طے ہے کہ ہراساں ہونے والی عورت کوایکٹ یہ تحفظ فراہم کرتا ہے کہ اس کی بات کو درست سمجھا جائے ۔ اپنا دفاع کرنے کے لئے اگراسکے برخلاف کوئی ثبوت پیش کیے جا سکیں تو وہ پیش کیے جائیں ۔ یہ سب باتیں پاکستان میں عورتوں کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ایکٹ کا حصہ بنائی گئی ہیں ۔ عائشہ گلالئی کی باتوں کو درست بھی سمجھ لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جانب وہ میسج کیے جانے کی بات کرتی ہیں ۔ اور بلیک بیری میسجز کی بات کر رہی ہیں ۔ دوسری طرف وہ خود کو ایک عام فون کا مالک کہتی ہیں اور یہ بھی دعویٰ کرتی ہیں کہ عمران خان نے انہیں بلیک بیری کا فون دینے کے ارادے کا اظہار بھی کیا تھا ۔ عائشہ کے بارے میں یہ بات بھی سنائی دے رہی ہے کہ وہ اسمبلی کے اجلاس باقاعدگی سے اٹینڈنہیں کرتیں ۔ ہو سکتا ہے کہ عمران خان نے انہیں اس حوالے سے کوئی میسجز کیئے ہوں ۔ بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان کی زندگی میں ایسی کوئی کیفیت نہیں جس کے باعث عمران خان کو خواتین کو ایسے پیغامات بھیجنے کی ضرورت محسوس ہو ۔ بہر حال یہ معاملہ تفتیش طلب ہے اور اس کے نتیجے میں ان لوگوں کے تلاش کیے جانے کی بھی ضرورت ہے جو اس معاملے کے اس نہج پر چل پڑنے سے فائدہ حاصل کرنے والے ہیں ۔ اس وقت بات صرف عائشہ گلالئی یا عمران خان کی نہیں ۔ صرف ان کے درمیان بھیجے گئے پیغامات کی حد تک بھی نہیں سوال یہ بھی نہیں کہ یہ پیغاما ت بھیجے گئے یا نہیں یا ان کی وجوہات کیا تھیں ، ان میں کیا زبان استعمال کی گئی ۔ اسکی وجوہات کیاتھیں ۔
اگر یہ سب ہوا تو اسے چار سالوں میں سلجھانے کی کوشش کیوںنہ ہوئی اگر عائشہ لوگوں کے حقوق کی بات کرتی تھیں تو انہیں اپنی عزت کی پاسداری کاخیال اتنی تاخیر سے کیوں آیا اور کیا یہ باتیں پریس کانفرنس کر کے بتائی جانے والی ہوتی ہیں یا نہیں ۔باتیں کئی ہیں اور ان تک پہنچنے کے راستے ان گنت ۔ کیونکہ ہرکوئی اپنی افتاد طبع سے اس بات کا فیصلہ کرے گا ۔ معاملہ اہم اس طرح ہے کہ اس معاملے کا فائدہ اٹھانے والوں نے اگر یہ کہانی گھڑی ہے یا اسے کسی طور استعمال کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ طریقہ کار درست نہیں ۔ مارگریٹ تھیچرنے ایک بار کہا تھا ، اگر آپ کے مخالفین آپ کی ذات پر حملے شروع کردیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس کوئی ایک بھی سیاسی دلیل باقی نہیں رہی ۔ اگر اس پلڑے میں رکھ کر عائشہ گلالئی کی باتوں کو تو لیں اور پھر عائشہ گلالئی کے والد پر لگنے والے الزامات اور ان کی بہن جو سکواش کی کھلاڑی ہیں کے پہناوے کو دیکھ کران کی غیرت کا اندازہ لگا یا جائے تو بات کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہے ۔ اور اگر یہ بات ہے تو شاید اس سے زیادہ گھٹیا بات اور کوئی نہیں ہو سکتی ۔ اور اس کی مذمت بھی انتہائی سخت ہونی چاہیئے ۔

اداریہ