Daily Mashriq


منی لانڈنگ کے خلاف کارروائی

منی لانڈنگ کے خلاف کارروائی

ایمنسٹی سکیم کے تحت بیرون ملک اور اندرون ملک نہ ظاہر کیے ہوئے اثاثوں پر معمولی ٹیکس ادا کرنے کے بعد انہیں جائز بنانے کی آخری تاریخ 31جولائی گزر چکی ہے ۔ اس سکیم سے اگرچہ کئی ہزار پاکستانیوں نے فائدہ اٹھایا۔ تاہم اس کے باوجود بہت سے پاکستانیوں نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے جن کے خلاف کارروائی آج سے شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ ایک خبر یہ ہے کہ قومی احتساب بیورو دوبئی میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کے بارے میں ’’دوبئی لیکس‘‘ جاری کرے گا ۔ اس خبر کے مطابق اندازہ ہے کہ دوبئی میں پاکستانیوں کی دس کھرب روپے کی جائیدادیں ہیں جنہیںاندرون ملک ٹیکس وصول کرنے والے اداروں پر ظاہر نہیںکیا گیا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ فیڈرل بیورو آف ریونیو ڈیڑھ ہزار ایسے پاکستانی باشندوں کو آج سے نوٹس جاری کرنا شروع کر دے گا جن کی جائیدادیں برطانیہ یا متحدہ عرب امارات میں ہیں‘ جنہوں نے ایمنسٹی سکیم کی رو سے پانچ فیصد ٹیکس ادا کر کے اپنی کالی دولت کو سفید کرنے کی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اس طرح منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی تیز تر ہونے والی ہے۔ پہلے مرحلے میں برطانیہ میں جائیدادیں خریدنے والے پاکستانیوں سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے یہ جائیدادیں خریدنے کے لیے سرمایہ کہاں سے حاصل کیا‘ اُنہوں نے اس پر ٹیکس ادا کیا تھا یا نہیں اور آیا وہ ان جائیدادوں کی آمدنی پر ٹیکس ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد دوبئی میں جائیدادوں کے مالک پانچ سو کے قریب پاکستانیوںسے پوچھ گچھ کی جائے گی ۔ منی لانڈرنگ کے خلاف بین الاقوامی رویے کی بنا پر یہ بات قرین قیاس ہے کہ اس سکیم کے تحت بہت سے ایسے پاکستانیوں کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں گی جنہوں نے غیر قانونی طریقے سے سرمایہ حاصل کیا یا غیر قانونی طریقہ سے ملک سے باہر بھیجا اور وہاں ایسے سرمائے سے جائیدادیں خریدیں۔ منی لانڈرنگ اس وقت ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور ایک عالمی تنظیم آرگنائزیشن آف اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے پاکستان نے بھی اس تنظیم کی رکنیت حاصل کر لی تھی۔ اس کی باقاعدہ رکنیت کے حصول کے نتیجے میں آئندہ ماہ سے پاکستان کو بیرون ملک جائیدادیں حاصل کرنے والے پاکستانیوں کے متعلق معلومات حاصل ہونا شروع ہو جائیں گی۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق معلومات بھی اسی تنظیم او ای سی ڈی نے فراہم کی ہیں۔ ان معلومات کی بنا پر نوٹس جاری کیے جانے کے بعد ایسے پاکستانی جن کی برطانیہ میں جائیدادیں ہیں اور وہ ان سے باقاعدہ کرایہ وصول کر رہے ہیں ان اثاثوں کے جائز ہونے کے بارے میں اپنا مؤقف بیان کر سکیں گے لیکن جو وضاحت میں ناکام رہیں گے انہیں نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔ دوسری طرف برطانیہ میں بھی غیر ملکیوں کی جائیدادوں کے بارے میں قوانین کو سخت بنایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں کو برطانیہ میں جائیدادیں رکھنا اور کاروبار برطانوی قانون کے مطابق بنانا پڑے گا۔ جہاں تک ایف بی آر کی کارروائی کا سوال ہے لگتا ہے کہ یہ کارروائی اس وقت شروع ہو رہی ہے جب او ای سی ڈی نے برطانیہ میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کے بارے میں کوائف پاکستان کوفراہم کر دیے ہیں۔ اس پر ایف بی آر کی طرف سے نوٹس جاری کرنے کی جو خبر شائع ہوئی ہے اس میں نہ تو وہ سوال نظر آئے جو ان جائیدادوں اور اثاثوں کے پاکستانی مالکوں سے کیے جائیں گے اور نہ ہی یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوٹس کا جواب دینے کی مدت کیا ہو گی اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ نوٹس کا جواب نہ دینے کی صورت میں کیا کارروائی ہو گی۔ جس کے پاس بیرون ملک اثاثے ہیں اس کے لیے کوئی مشکل نہیں کہ وہ اس کے کوائف فوری طور پر ظاہر کر سکے ۔ یہ معلومات خود اس کے پاس ہیں اور کہیں سے حاصل نہیں کرنی ہیں۔ اس لیے نوٹس کی مدت کم ہونی چاہیے اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ نوٹس کا جواب نہ دینے کی صورت میں کیا کارروائی ہو گی۔ خبر کے مطابق دوسرے مرحلے میں دوبئی میں اثاثوں کے مالک پاکستانیوں سے باز پرس کی جائے گی۔یہ دوسرا مرحلہ کب شروع ہو گا اور کب ختم ہو گا یہ وضاحت نہیں ہے۔ یہ حکمت سمجھ سے بالا تر ہے کہ یہ کام دوسرے مرحلے تک اٹھا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور وہی نوٹس جو برطانیہ میں جائیدادیں رکھنے والوں کو بھیجے جانے مقصود ہیں دوبئی میں جائیدادوں کے مالکوںکو کیوں نہیں بھیجے جا رہے۔ اگر متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایسی معلومات کے تبادلے کا کوئی بندوبست نہیں ہے تو کر لیا جانا چاہیے۔ اور امارات کی حکومت سے ایسے پاکستانیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کاانتظام کیا جانا چاہیے۔ جب ساری دنیامیں منی لانڈرنگ کے خلاف اتفاقِ رائے ہے تو امارات کی حکومت بھی اس سے بے خبر نہیں ہو گی۔ لہٰذا اس کارروائی کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔ نوٹس کی مدت دس پندرہ دن سے زیادہ رکھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور اس کے بعد ضابطے کی کارروائی شروع ہو جانی چاہیے۔ جہاں تک اس خبر کا تعلق ہے کہ نیب ’’دوبئی لیکس‘‘ یعنی ان پاکستانیوں کے بارے میں معلومات افشا کرے گا جن کی دوبئی میں‘ خبر کے مطابق‘ دس کھرب روپے کی جائیدادیں ہیں تو ایسا کوئی اقدام خود اپنے مقاصد کو ناکام بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔ دوبئی لیکس کے مستند ہونے پر سوال اٹھیں گے اور جن کے بارے میںمعلومات افشاء کی جائیںگی وہ اس معاملے کو نیب کی مخالفت کے لیے استعمال کرنے کی طرف راغب ہوں گے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی طرف مائل ہوں گے۔ چند ہی دن میں تحریک انصاف کی نئی حکومت کے قائم ہونے کی توقع ہے۔ تحریک انصاف کی ساری سیاسی جدوجہد کا مرکزی نقطۂ نظر ہی کرپشن کا خاتمہ رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ تحریک انصاف کے متوقع وزیر خزانہ خود اس معاملے کا جائزہ لیں۔ نوٹس کے مندرجات پر غور کریں کہ آیا اس میں کوئی رعایت تو مضمر نہیں ہے۔ ’’دوبئی لیکس‘‘ میں جو حکمت کارفرما ہے تو اس کا جائزہ لیں ۔ چند ہی دن میں نئی حکومت قائم ہونے والی ہے۔ ایف بی آر اور نیب کو ان معاملات کے بارے ‘ نئی حکومت کی نگرانی اور ہدایات حاصل ہونی چاہئیں۔

متعلقہ خبریں