سیلاب کا خطرہ اور پیش بندی

06 اگست 2018

برسات کا موسم زوروں پر ہے۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ بارشوں کا ایک نیا سلسلہ آئندہ ہفتے کے وسط تک شروع ہو جائے گا۔ اس صورت حال میں نگران وزیر اعلیٰ ریٹائرڈ جسٹس دوست محمد کا یہ انتباہ بروقت ہے کہ انتظامیہ کو سیلاب کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مستعد رہنا چاہیے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں تیز بارشیں ہوئی ہیں اور بالائی علاقوں میں بھی مزید بارشوں کی پیش گوئی ہے۔ اگرچہ قدرتی آفات پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے تاہم ان کے نقصانات کو پیش بینی اور بروقت انتظامات کے ذریعے کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ صوبے میں ہر سال برسات کے موسم میں تباہی مچ جاتی ہے۔ لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں ۔ فصلیں او ر مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ جاتے ہیں ۔ مکانات کو نقصان پہنچتا ہے۔ شہروں میں بجلی کی تاروں کے گرنے سے بھی نقصان ہوتا رہا ہے۔دیر تک پانی کھڑا رہنے سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اگرچہ انتظام آفات کا ایک ادارہ موجود ہے تاہم یہ کام تمام اداروں کے باہمی اشتراک عمل کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔ شہروں اور دیہات میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ان کے مکینوں کو قبل از وقت ہی ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں کہ ہنگامی صورت حال میں انہوں نے کہاں پناہ لینی ہے۔ ایسے محفوظ مراکز قائم کیے جانے چاہئیں جہاں شہروں اور دیہات کے لوگ پناہ حاصل کر سکیں۔ ان کی اور ان کے مال مویشی کی رہائش ‘ خوراک اور علاج معالجہ کا پیشگی انتظام ہونا چاہیے۔ آبی گزرگاہوں کو مون سون شروع ہونے سے پہلے ہی صاف کیا جانا چاہیے تھا۔ اب بھی شہروں میں نکاسی آب کی نالیوں کی صفائی کا کام ہنگامی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں ندی نالوںمیں پانی کے بہاؤ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کیا جانا چاہیے۔ تمام اضلاع کے صدر دفاتر میں بھی ہنگامی حالت سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مراکز قائم کیے جانے چاہئیں جہاں سیلابی ریلوں کی رفتار اور رخ کے بارے میں مسلسل اطلاعات بہم پہنچانے کا بندوبست ہونا چاہیے۔ انتظام آفات کے ادارے کا تمام اضلاع‘ تحصیلوں اور یونین کونسلوں سے رابطہ ضروری ہے‘ خاص طور پر ایسے مقامات سے جہاں ماضی میں سیلابی ریلے آتے رہے ہیں۔ تاکہ کسی ہنگامی صورت حال کی بروقت اطلاع موصول ہو سکے اور اس کے لیے ایمرجنسی امداد فراہم کی جا سکے۔ تمام ایسی آبادیوں جو سیلابی ریلوں کی زد میں ہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جانا چاہیے اور ان آبادیوں کی نگرانی کے لیے عملہ تعینات کیا جانا چاہیے۔ ایسے ہنگامی مراکز میںجہاں سیلاب کا خدشہ ہو فوری طبی امداد کے مراکز اور عارضی ہسپتال قائم کیے جانے چاہئیں۔ خدا کرے کہ سیلاب سے نقصانات نہ ہوں اور مون سون کا موسم خیریت سے گزر جائے۔ تاہم سیلابی ریلے اگر فوری نقصان کے بغیر گزر بھی گئے تو ان سے فصلوں اور مال مویشی کا جو نقصان ہونا ممکن ہے اس کے ازالے کا بندوبست کیا جانا چاہیے اور ان کے پانی کے کھڑے رہنے کی وجہ سے صحت عامہ کے لیے جو خدشات ہو سکتے ہیں ان کے ازالہ کا بندوبست یقینی بنایا جانا چاہیے۔ بروقت انتظامات اور احتیاطی اقدامات سے مون سون کی بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے ۔

مزیدخبریں