Daily Mashriq


انڈیا سے آیا ’’ٹھنڈا گوشت‘‘

انڈیا سے آیا ’’ٹھنڈا گوشت‘‘

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں اچھی اور بری دونوں چیزیں ایک ساتھ چلتی ہیں۔ ہم زکواۃ خیرات بھی کرتے ہیں، حج عمرے میں بھی ہماری تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے، ہماری مسجدیں بھری ہوتی ہیں، ہم دوستیاں اور وفاداریاں بھی نبھاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم ظلم بھی کرتے ہیں، دوسروںکا حق بھی مارتے ہیں، قبضہ گروپ بھی ہم ہی ہیں۔ کمال کی بات کہ ہم جس طرح اپنی اچھائیوں اور نیکیوں کا چرچا کرتے ہیں اسی طرح ہم اپنی برائیوں پر بھی نالاں نہیں ہیں۔ ہم اپنی نیکیوں کا پرچار کرکے دوسروں کو نیکی کی طرف لانے کی تلقین تو کرتے ہیں جو اچھی بات ہے لیکن کسی کو ہم برائی سے منع نہیں کرتے بلکہ ہم برائی اس شان سے کرتے ہیں کہ دوسرے کو اس سے برائی کرنے کی ترغیب ہوتی ہے۔ ہم بہت سے ایسے شعبوں میں اپنا کیرئیر بنانا چاہتے ہیں کہ جن میں حلال کی کمائی سے گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو لیکن اوپر کی آمدنی اتنی کہ نئی نسل اسی شعبہ میں جانا چاہے۔ مسئلہ سارا سسٹم کا ہے۔ ہمارا سسٹم اس حالت تک پہنچ چکا ہے کہ جو جس کا دل کرے کرتا رہے۔ کچھ دنوں پہلے ایک قصاب کے پاس گیا تو صبح سویرے اس نے فریزڈ گوشت ٹانک رکھا تھا۔ تازہ گوشت اس کے مطابق شام کو آتا ہے۔ شام کو گیا تو پھر وہی فریزڈ گوشت موجود تھا۔ گویا چار پانچ چکروں میں اس کی دکان پر مجھے تازہ گوشت نظر نہ آیا۔ کل ایک دوست نے بتایا کہ انڈیا سے کنٹینر بھر کر فریزڈ گوشت قانونی طریقے سے امپورٹ ہوتا ہے جو بڑے بڑے ایئرکنڈیشنڈ کنٹینرز میں پڑا رہتا ہے اور شہر بھر کے قیمہ فروش، ہوٹل والے اور قصاب یہی گوشت خریدتے ہیں۔ مجھے کسی بھی امپورٹڈ گوشت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ دکاندار مجھ پر تازہ گوشت کے نام پر امپورٹڈ گوشت کیوں بیچ رہا ہے جبکہ وہ مجھ سے تازہ گوشت کے پیسے لے رہا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ قیمے والا، قصاب اور ہوٹل والا جو یخ بستہ کنٹینر سے امپورٹڈ گوشت خرید رہا ہے وہ یقینا تازہ گوشت سے ارزاں مل رہا ہوگا جبکہ وہ مجھ پر چارسو روپے کلو کے حساب پر بیچ رہا ہے۔ مجھے کنٹینر والے سے بھی کوئی گلہ نہیں وہ تو اپنا مال مناسب دام پر بیچ رہا ہے۔ میرا دکاندار کیوں مجھ سے چیٹنگ کر رہا ہے۔ وہ انڈیا کے گوشت کو انڈیا کا گوشت کہہ کر بیچے اور اسی مناسبت سے منافع بھی کمائے جس نے لینا ہوگا وہ لے گا جس نے تازہ گوشت لینا ہے وہ تازہ خریدے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس موقع پر سسٹم کہاں ہے؟ وہ ادارے کہاں ہیں جو عوام کی صحت، ان کی کنزیومر شپ کے ضامن ہیں۔ جب مجھ جیسے ایک عام شہری کو معلوم ہے کہ انڈیا کا گوشت مارکیٹ میں کھلے عام بک رہا ہے تو اداروں کو کیونکر معلوم نہ ہوگا۔ کیا ان اداروں نے انڈیا کے گوشت کی کوالٹی چیک کی ہے؟ کیا وہ کھانے کے قابل ہے؟ کیا ان کنٹینر والوں نے شہری حکام سے انڈیا کا ٹھنڈا گوشت بیچنے کی پیشگی اجازت لی ہے؟ اگر اجازت لی ہے تو یہ ادارے اس بات کو انشور کر رہے ہیں کہ یہ سستا گوشت سستے داموں ہی بکے گا اور کیا یہ ادارے اس بات کی بھی گارنٹی دے سکتے ہیں کہ اس فریزڈ گوشت کو مطلوبہ معیار کے مطابق فریز کیا تھا۔ عجیب بات ہے کہ امپورٹر خود ہی اپنی مرضی سے مال امپورٹ کر رہا ہے۔ دکاندار بغیر کسی جھجھک اور ڈر کے یہ گوشت خرید رہا ہے۔ قیمہ اور کباب بنا رہا ہے اور ہم چٹخارے لے لیکر کھا رہے ہیں۔ ادارے اپنی نوکری کر رہے ہیں ایک آدھ چھاپہ مار سوشل میڈیا پر لائیکس بٹور رہے ہیں۔ شاید ہی دنیا میں ایسا کہیں ہوتا ہو۔ عوام باخبر ہوکر بھی مٹی پاؤ کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔ کس کو پڑی ہے کہ کوئی آواز اُٹھائے۔ اخبار نے خبر بھی لگا دی اور کالم نگار نے کالم لکھ دیا so What بھاڑ میں جائیں سب۔ ہم مٹی اور گرد وغبار اپنے پھیپھڑوں میں اُتارنے والی مخلوق ہیں۔ جنہیں شوارمے میں مردہ چکن کا ذائقہ بھی لذیذ لگتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے گوشت کا فرق بھی ہم کیسے معلوم کر سکتے ہیں۔ ہم نے یوں بھی تازہ گوشت کوگھر لے جا کر فریز ہی کرنا ہے سو وہی گوشت انڈیا سے جما ہوا مل جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ مردہ اور زندہ مرغی میں بس سانس ہی کا تو فرق ہے باقی گوشت تو گوشت ہی ہوتا ہے۔ کھانے سے پہلے یوں بھی تو مرغی کو حلال کرنا ہی ہوتا ہے۔ سو ایک آدھ پک اپ اگر مردہ مرغیوں کی پکڑی جاتی ہے تو بھی ہم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ کون سوچے کہ مردہ مرغیوں کی دو پک اپس پکڑی گئیں ہیں تو روز کتنی ٹھکانے بھی لگتی ہوں گی۔ جن کی ہم سجیاں، کڑاہیاں، شوارمے اور نہ جانے کیا کیا کچھ کھا چکے ہوں گے۔ زندگی موت، بیماری اور شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے سو ہم توکل کر لیتے ہیں حالانکہ اندھیرے میں پڑے پانی کو بھی دیکھ کر تحقیق کرکے پینے کا حکم آیا ہے۔ ہماری کوئی کمیونٹی ہی نہیں ہے کہ جہاں شہری حقوق کی بات کی جائے۔ سو ’’افسران بالا‘‘ ہی کے ذمے سب کچھ ڈال دیا گیا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں افسر ہونا خود ایک عجیب کیفیت ہے کہ افسر ہوکر کام کرنے کو جی ہی نہیں کرتا اور اگر جی کرے بھی تو جی کا کیا ہے کہ وہ کیا کام کرنا چاہتا ہے۔ یوں بھی ہمارے ایک افسر نے حالیہ الیکشن میں صرف پشاور شہر کیلئے ایک ہزار کفن بھی تیار کرلئے تھے۔ یقینا قابل داد ہیں کہ انہیں اتنے دور کی سوجھی۔ بہرحال افسر لوگوں کو رعایا سلام ہی کہہ سکتی ہے سو ہمارا بھی سلام، لیکن ٹھہرئیے یہ افسران بالا بھی تو قیمے اور یہی کباب کھاتے ہوں گے کم ازکم اپنے ہوٹلوں، دکانوں کو ہی چیک کرلیں۔۔۔

متعلقہ خبریں