Daily Mashriq


فارسی زبان کی ترویج اور شہر ہفت زبان

فارسی زبان کی ترویج اور شہر ہفت زبان

پشاور کو جہاں گلابوں کا مسکن اور پھولوں کا شہر کہا جاتا ہے کہ یہ خطاب اس شہر کو مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین بابر نے دیا تھا جو ہندوستان پر حملے اور یہاں اپنی سلطنت قائم کرنے کے ہنگام پہلے پڑاؤ کے طور پر اس شہر میں براجمان ہوا اور چہار جانب گلابوں اور دوسرے پھولوں کے قطعات دیکھے تو اس کا دل یہاں سے کوچ کرنے کو نہیں کر رہا تھا مگر ایک بڑے مقصد یعنی مغلیہ بادشاہی قائم کرنے کیلئے اس نے اپنے دل پر پتھر رکھ لیا، تاہم اس شہر کو ایسا لقب عطا کیا کہ اسے تاریخ آج بھی نہیں بھولی جبکہ ہندوستان، افغانستان کے سنگم پر واقع اس شہر نے وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت کیلئے بھی اسے پہلے پڑاؤ کے طور پر اہمیت دلائی، اس کی وجہ سے قدیم پشاور میں قائم تجارتی سراؤں اور ان میں قیام کرنے والوں کی ضرورتوں نے اسے کئی زبانوں سے روشناس کرایا۔ ان قافلوں میں جہاں ہندوستان کے دور دراز سے آنے والے تاجروں کی بھرمار ہوتی تھی جو مختلف زبانیں بولتے تھے تو وسط ایشیائی ریاستوں سے آنے والے قافلے بھی ہوتے تھے جو فارسی، ترکمن، ازبک، تاجک اور دیگر مختلف زبانیں بولتے تھے، یوں پشاور میں قیام کے دوران زبانوں کا ایک گلدستہ وجود میں آنے لگا۔ اسی وجہ سے اس شہر کو شہر ہفت زبان بھی کہا جانے لگا۔ چونکہ وسط ایشیائی ریاستوں کی جانب سے آنے والے حملہ آور اپنے ساتھ فارسی، ازبک اور اسی قبیل کے دیگر سپاہیوں کو لے کر آتے تھے اس لئے ان کی حکمرانی کے ادوار میں فارسی زبان کو بطور خاص غلبہ رہا کیونکہ آنے والے حکمرانوں کیساتھ جو سپاہی آتے ان میں دیگر زبانیں تو بولی جاتی تھیں تاہم یہ سب لوگ فارسی بھی جانتے تھے اور فارسی زبان وادب کا غلبہ ان لوگوں کے اپنے علاقوں میں بھی تھا یہی وجہ ہے کہ مغلیہ سلطنت کے قیام کے بعد فارسی کو سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے بعد زیادہ تر اسی زبان کا چلن رہا، یہاں تک کہ ہندوستان کے طول وعرض میں فارسی ہی کا بول بالا ہوگیا تھا اور انگریزوں کے برصغیر پر قبضے تک فارسی زبان ہی کا توتی بولتا رہا۔ انگریزوں نے جب یہ دیکھا کہ پورے برصغیر میں حصول علم کیلئے زیادہ تر فارسی اور عربی کا رواج ہے تو انہوں نے ایک سازش کے تحت فارسی کی جگہ انگریزی زبان کو رواج دینے کی بنیاد رکھی، یوں فارسی کو دوسرے درجے کی زبان بناتے ہوئے آہستہ آہستہ معدوم کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد فارسی اور عربی کو درس وتدریس میں اختیاری زبانوں کے طور پر ہی رکھا جانے لگا حالانکہ برصغیر کے مسلمانوں کے تہذیبی اور سماجی روابط کی جڑیں عربی اور خاص طور پر فارسی زبان وادب اور معاشرتی اقدار میں پیوست تھیں۔ یہاں تک کہ برصغیر میں جو زبان ریختہ سے ہوتے ہوئے بالآخر اُردو کی شکل میں ڈھلتی چلی گئی اس میں قدیم ہندوستان کی دیگر زبانوں اور بولیوں کیساتھ ساتھ عربی اور فارسی کی آمیزش نے اسے ایک ترقیافتہ زبان بنانے میں اہم کردار ادا کیا، مگر جب انگریزوں نے عربی اور فارسی کے برعکس انگریزی کو رواج دے کر درسی زبانوں میں محولہ دونوں زبانوں کو دوسرے درجے پر رکھا تو ایک لحاظ سے مسلمانوں کی تہذیبی اقدار پر کاری ضرت لگانے میں کامیابی حاصل کی اور جب برصغیر کو آزادی ملی تو بھی یہاں انگریزی کو ہی اولیت حاصل تھی، اس کے بعد تو عربی صرف مدارس کی زبان بن کر رہ گئی البتہ فارسی کسی نہ کسی حد تک زندہ رہی کیونکہ اس کی جڑیں ہمارے ادب اور خصوصاً شاعری میں گہرائی تک پیوست تھیں اور اب بھی دیکھا جائے تو اس ادیب، انشاء پرداز اور شاعر کے کلام اور تحریروں میں فنی پختگی دیکھی جا سکتی ہے جسے فارسی سے کچھ نہ کچھ آشنائی ہوتی ہے۔ قدماء کے کلام کو دیکھا جائے تو وہ بھی اپنی زباندانی پر فخر کرتے ہیں جیسا کہ داغ دہلوی نے کہا ہے

اُردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

مرزا غالب بھی اپنی اُردو شاعری کی نسبت فارسی کلام پر فخر کرتے ہیں اگرچہ فارسی کی نسبت وہ اُردو شاعری کے حوالے سے زیادہ جانے جاتے ہیں لیکن ان کے اُردو کلام پر بھی فارسی کا غلبہ آسانی کیساتھ دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے، فارسی کیساتھ جو ناروا سلوک انگریزوں کے بعد خود ہمارے ہاں کیا گیا اس کا توڑ ایوبی دور میں پاکستان کے بڑے شہروں میں ایران کی جانب سے پاکستان کیساتھ دوستی کے رشتے مضبوط بنانے کے سمے یوں دیکھنے میں آیا جب دونوں بلکہ ترکی بھی علاقائی تعاون تنظیم آر سی ڈی کے تحت ایک دوسرے کے قریب آئے اور کراچی، کوئٹہ، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں خانہ فرہنگ ایران کے نام سے ثقافتی مراکز قائم کئے گئے جہاں نہ صرف ایرانی ثقافت اور زبان وادب کی ترویج کیلئے سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا اور فارسی زبان سکھانے کیلئے ایرانی اور پاکستانی ماہرین زبان کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے ایرانی لٹریچر سے مقامی افراد کو بہرہ ور کرنے کی کوششیں کی گئیں، فارسی کلاسز کیساتھ ساتھ ادبی سیمنارز، مشاعرے، مباحثے بھی منعقد کئے جانے لگے۔ اس ضمن میں ایران سے آنے والے ماہرین زبان وادب کیساتھ ساتھ مقامی تعلیمی اداروں سے بھی اہم اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں، ماضی میں ڈاکٹر غلام حسین ریاحی، ڈاکٹر غلام حسین فرگام جیسی نابغہ روزگار شخصیات پشاور میں قائم ایران کلچر سنٹر کیساتھ وابستہ رہیں جبکہ آج کل ڈاکٹر عباس فاموری (ایران) کیساتھ ڈاکٹر غیور حسین جو مقامی باشندے ہیں، فارسی زبان وادب کے فروغ کیساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے مابین دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو ایران کلچر سینٹر فارسی کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں