Daily Mashriq


یہودی اور مسلمانوں میں فرق

یہودی اور مسلمانوں میں فرق

سینکڑوں سال سے یہودی امریکہ میں آباد ہیں مگر آج تک انہوں نے اپنے رہن سہن، ثقافت، زبان اور کلچر کو تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی کسی اعتبار سے امریکی سوسائٹی میں مدغم ہونے کی کوشش کی۔ وہ امریکہ کے جس شہر میں رہتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ ایک مخصوص علاقے میں اکٹھے رہیں۔ اسرائیل کے یہودیوں کے تحفظ اور اسرائیل کے استحکام کی اصل جنگ امریکہ میں مقیم یہودی لڑتے ہیں۔ اسرائیل میں وقوع پذیر ہونے والے معمولی واقعہ کے ردعمل میں امریکی یہودی یک جان ہو جاتے ہیں۔ امریکی یہودی اپنی اولاد کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، ان کو یہ بھی سہولت حاصل ہے کہ امریکہ کے ہر بڑے شہر میں ان کے اپنے ذاتی سکول، کالج، یونیورسٹیاں اور ہسپتال ہیں جہاں کا زیادہ تر عملہ یہودی ہے۔ ان سکولوں میں یہودی بچوں کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے اور نصاب کے مرتب کنندہ زیادہ تر یہودی ہیں جو مذہبی روایات کی روشنی میں بچوں کی تربیت کرتے ہیں۔ نیویارک شہر میں جسے جرائم کا بادشاہ کہا جاتا ہے وہاں پر یہودی مجرموں کی شرح صفر ہے۔ نیویارک شہر میں جہاں رات گئے تک سفید فام امریکی اور کالے امریکی اور ایشیائی بچے آوارہ گردی کرتے نظر آتے ہیں مگر وہاں پر آپ کبھی بھی امریکی یہودیوں کے بچے کو نہیں دیکھیں گے۔یہ نہیں کہ سارے یہودی اور ان کے بچے اچھے ہیں بلکہ اس قسم کے اقدام سے وہ دنیا کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ انتہائی اچھی قوم ہیں۔ امریکی یہودی اپنی بیٹی کے سن بلوغت کو پہنچتے ہی شادی کرتے ہیں جو بے راہ روی سے باز رہنے کا واحد راستہ ہے اور آج کل ہمارے نام نہاد دانشور اور قلم کار شادی بڑی عمر میں کرنے کا مشورہ دیتے اور ان کی حمایت میں مہم چلاتے ہیں جس کی وجہ سے جنسی جرائم اور سماجی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ نیویارک کے شمال میں چالیس میل کے فاصلے پر Kiryosjoel نامی ایک گاؤں آباد ہے اس میں اکثریت یہودی کروڑ پتی اور ارب پتیوں کی ہے اور ان کی تعداد 12000 ہے۔ یہ وہ جگہ اور علاقہ ہے جہاں پر ایف16 جہازوں کی فیکٹری بھی ہے مگر یہاں پر یہودی بچوں کو خا لصتاً مذہبی ماحول میں تعلیم دی جاتی ہے اور عورتیں صدیوں پرانے لباس میں نظر آتی ہیں اور کوئی مرد دا ڑھی کے بغیر ملنا مشکل ہے۔ یہودیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کسی اور مذہب کے بچوں کو داخل نہیں ہونے دیتے۔ آئن سٹائن جو ایک یہودی سائنسدان تھا، انہوں نے اپنی تصنیف مائی لیٹر ڈے، جس کی اشاعت 1950 میں ہوئی، لکھا ہے میری صیہونیت سے محبت اور یہودی ازم سے وابستگی تقاضا کرتی ہے کہ دنیا بھر میں یہودیوں کا کوئی خاص وطن نہ ہو جو مخصوص سرحدوں تک سکڑ جائے۔ ہمیں تو ایسی مملکت کے حصول کیلئے راہیں ہموار کرنی چاہئیں جس کی سرحدیں ساری دنیا پر محیط ہوں اور جس کی فوج ساری دنیا کو اپنی تابع کر سکے۔ حال ہی میں امریکی سپریم کورٹ کو صدیوں پرانا سوال درپیش ہوا کہ یہودی کون ہے۔ مدتوں سے یہ سوال جواب دینے والوں کیلئے دردسر بنا ہوا ہے۔ پرتگالی زبان کی لغت میں ’’یہودی دھوکہ باز‘‘ کو کہتے ہیں۔ قدیم ویبسٹر ڈکشنری میں فعل ’’یہودی کرنا‘‘ کے معنی ہیں سودا کرنا یا دھوکا دینا۔ اس وقت انفرادی طور پر دنیا میں1892 لوگوں کو نوبل انعام دئیے گئے جس میں 22فیصد یہودی ہیں جبکہ اس کے برعکس مسلمانوں کو صرف 10نوبل انعام ملے ہیں جبکہ یہودیوں کی آبادی 13ملین اور مسلمانوں کی آبادی 1.8ارب ہے مگر بدقسمتی سے مسلمان آپس میں اُلجھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہیں۔ اگر ہم یہودیوں کی عادات اور اطوار کا جائزہ لیں تو مندرجہ بالا بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہودی گوکہ مسلمانوں اور دوسری قوموں سے نفرت کرنے والی قوم ہے اور ان میں احساس برتری زیادہ ہے مگر اس کے باوجود بھی یہودیوں نے مسلمانوں کی طر ح عصری تعلیم اور علوم، کلچر، روایات اور ثقافت کو چھو ڑا نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں یہودی آگے نہ ہوں اور یہ سب کچھ ان کی محنت، اپنی قوم کیساتھ دیانتداری اور اپنے مذہب اور روایات کیساتھ لگاؤ کی وجہ سے ہے۔ یہودی ایک ظالم شاطر، نفرت کرنے والی اور فلسطینیوں پر ظلم اور ستم ڈھانے والی قوم ہے اور اس کو شکست دینے اور کمزور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی600 ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ مسلمانوں کو اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت مذہبی جذبے سے کرنی چاہئے۔ دنیا کی جتنی بھی اخلاقی طور پر گندی ایجادات ہیں وہ یہودیوں کی ہیں مگر دوسری قوموں اور لوگوں کو تو وہ خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر بھرپور توجہ دیتے ہیں۔ ہم مسلمان نہ تو ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ اگر ہم نے یہودیوں کو کمزور کرنا ہے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ تعلیم کیساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیں اور تعلیم اور دوسرے میدانوں میں یہودیوں کا مقابلہ کریں۔

متعلقہ خبریں