Daily Mashriq


پاکستان کی شناخت واستحکام اور نئی حکومت

پاکستان کی شناخت واستحکام اور نئی حکومت

کسی بھی ملک کو مضبوط بنیادوں پر قائم رکھنے اور چلانے کیلئے فعال لیڈرشپ جو تازہ توانائی سے لیس ہو، ازحد ضروری ہے۔ دیانتدار اور مخلص قیادت پوری قوم میں اخلاص کیساتھ تعمیر ملک کی طرف اپنے قول وفعل (جس میں ہم آہنگی ہوتی ہے) کے ذریعے متوجہ کرتی ہے۔ وہ توانائی اور جذبہ محرکہ جو قائداعظمؒ اور آپ کے مخلص ساتھیوں کے طفیل قوم کو حاصل ہوا تھا، یحییٰ خانی نحوست کے سبب ضائع ہو گیا اور پاکستان کی سا لمیت بنگلہ دیش کے قیام اور پختونستان تحریک کے سبب بُری طرح متاثر ہوئی اور قوم پر سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے پژمردگی اور سکوت طاری ہوگیا۔

لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں قوم کو ایک نیا جذبہ، نئی توانائی اور دوبارہ سے اُٹھنے کی ہمت ملی۔ آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان سخت کشمکش اور پھر مشرف کی مارشل لاء پر اُن برسوں میں دہشتگردی کیخلاف جنگ اور افغانستان کے حالات نے پاکستان کو بالخصوص پوری امت کو بالعموم جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ خدا خدا کر کے مشرف سے نجات ملی لیکن آصف زرداری اور نواز شریف کے دو جمہوری ادوار میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ان دونوں ادوار میں کرپشن نے قوم کو عجیب مایوسی میں مبتلا کر دیا اور لوگ دونوں بڑی پارٹیوں سے منہ موڑتے ہوئے عمران خان کی طرف امید کی نگاہوں کیساتھ متوجہ ہوئے۔ جس کا نتیجہ 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ ووٹ ملنے کی صورت میں نکلا۔ خدانخواستہ اس موقع کو گرینڈ اپوزیشن میں شامل بعض شخصیات کی ذاتی انا یا مفادات نے ضائع کیا تو ملک کے نوجوانوں میں بڑی مایوسی پھیلے گی۔ پاکستان جیسے نظریاتی سٹریٹجک اہمیت کے حامل اور بڑے ملکوں کے پڑوس میں ہونے کے سبب دشمنان پاکستان کی بہترین انوسٹمنٹ ہوتی ہے۔ وہ مایوس نوجوانوں کو محرومیوں کا احساس دلا دلا کر گمراہ کرنے کا موقع ضائع نہیں کرتے۔ دہشتگردی کے گزشتہ عشرے کے فیز میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی موجودگی کا یہی سبب تھا۔

پاکستان کی نظریاتی شناخت کیلئے اس بات پر کڑی نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کے آئین کی دوسری ترمیم کی ریورسل (Reversal) یا ڈائیلوشن(Dilution) کسی صورت نہ ہونے پائے ورنہ پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گی اور مغربی طاقتوں کو یہ چیز بہت کھٹکتی ہے۔ لہٰذا پی ٹی آئی کی حکومت اس پر کبھی اور کسی صورت کمپرومائز کا اشارہ بھی نہ دے۔ پی ٹی آئی حکومت کیلئے دوسرا اہم نکتہ جس کیلئے حصول پر ان کی بقا اور تسلسل کا انحصار ہے وہ نظریاتی شناخت اور استحکام کیلئے اقتصادی ترقی کے حصول کا ہدف ہے۔ جس کیلئے مضبوط اور دیانتدار انتظامی سٹرکچر کی شدید ضرورت ہوگی۔ مختصر مگر ماہرین فن افراد پر مشتمل کابینہ رکھ کر اس ٹارگٹ کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسد عمر خزانہ کیلئے بہترین آدمی ثابت ہوںگے کیونکہ وہ مالیات کا تجربہ رکھنے کے علاہ اس شعبے سے متعلق جدید عالمی ویژن کے بھی حامل ہیں اور عوام کے مسائل کا حل بھی اقتصادی ترقی میں مضمر ہے۔عمران خان پر امریکہ، مغرب اور جاپان وغیرہ کی طرف سے پاکستان کی ڈی نیوکلیرائزیشن کے حوالے سے دباؤ آسکتا ہے، معاشی امداد اور قرضوں کی معافی وغیرہ کی پیشکش بھی ہوسکتی ہیں لیکن یاد رکھنا ہوگا کہ ایٹمی طاقت کی حفاظت پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کیلئے ناگزیر ہے۔ بھارت جیسے ملک کے پڑوس اور اسرائیل جیسے ملک کے تسلیم نہ کرنے سے پاکستان نے بڑے مصائب جھیلے ہیں اور جھیل رہا ہے۔ اہل بصیرت کو انڈیا کا کولڈ سٹارٹ آپریشن یاد ہے۔ پاکستان ٹیکٹیکل ہتھیار نہ دکھاتا تو بھارت کا یہ بہت خطرناک منصوبہ تھا اور اس قسم کے منصوبے بھارت اور اسرائیل کے دماغوں میں خناس بن کر پھر رہے ہیں۔ لہٰذا ’’سب سے بڑھ کر پاکستان‘‘ کیلئے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی ترقی اور حفاظت فرض ہے۔عمران خان کیلئے ایک اور اہم نکتہ سی پیک پروگرام کی حفاظت اور ترقی وتکمیل ہے۔ امریکہ کی طرف سے آئی ایم ایف پر دباؤ اور پاکستان کو قرض دینے میں چین کا ذکر سی پیک کے سبب ہے۔ اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان جو معاشی اور تجارتی کشمکش ہے وہ خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ پاکستان اور عمران خان کو یاد رکھنا ہوگا کہ چین کیساتھ تعلقات اور سی پیک کی جلد تکمیل پاکستان کی معاشی اور سٹریٹجک ترقی وحفاظت کیلئے اس وقت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ چین کیساتھ ہمارے تعلقات اس وقت ’’سارا جہاں ایک طرف جوروکا بھائی دوسری طرف‘‘ کے مصداق ہے لیکن امریکہ کیساتھ بھی بچ بچا کر اور اپنے مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے متوازن خارجہ پالیسی کے تحت خواہ مخواہ کی مخالفت یا دشمنی مول لینا کسی طرح بھی مبنی بر حکمت نہیں۔ آخری نکتہ یہ ہے کہ عمران خان مشرقی اور مغربی سرحدوں میں فرق کو ماہرین سرحدات سے سمجھنے کیلئے ایک دو سبق ضرور لیں۔ پاکستان کی مشرقی سرحد (بھارت کیساتھ) نظریاتی سرحد ہے، اس کو ہر صورت محفوظ اور مضبوط رکھنا ضروری ہے جبکہ مغربی (افغانستان اور ایران کیساتھ) انتظامی ہے، ان دونوں کیساتھ اسلامی برادری کی بنیاد پر مضبوط انتظامی لیکن اوپن بارڈرز کی پالیسی تینوں ملکوں کی تجارتی معاشرتی اور عملی استحکام وترقی کیلئے بہت ضروری ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنی حکومت میں یہ پانچ اہداف حاصل کرلے تو پاکستانی عوام کی بڑی خدمت ہوگی۔

متعلقہ خبریں