Daily Mashriq

''باپ''سے ''پاپ''تک کا سفرکیسے طے ہوا؟

''باپ''سے ''پاپ''تک کا سفرکیسے طے ہوا؟

قبائلی علاقے جب خیبرپختونخوا میں ضم ہورہے تھے تو ہم سمجھ رہے تھے کہ قبائل اوران کے منتخب نمائندے کچھ عرصے میں ملک کی مین سٹریم جماعتوں میں رہتے رہتے ان سے سیاست سیکھ لیں گے لیکن یہ کیا خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں منتخب ہوکربلوچستان عوامی پارٹی یعنی "باپ "میں جانے سے تو انہوں نے بڑا بھاری پیغام دے دیا ہے کہ اگرکوئی ان کے ساتھ سیاست کرسکتا ہے تو وہ بھی سیاست کرنا جانتے ہیں۔ ان کا طرز سیاست برا ہے یا اچھا اس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے صوبے کی حکمران جماعت کو مشکل میں ڈال دیا ہے اب وہ قبائلی اضلاع سے منتخب اپنوں اورنئے شامل ہونے والوں کے لئے کابینہ میں شمولیت کی منصوبہ بندی کرتے کرتے "باپ" کو بھی نظراندازنہیں کرسکے گی ورنہ انہیں اس کا خمیازہ نہ صرف آئندہ کے سینٹ انتخابات میں بھگتنا ہوگا بلکہ انہیں بلوچستان میں بھی اس کا جواب مل سکتا ہے ۔

اس کھیل کی قبائلی علاقوں میں شروعات سے ہی یہ بات تو اظہرمن الشمس ہوگئی ہے کہ بات اب " باپ" پرنہیں رکے گی بلکہ اب شاید یہ" پاپ "تک جائے گی یہ "پاپ" کیا ہوگا، لگتا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی سے جب پاکستان عوامی پارٹی بنے گی تو پھر کسی کو چاہے وہ سابقہ فاٹا سے منتخب ہوا ہو یا سندھ و گلگت بلتستان سے، انہیں"پاپ" میں جانے میں کوئی عار نہیں ہوگی۔ یوں بھی کہا جاتا ہے کہ سندھ میں اس کا سب سے افضل اتحادی سابق ناظم کراچی مصطفے کمال کا پی ایس پی ہو سکتا ہے جس کے ساتھ مل کر "پاپ" کے ذریعے سندھ میں پیپلزپارٹی کو لگام ڈالنے کی کوشش کی جاسکے گی۔ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ضلع خیبر سے منتخب شفیق شیر اوربلاول آفریدی کے علاوہ ضلع مہمند سے عباس الرحمن نے جام کمال کے ہاتھ پر"باپ" میں شمولیت اختیارکی ،اب ان کا اتحاد اگر تحریک انصاف کیساتھ بنتا ہے تو ان میں سے دوکو وزارتیں ملنے کا امکان ظاہرکیا جارہا ہے جبکہ ایک کے پارلیمانی لیڈر بننے کی بھی توقع ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ تحریک انصاف نے ان کے ساتھ اتحاد کے امکان کو رد کررکھا ہے اورکہتے ہیں کہ وہ انہیں ساتھ ملانے کی بجائے اپنے نومنتخب اراکین کو کابینہ میں جگہ دینگے۔ لیکن لگتا ایسے ہے کہ تحریک انصاف کو بلوچستان کی طرز پر ''باپ'' کو ساتھ ملانا ہوگا ورنہ آئندہ سینٹ انتخابات میں اس کا نقصان ہوسکتا ہے ۔ ویسے بھی لگتاہے کہ باپ والے بھی بغیر تیاری کے میدان میں نہیں اترے انہوں نے خود تیاری کے تمام مراحل میں حصہ لیا ہے یا ان کیلئے پہلے سے تیاری کی گئی ہے۔

قبائلی اضلاع میں ''باپ'' کیلئے جگہ بننے کے پیچھے صوبے کے حکمرانوں کا ایک بیان بھی جواز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قبائلی اضلاع سے منتخب ہونے والے آزاد ارکان ان کی جیب میں پڑے ہیں اوراسی بیان کو بعض قبائلی اراکین کے ذہن کی ریڈ لائٹ آن ہونے کی وجہ بھی کہا جا رہا ہے جس کے بعد انہوں نے تحریک انصاف کیساتھ اپنے رابطے کم کرکے باپ میں جانے کو ترجیح دی اور یوں اس بیان کی بدولت خود تحریک انصاف مشکل میں پھنس گئی۔

بلوچستان میں باپ کیسے بنی اس کا جائزہ لیکر اس پر بھی روشنی ڈالنی ضروری ہے، ہوا یوں کہ سال 2018 کے انتخابات سے قبل بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم میرظفراللہ جمالی کے بھتیجے، سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین اور فوج سے کیپٹن کے طور پر ریٹائر ہونے والے جان محمد جمالی نے خیال پیش کیا کہ انہیں بلوچستان کی سطح پر ایک مسلم لیگ بنانی چاہئے تاکہ بلوچستان کیلئے اس کا حق حاصل کیا جا سکے یوں یہ جماعت ایک قوم پرست جماعت کے طور پر بنی، جان محمد جمالی کو یقین تھا کہ ان کی رشتے داریوں اور سابق ملازمت کی بدولت اس کا سارا فائدہ انہی کو ہوگا یوں بھی صوبے کے بڑے سیاسی نام کسی نہ کسی معاملے پر ایک دوسرے سے دست بگریبان تھے اس لئے وہ اپنے لئے میدان صاف دیکھ رہے تھے۔بلوچستان کی سیاست کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ وہاں کے پندرہ سے بیس سیاستدان یا تو خود یا اپنے بھائی، بیٹوں اور بھتیجوں کے ذریعے ہر بار اسمبلی پہنچتے ہیں اور وہاں پہنچ کر وہ مسلم لیگ ق یا اس جیسی جماعتوں میں شامل ہو کر اپنی سیاست کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں تاہم وہ وہاں پہنچ کر اپنے لانے والوں کی باتیں من وعن ماننے کی بجائے پارٹی سیاست کے نام پر لیت ولعل سے کام لیتے ہیں اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ اس بار انہیں چوہدری شجاعت جیسے سیاستدانوں کی سرپرستی میں دینے کی بجائے براہ راست ہاتھ کے نیچے رکھنے کا فیصلہ ہوا۔مختصر یہ کہ پی ٹی آئی کیساتھ رہتے ہوئے ایک پارٹی بنانے کا مقصد پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور یہاں تک کہ تحریک انصاف سے بھاگنے والوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے پارٹی کے اگلے سربراہ کیلئے صادق سنجرانی کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ بلوچستان کی سرزمین پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ سمجھے جانے والے محمود خان اچکزئی اور میرحاصل بزنجو کا راستہ روکنے کیلئے بننے والی اس نیشنلسٹ جماعت کو بتدریج فیڈریشن کی جماعت بنانے پر کام جلد شروع ہونے کی توقع کی جارہی ہے تاہم اس کا دائرہ اگر مکمل وسیع ہوتا ہے تو اس میں سب سے زیادہ مشکل انہیں پیش آئے گی جو ریاست کی پالیسیوں سے ناراض ہیں اور وہ پارٹی قیادت پر یہ اعتراض ضرور کریں گے کہ وہ صوبے سے فیڈریشن میں کیوں گئے۔

قصہ مختصر کہ باپ بھی مستقبل قریب میں ملک کی سطح پر مسلم لیگ ق کے طرز کی ایک جماعت بنتی ہوئی دیکھی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں