Daily Mashriq

طورخم بارڈچوبیس گھنٹے سروس !

طورخم بارڈچوبیس گھنٹے سروس !

میرے پیارے صوبہ میں اکثر اشیاء ضروریہ کی قلت ہوتی رہتی ہے حالانکہ صوبے کا نام تبدیل ہوچکا ہے نیا پاکستان بناہے یا نہیں اس صوبہ میں گزشتہ چھ سالوں سے انصاف والوں کی حکومت ہے مگر حالات ابھی تبدیل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔پختونوں کے صوبہ میں اشیاء صرف کی قلت کی یہ کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے یہ تو ٹھیک سے نہیں بتاسکتے مگر جنرل ضیاء الحق کے دور کی افغان جنگ کے بعد جب سے افغانی آئے ہیں تب سے یہ حالات خراب ہوئے اورپھر ان میں شدت ایک اور آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میںنائن الیون کی وجہ سے دوبارہ سے افغان جنگ کے بعد آئی۔افغان مہاجرین کا ہمارے صوبہ میں آجانا ہمیں کبھی ناگوار گزرا ہے نہ ہی ہم اسے برا کہہ رہے ہیںوہ ہمارے اسلامی بھائی ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ہم نے اسلام کالازوال مہاجر اور انصار کا سبق چودہ سو سال کے بعدپھرسے دوہراکر اسے زندہ کردیا ۔پختونوں نے اپنی ہزاروںبرس پرانی روایات کو بھی زندہ رکھا اور مہمانوں کی اس سرزمین پر ان لاکھوں مہمانوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہاتھا۔ہمارے یہاں افغان بھائی جتنا عرصہ تک ہمارے ساتھ رہے ہمارے دل ان کے لئے ہمیشہ کھلے رہے اس وقت بھی ہمیں ہمارے اس اقدام پر خوشی تھی فخر تھا اور اب بھی ہمیں اس پر کسی قسم کا پچھتاوا نہیں ہے ۔ہم نے اپنی زمین گھر بار حتیٰ کہ تجارت بھی اپنے ان مسلمان بھائیوں کے ساتھ شریک کی ۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیںوہ ہمارے اسلامی بھائی ہیں جب تک وہ یہاں رہے ان تمام برسوںمیں ہماری ہر چیز ان کے ساتھ شریک رہی مگر اب جب کہ وہ اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں تو چاہیے کہ وہ اپنے وسائل میں گزارہ کریں نہ کہ وہ مسلسل ہمارے حصہ میں سے اپنا حصہ نکالتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہنا چاہتا ہوں کہ جب سے افغانستان کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات ہوئے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر جو غیر تجارتی تعلقات یعنی کہ سمگلنگ شروع ہوئی ہے اس نے تو نہ صرف صوبے کی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے بلکہ عام آدمی کے لئے بھی اشیاء صرف اتنی مہنگی اور ناپید کردیں ہیں کہ عام آدمی کا جینا دوبھر ہوگیاہے۔ ہمارے صوبہ میں آٹے کا بحران درحقیقت ہمارے اپنے لوگوں کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ آٹے کی افغانستان سمگلنگ سے حالات روز بہ روز دگر گوں ہوتے رہتے ہیں۔جب پورے ملک میں آٹے کی قلت ہوتی ہے اور تمام صوبوں کی راشننگ کی جاتی ہے تو ہمارے صوبہ کا بھی حصہ بقدر حبثہ ملتا ہے مگر کچھ ناعاقبت اندیش اس آٹا کے کوٹہ کو(80% فیصد تک) افغانستان کوغیر قانونی طور پر سمگل کردیتے ہیں جس سے اس پختون صوبہ کے لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔ میرے صوبہ کے جوان' بچے ' بوڑھے مرد و عورتیں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہوکر دن بھر ضائع کرکے چند دنوں کے لئے آٹا خریدتے ہیں۔ ہمارے یہاں سمگلنگ صرف گندم ہی کی نہیں ہوتی بلکہ اکثر اشیاء خوردنی پوری کی پوری یا اکثریت افغانستان سمگل ہوجاتی ہیں۔

اس میں گندم کے علاوہ خوردنی تیل اور گھی سبزیاں اور اب پھل بھی شامل ہوگئے ہیں۔جی ہاں سب کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اکثر پھل تو افغانستان سے آتے ہیں مگر یاد رہے آم ' تربوز' کینواور مالٹے وغیرہ افغانستا ن سے آتے ہی نہیں بلکہ یہاں سے افغانستان جاتے ہیں ہمیں ان کے افغانستان جانے پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ہم بھی پھل افغانستان سے درآمد کرتے ہیں مگر ہمیں اعتراض ہے سمگلنگ سے جس سے پختونوں کے حصے کا راشن بھی بڑے مزے سے وہ کھاجاتے ہیںاور تو اور گوشت اور زندہ جانور بھی سمگل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

ماضی قریب میں پولیٹیکل انتظامیہ کی ملی بھگت سے مویشیوں کی افغانستان سمگلنگ عروج پر پہنچی تھی روزانہ بھینسوں سے بھرے سینکڑوں ٹرک براستہ طورخم سرحد پار کئے جاتے تھے جس کی وجہ سے ملک اور خصوصاً خیبر پختونخوا میں گوشت کی قلت روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔

روان ماہ یعنی اگست 2019ء میں وزیر اعظم عمران خان طور خم بارڈر کو چوبیس گھنٹے کھلے رہنے کی سہولت کا افتتاح کررہے ہیں یعنی دن کے ساتھ ساتھ رات کو بھی بارڈر کھلارہے گا۔حکومت نے اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ طور خم کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں چھ اور بھی بارڈر کھولے جارہے ہیں۔وزیر اعظم صاحب شوق سے طورخم بارڈر کو دن رات کے لئے کھول دیں لیکن ساتھ کے ساتھ سمگلنگ کی روک تھام کے لئے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ عمران خان حکومتی اداروں کو حکم دیں کہ خدارا اس سمگلنگ کی روک تھام کے لئے کچھ عملی اور ٹھوس اقدامات کریں تاکہ مہنگائی کے مارے ہوئے لوگ مزید مہنگی چیزیں خریدنے پر مجبور نہ ہوں پورا پاکستان مزے کررہا ہوتا ہے جبکہ ہمارے صوبہ کے لوگ ایک ایک چیز کو ترستے ہیں پہلے تو گھروں میں ہفتہ میں دو سے تین بار گوشت پک جایا کرتا تھا راتوں رات امیر ہونے کے چکر میں اور چند سکوں کی لالچ ہی سمگلنگ کی وجہ سے گوشت بھی دسترس سے باہر ہے اور حال یہ ہے کہ اب ہفتہ میں ایک روز بھی نہیں ملتا۔

متعلقہ خبریں