Daily Mashriq

اپ سیٹ کی کوشش میں اپ سیٹ

اپ سیٹ کی کوشش میں اپ سیٹ

ایوان بالایعنی سینیٹ آف پاکستان کاموجودہ سیٹ اپ ایک معجزے کی پیداوار تھا ۔ایوان بالا میں عددی اکثریت کی حامل دوجماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اپنے اپنے گھاک اور سرگرم امیدواروں راجہ ظفرالحق اور میاں رضا ربانی کے ساتھ منہ دیکھتی اور ہاتھ ملتی رہ گئی تھیں اور سیاست کے نوآموز اور نووارد صادق سنجرانی نے میدان کچھ اس انداز سے مار لیا تھا کہ پیپلزپارٹی بھی انہی کو اپنا امیدوار بنانے پر مجبور ہوئی تھی۔اس کامیابی کا انتظام یوں ہوا تھا کہ صادق سنجرانی چیئرمین اور پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے تھے اور یوں پرامن بقائے باہمی پر مبنی ایک نظام وجود میں آیا تھا اس سیٹ اپ میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی دونوں کے لئے جیت کا پہلو اور فیس سیونگ کا سامان تھا ۔یہ شاید ان دو جماعتوں کا پہلا اور آخری بالواسطہ تعاون تھا ۔ اس کے بعد دونوں جماعتوں میں کبھی کوئی نقطۂ اتصال قائم نہ ہوسکا ۔سینیٹ کے اس انتظام میں سوائے مسلم لیگ ن کے اور کسی قابل ذکر جماعت کے لئے شکست کا پہلو نہیں تھا ۔ صادق سنجرانی کا پہلا انتخاب ہی ایک اپ سیٹ تھا کیونکہ عددی اکثریت کی حامل اپوزیشن کا ایک دھڑا اپنے امیدوار کو نظر انداز کرکے ایک غیر جانبدار شخص کو چیئرمین بنانے پر آمادہ ہوا تھا ۔ انتخاب کے بعد جلد صادق سنجرانی اپنا ایک قابل قبول امیج بنانے میں کامیاب ہوئے ۔صادق سنجرانی تھوڑا بہت پیپلز پارٹی کا پس منظر بھی رکھتے تھے ۔بلوچ اور بلوچستان سے تعلق ہونے کی وجہ سے بھی وہ ایک معتدل چیئرمین کے طور پر سامنے آئے ۔سال بھر انہوں نے ایوان کو کچھ اس انداز سے چلایا کہ حکومتی ارکان اور وزرا کی سرزنش سے بھی باز نہیں آئے۔ایک وفاقی وزیر فواد چوہدری پر تو انہوں نے سزا کے طور پر ایوان میں داخلے پر ہی پابندی لگائے رکھی ۔جس سے حکومت کبیدہ خاطر بھی ہوئی اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی دبے لفظوں میں اس کا شکوہ کیا ۔اپوزیشن کے سینیٹرز کو بھی سنجرانی سے کبھی کوئی شکوہ نہیں رہا ۔اپوزیشن کے عقابوں کو ایک سیاسی حکمت عملی کے طورپر چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرنے اور اپنی عددی اکثریت کو آزمائشی پرواز کا خیال آگیا ۔ حکمت عملی یہ تھی کہ عددی اکثریت کو آزمانے کا آغاز چیرمین سینیٹ سے کیا جائے اور مرحلہ وار اس عمل کو بلوچستان اسمبلی پھر سپیکر قومی اسمبلی اور پنجاب تک دراز کیا جائے اور یوں عمران حکومت کو پرواز کے پہلے مرحلے میں ہی بے بال وپر کردیا جائے اس کے لئے مزید اُڑان جاری رکھنا ممکن نہ رہے اور حکومت کا گھیرا تنگ کرکے حالات سے اپنی پسند کے نتائج اور مقاصد حاصل کئے جائیں۔اس حکمت عملی کے تحت اپوزیشن نے صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ۔ صادق سنجرانی کے متبادل ایک ایسا نام تلاش کر لیا گیا جس میں ضد ،ردعمل اور انتقام کا رویہ غالب تھا ۔میر حاصل بزنجواس وقت مریم نواز،مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی کی طرح طاقتور ریاستی اداروں کی چڑ بنے ہوئے ہیں ۔اپوزیشن اگر کسی معتدل سیاسی فکر کے حامل شخص کو میدان میں اتارتی تو شاید تحریک اعتماد کی ناکامی یوں موت وزیست کا معاملہ بن کر نہ رہ جاتی مگر میرحاصل بزنجو کی نامزدگی ''سرخ رومال '' سے کم نہیں تھی ۔حکومت اور اپوزیشن دونوں روز اول سے پراعتماد تھے ۔اپوزیشن کا اعتماد جائز تھا کہ اس کی وجہ عددی اکثریت تھی جبکہ حکومت کا اعتماد ایک معمہ تھا اور شاید اس اعتماد کا راز یہ تھا کہ وہ حکومت تھی۔ اس طرح صادق سنجرانی کیخلاف ہی نہیں بلکہ ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈی والا کیخلاف تحریک عدم اعتماد بھی ناکام ہو گئی اور اس طرح سٹیٹس کو توڑنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔اب اپوزیشن چند دن چودہ مشکوک افراد کی تلاش جاری رکھے گی اور اس تلاش میں شک کا آغاز ہر رکن سے ہوگا جس سے مزید تلخیاں بڑھیں گے ۔سینیٹ کے انتخابات میں ارکان کے دائیں بائیں ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ یہ ماضی کی روایات کے عین مطابق ہے۔اب اپوزیشن چودہ ارکان کو تلاش بھی کر لے تو اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو ں گے۔حالات پر گہری نظر رکھنے والوں کا ماتھا اسی وقت ٹھنکا تھا جب بلاول بھٹو زرداری نے یہ معنی خیز بات کی تھی کہ میں نے اپنے ارکان کو کہا ہے کہ'' پیسے حکومت سے لو مگر ووٹ ہمیں دو''۔ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد کی حیثیت سے بلاول کی یہ بات ایک المیہ سے کم نہیں تھی کہ وہ مذاق میں ہی سہی مگر پیسے لینے کے عمل کی حوصلہ افزائی کررہے تھے ۔ اگر پیسوں کے عوض ووٹ دینے کا الزام درست ہے تویوں لگتا ہے کہ اپوزیشن ارکان نے بلاول کی ہدایت پر آدھا عمل کیا پیسے تو لئے مگر ووٹ ان کی ہدایت کے مطابق نہیں دیا ۔اس پہلی کامیابی کے بعد حکومت کا اعتماد بڑھ جائے گا اور زیادہ شدت کے ساتھ احتسابی اداروں کی پشتی بانی کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ بلاول امریکہ سے واپس لوٹے تو ان کی زبان اور لہجہ خاصا بدلا ہواتھا ۔ یوں بلاول کے لہجے کی تلخی امریکہ کے ایک دورے کے بعد بڑھ گئی تھی وہ تلخی ایک اور دورے کے بعد حیرت انگیز طور پر کم ہو گئی۔ کچھ یہی حال میاں شہباز شریف کا تھا جو ایک بار پھر حکومت کو تعاون کی پیشکش کر رہے تھے۔ یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ پیپلزپارٹی تو اس معرکے میں فاتح ہی رہی۔ صادق سنجرانی ہٹ جاتے توچیئرمین سینیٹ میرحاصل بزنجونے بن جانا تھا۔ دونوں کا تعلق پیپلزپارٹی سے نہیں تھا مگر پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سلیم مانڈی والا ہر دو صورتوں میں بچ جاتے اور بچ بھی گئے۔

متعلقہ خبریں