Daily Mashriq

ایک سفر جو واجب تھا

ایک سفر جو واجب تھا

واجب ہوئے سفر کا پس منظر یہ ہے کہ چند ماہ قبل ایک این جی او نے پنجاب کے سرائیکی علاقوں (ملتان سمیت) میں کتاب دوستی کے فروغ کے لئے پروگرام منعقد کئے اور اختتامی تقریب میں ''وائس آف جنوبی پنجاب'' ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔ میرے دوستوں نے اس ایوارڈ کیلئے مجھ طالب علم کانام بھی دیا۔ سرائیکی وسیب کو ایک قومی اکائی( صوبہ) کا درجہ دلوانے کیلئے تحریری اور عملی طور پر پچھلی چار دہائیوں سے حصہ ڈالنے والے اس طالب علم نے ''وائس آف جنوبی پنجاب'' کا ایوارڈ لینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ جنوبی پنجاب نہیں ہم سرائیکی وسیب کی شناخت پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنی قومی شناخت کو مسخ کرنے کا سبب بننے والی کسی تقریب میں شرکت یا ایوارڈ لینا ممکن نہیں۔ ایوارڈ کے لئے نامزدگی کرنے اور ایوارڈ دینے والے دوست اس اعلان پر بہت برہم ہوئے۔ دوستوں کو تو خیر ایک اگلی ملاقات میں اپنے موقف سے تفصیل کیساتھ آگاہ کردیا۔ ایوارڈ دینے والوں کے لئے بھی دل و دماغ کے کسی گوشے میں نفرت بالکل نہیں۔ ایک اصولی بات عرض کی تھی قومی موقف اورمرکزی دھارے سے الگ ہونے کو مانع امر یہ تھا کہ اپنی فہم کے مطابق جو عرض کرکے چلا آرہا ہوں اس سے انحراف ممکن نہیں تھا۔ اب دو اگست کو لیاقت پور میں سرائیکی وسیب کی فعال ترین ادبی و سماجی تنظیم '' وسیب دوست گروپ'' نے اس انکار کی پذیرائی کیلئے '' انکار آور'' کے نام سے ایک تقریب منعقد کی اور ''انکار آور'' ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ وائس آف جنوبی پنجاب ایوارڈ ز لے کرجس قومی موقف کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا '' انکار آور'' ایوارڈ اس کا اعتراف تھا۔ محنت کش طبقے سے جنم لینے والے اقبال بلوچ اور انجینئر بلوچ ''وسیب دوست گروپ'' کے روح رواں ہیں یہ تنظیم سرائیکی قومی تحریک کی سیاسی جدوجہد میں حصہ ڈالنے کیساتھ ساتھ لیاقت پور اور گرد و نواح میں سماجی بھلائی کیلئے سرگرم عمل ہے۔ مستحق لوگوں کی روزگار کیلئے مدد کرنے کے علاوہ ضرورت مند طلباء کیلئے تعلیمی وظائف' پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے اہم ضروری کاموں کے علاوہ'' وسیب دوست گروپ سرائیکی ادیبوں اور شاعروںکو مدعو کرکے مشاعروں کا اہتمام کرتا ہے۔ دو اگست کی شام '' انکار آور'' ایوارڈ کیساتھ ساتھ میٹرک اور ایف اے کے حالیہ امتحانات میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں بھی ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔مژدم خان کی بغاوت سے بھری شاعری نے '' انکار آور ایوارڈ'' کی ترقی کو چار چاند لگائے۔ لیاقت پور میں منعقدہ اس تقریب میں لاہور سے مبشر علی فاروق ایڈووکیٹ' احمد سرفراز ایڈووکیٹ کے علاوہ رحیم یار خان سے حسن معاویہ ایڈووکیٹ اور شاکر سلطان دشتی نے بھی شرکت کی۔ لیاقت پور کے گرد و نواح سے بہت سارے اہل علم سماجی خدمت گار اور دوسرے لوگ بھی شریک ہوئے۔ اپنے اعزاز میں منعقدہ اس تقریب میں حال دل بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ سرائیکی قومی تحریک کسی فرد یا قوم سے نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی قومی وحدت کو تسلیم کروانے اور وفاق پاکستان میں ڈیرہ اسماعیل خان و ٹانک سے لیکر رحیم یار خان تک ایک اکائی کادرجہ دلوانے کی پر امن تحریک ہے۔ بد ترین حالات' نسل کشی' بھونڈے الزامات کے باوجود سرائیکی وسیب کے لوگوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اگر ہماری جدوجہد کے نتیجے میں صوبہ بنتا ہے تو غیر سرائیکی یہاں نہیں رہ سکیں گے۔ قومی تحریک میں سرگرم عمل'سیاسی کارکن' صحافی' دانشور' ادیب اور شاعر ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ وسیب میں آباد دوسرے لسانی طبقات نہ صرف وسیب پر مساوی حق رکھتے ہیں بلکہ ہم انہیں اپنی طرح کا سچا وسیب زادہ ہی سمجھتے ہیں۔ بالا دست طبقات سے تعلق رکھنے والے سرداروں' جاگیر داروں' مخدوموں' چودھریوں' پیر زادوں کے استحصال اور ریاست کی طرف سے اس استحصالی اشرافیہ کی سرپرستی سے پیدا ہونے والے مسائل سے وسیب کا ہر طبقہ متاثر ہوا ہے۔ صوبہ تحریک کا حسن یہی ہے کہ اس کے حاجی غیر سرائیکیوں سے نفرت کی بجائے متحد ہو کر مشترکہ جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔تحریک کے جدوجہد کی داستان بیان کرتے ہوئے تفصیل کیساتھ سابقہ حکومتوں اور استحصالی اشرافیہ کے جرائم لوگوں کے سامنے رکھے۔ یہ بھی عرض کیا کہ تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد اولین 100دنوں میں سرائیکی صوبہ کے قیام کیلئے روڈ میپ جاری کرنے اور کمیشن بنانے کا اعلان کیا وہ نہیں ہوسکا۔ تحریک انصاف نے ہی وعدہ کیا تھا کہ تین ماہ بعد سرائیکی وسیب کیلئے الگ سے مرکزی انتظامی دفاتر ملتان میں قائم کر دئیے جائیں گے۔ بد قسمتی سے نہ صرف دونوں وعدے پورے نہیں ہوئے بلکہ ق لیگ جو حکومتی اتحاد میں شامل ہے اس سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر نے بہاولپور ڈویژن میں سرائیکی تحریک کیخلاف نفرتوں کا پرانا کاروبار پھر سے شروع کردیا۔ ہمیں وسیب زادوں کی حیثیت سے متحد ہونا ہوگا تاکہ سرائیکی و آباد کار آبادی کے طبقات میں دوریاں پیدا کرنے والوں کی سیاست اپنی مدت آپ مر جائے۔ سرائیکی قومی تحریک پرامن سیاسی جدوجہد کاشاندار ماضی رکھتی ہے اب بھی وسیب زادوں کا موقف یہی ہے کہ صوبہ بننے کے بعد کوئی بھی شخص اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہیں ہوگا نا کسی کی دکان' مکان اور اراضی چھینی جائے گی۔ ہمارے قبرستان ہی نہیں زندہ آبادی کے محلوں میں دیواریں اور کاروباری علاقے سانجھے ہیں۔ ہمارے مفادات مشترکہ ہیں دوست بھی اور دشمن بھی۔ تقسیم اور نفرتوں کی سیاست کرنے والوں کا آگے بڑھ کر محاسبہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں