Daily Mashriq

قومی ایکشن پلان پر عدم عملدرآمد کا سوال

قومی ایکشن پلان پر عدم عملدرآمد کا سوال

پشاور میں محکمہ زراعت تو سیعی کے ڈائریکٹر یٹ جنرل کی عمارت پر حملے کرنیوالے ایک دہشت گرد کو ایک نوجوان کی جانب سے زندہ حالت میں قابو پانے کے دعوے کی گو کہ تصدیق نہیںہو سکی ہے لیکن صوبائی اسمبلی میں اس مسئلے کو اٹھائے جانے سے اس امر کی توثیق ہوتی ہے کہ یہ دعویٰ مبنی بر حقیقت تھا اگر ایسا نہیں بھی تھا تب بھی وزیرا علیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے بھی میڈیا سے بات چیت میں ایک دہشت گرد کی زندہ حالت میں گرفتاری کا بتایا تھا۔ اس امر کو اخفاء میں رکھنے کی سیکورٹی وجوہات ہی ہو سکتی ہیں لیکن پکڑے گئے دہشت گرد کو مارنے کے عمل کا دفاع ممکن نہیں، پولیس اور سیکورٹی اداروں کی روایت اور طریقہ کار ہی زندہ یازخمی حالت میں گرفتاری کا ہوتا ہے تا کہ تحقیق وتفتیش کا کام سہل ہو۔ ایک ہاتھ آئے دہشت گرد کو کیوں مار دیا گیا یہ سوال جواب طلب ہے اور رہے گا۔ اگر وزیر قانون کی تردید کو سچ گردانا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی میڈیا ٹاک غلط تھی ؟ خیبر پختونخوا کے دارلحکومت میں ایک ہفتے کے اندر دوبڑے واقعات کے رونما ہونے کے بعد قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا سوال شد ومد سے اٹھنا فطری امر ہے جس کا مطالبہ کے پی اسمبلی میں بھی کیا گیا ۔ قومی ایکشن پلان کے اہم نکات پر فوج کی جانب سے مئوثر عملدرآمد سے انکار ممکن نہیں لیکن صوبائی حکومتوں نے اپنی ذمہ داریوں پر کیوں توجہ نہ دی اور ان کی راہ میں کیا امر مانع ہے۔ اگر دیکھا جائے تو بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں سوائے اس کے کہ صوبائی حکومتوں کو ان معاملا ت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ صوبائی حکومتوں کا یہی رویہ دہشت گردی کے واقعات کے عود کر آنے کا باعث بن رہا ہے اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس پھر بڑھ رہا ہے۔ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ زندہ دہشت گرد کو کیوں ماردیا گیا۔ پشاور کے واقعے کی تحقیقات اور معاملے کی تہہ تک جانے کے عمل کو حسب عادت ادھورا نہ چھوڑا جائے ۔قومی ایکشن پلان پر عملدر آمد شدہ نکات کا جائزہ لیا جائے اور باقی ماندہ نکات پر عدم عملدرآمد کی وجوہات اور مسائل سے عوام کو آگاہ کیا جائے ۔ صوبائی حکومتوں کی قیادت کی عدم دلچسپی کا رویہ اب تبدیل ہونا چاہیے اور جن نکات پر عملدر آمد کی ذمہ داری باقی ہے ان نکات پر جلد سے جلد عمل در آمدکیلئے اقدامات کئے جائیں ۔

پشتو ن ثقافت کے تحفظ کیلئے قانون سازی

پشتون تہذیب و ثقافت کو مسخ کر کے پیش کئے جانیوالے عناصر کو قانونی طور پر روکنے کیلئے صوبائی اسمبلی کے رواں اجلاس میں متوقع قانون سازی خوش آئندامر ہے۔ قبل ازیں سپیکر خیبر پختونخوا بھی اس کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ہمارے تئیں اصولی طور پر یہ سعادت ایم ایم اے کے حصے میں آنی چاہیے تھی جبکہ اس کے بعد پختونوں کے نام پر سیاست کرنیوالی سیاسی جماعت کو بھی اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے نہ صرف قانون منظور کرانے کی ضرورت تھی بلکہ پختون تہذیب و ثقافت کو بھر پور طور پر اجا گر کرنے کی ذمہ داری نبھانی چاہئے تھی لیکن دونوں اداروں میں اس کی توثیق نہ مل سکی جس کی بناء پر پختون تہذیب و ثقافت مسخ ہونے کے ایک ایسے دور سے گزری کہ اب اس امر میں امتیاز مشکل ہونے لگا ہے کہ حقیقی کیا ہے اور غیر حقیقی اور مسخ صورت کو نسی ہے ۔ پختون تہذیب وثقافت میں تبدیلی معاشرے میں تبدیلی کیساتھ ساتھ آنا فطری امر ہے جس کی معاشرے میں گنجائش بھی نکلتی ہے اسے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں لیکن اولاً پشتو فلموں اور بعدازاں سی ڈی ڈراموں اور دیگر ذرائع سے ثقافتی روایات کی پامالی کا جو کھیل کھیلا گیا اس کا مداوا شاید قانون سازی کے بعد بھی نہ ہو ۔ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس ذمہ داری کا احساس اور قانون سازی احسن اقدام ہوگا اور پختون ثقافت کے تحفظ کیلئے ان کے اقدامات کو ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے افراد ضرور سراہیں گے ۔

معتمرین کو بلاوجہ مشکلات کا شکار نہ بنایا جائے

عمر ہ زائرین کو ایک مرتبہ پھر ایک ماہ کیلئے بائیومیٹرک نظام سے استثنیٰ قرار دینا احسن اقدام ضرور ہے لیکن ابھی مسئلہ باقی ہے معلوم نہیں اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے کے حکام ایک غیر ملکی کمپنی کیلئے کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے پاکستانی عمرہ زائرین کو بلاوجہ ہراساں کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ اگر سعودی عرب کی دیگر ملکوں کے حوالے سے یہی پالیسی ہوتی تو اسے امتیازی سلوک نہ گر دانا جاتا بہتر ہوگا کہ سعودی حکام معتمرین کو خواہ مخواہ کی مشکل اور اضافی رقم خرچ کرنے کی زحمت پر مبنی بلاوجہ کی شرط واپس لیں اور موجودہ طریقہ کار کو بحال رہنے دیا جائے ۔

متعلقہ خبریں