Daily Mashriq

پاک امریکہ تعلقات میں نئی پیش رفت

پاک امریکہ تعلقات میں نئی پیش رفت

پریشن ضرب عضب کے سائز‘ اس کی مدت‘ اس کی قیمت جو پاکستان نے آبادی کی منتقلی اور جانوں کے نذرانے کی صورت میں ادا کی اور اس کی کامیابی جو ایک بہت بڑی گوریلا فورس کی شکست کی صورت میں حاصل کی گئی سے دنیا پر یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے۔ یورپ‘ مشرق وسطیٰ‘ روس اور چین نے اس حقیقت کا برملا اعتراف کیا لیکن امریکہ میں لگتا ہے کہ بش کے زمانے سے جو برخود غلط غیر ذمہ دارانہ بیانیہ مروج تھا جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی استعمال کیا، وہ چند ہفتے پہلے تک جاری رہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائیاں کرتا ہے وہ امریکہ کو شیشے میں اُتارنے اور اس سے امداد وصول کرنے کیلئے کرتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ماضی غیر سیاسی ہے۔ وہ کامیاب بزنس مین ہونے کے ناطے جارحانہ فروختکاری تو استعمال کرتے ہیں لیکن آج کے ایٹمی اسلحہ کے دور میں جارحیت کے مضمرات سے کماحقہ آگاہ نظر نہیں آتے۔ رفتہ رفتہ موصول ہونے والی خبروں کے مطابق انہوں نے افغانستان کے مسئلے کی وجہ سے امریکہ کے بجٹ پر جو مسلسل بوجھ تھا اسے ختم کرنے کیلئے مزید فوج بھیج کر ایک ہی بار اس مسئلے کو قوت کے زور پر حل کرنے پر غور کیا۔ جب مشاورت اس عمل کے حق میں نظر نہ آئی تو انہوں نے بلیک واٹر قسم کی غیر ریاستی تنظیموں کے ذریعے افغانستان کا مسئلہ طے کرنے کے آپشن پر غور کیا۔ اور بالآخر لگتا ہے کہ پاکستان پر انحصار کرنے کی بجائے افغانستان میں بھارت کو کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی (اس کیلئے راہ ہموار کرنے کی خاطر بھارتی لابی ایک عرصہ سے امریکہ میں کام کر رہی تھی) اور بھارت کو افغانستان میں کردار عطا کرنے سے پہلے یہ ضروری سمجھا گیا کہ پاکستان کو آمادہ کیا جائے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے۔ پاکستان کی پہلے سے خواہش اور ضرورت ہے کہ افغانستان کا مسئلہ طالبان کیساتھ مذاکرات کے ذریعے طے پا جائے یعنی کوئی ایسا سمجھوتا ہو جائے جو طالبان اور افغان حکومت دونوں کیلئے قابلِ قبول ہو۔ لیکن افغان حکومت امریکہ کی سرپرستی میں قائم ہوئی اور امریکہ کی سرپرستی میں قائم ہے اور طالبان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں خالص افغان مذاکرات کے ذریعے خالص افغان انتظام حکومت قائم کیا جائے۔ ان کا یہ استدلال برحق تسلیم کیا جانا چاہئے کیونکہ کامیاب مذاکرات کے بعد پرامن افغانستان میں افغانوں ہی نے اپنے کلچر‘ اپنی طرز معاشرت اور اصول انصاف کے تحت زندگی گزارنی ہے۔ اہل مغرب کو طالبان کی سخت گیر مذہب پرستی پر باعث تشویش ہے یعنی یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ اس میں نرمی بیرونی جنگجوئی کی بجائے اندرون ملک افغانوں کے باہمی رابطوں اور رہن سہن کے تجربات ہی سے آ سکتی ہے اور ایسی ارتقائی تبدیلی ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔ یہ تو خیر جملہ معترضہ ہے کہنا یہ مقصود ہے کہ گزشتہ اگست میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی جنوبی ایشائی پالیسی کا اعلان کیا تو پاک امریکہ تعلقات جو ماضی میں خوشگوار اور مضبوط بھی رہے ہیں انتہائی کمزور بلکہ کشیدہ نظر آئے اور اس وجہ سے بعض حلقوں میں تشویش بھی پیدا ہوئی۔ بعض فہمیدہ مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ امریکہ کی اس منصوبہ بندی میں ساتھ دے جس کے تحت ایک طرف افغان طالبان کو طاقت کے زور پر اس قدر کمزور کر دیا جائے کہ وہ افغان حکومت اور امریکہ کی شرائط پر مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں اور دوسری طرف افغانستان میں تعمیر وترقی اور داخلی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں بھارت کو کلیدی کردار دیا جائے۔ پاکستان ایسے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بن سکتا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ہمسائے کے طور پر افغانستان کے قریب خوشگوار تعلقات کے ساتھ رہنا ہے مداخلت کی تاریخ کے ساتھ نہیں۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کسی ملک کی خودمختاری میں دخیل نہیں ہو سکتا۔ یہ بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ تیسرے یہ کہ اگر افغانستان میں پاکستان کے بغیر بھی کوئی فوجی کارروائی کی گئی تو ایک بار پھر لاکھوں افغان جنگجو اور غیر جنگجو پاکستان کا رُخ اختیار کریں گے اور پاکستان پہلے ہی اپنی سرزمین میں35 لاکھ افغانوں کی موجودگی کی وجہ سے سیکورٹی اور معیشت کے حوالے سے مسائل کا شکار ہے۔ ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں افغانستان میں جہاں پچاس فیصد علاقے پر طالبان کی عملداری قائم ہے امن بھی قائم نہیں ہو سکتا اور افغانستان میں عدم استحکام مشترکہ سرحد کی وجہ سے پاکستان میں عدم استحکام کا باعث ہے اس میں مزید اضافہ ہوگا لیکن ان حقائق کے باوجود امریکی انتظامیہ مصر رہی کہ پاکستان اس کے منصوبے میں شامل ہو۔ اس کی تہہ میں شاید امریکہ میں موجود یہ بیانیہ ہو کہ پاک فوج کو امداد کے عوض اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ امریکا کا یہ رویہ اس حد تک پہنچا کہ چند ہفتے پہلے جب امریکہ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے پاکستان کا دورہ کیا تو کہا گیا کہ امریکہ پاکستان کو ایک اور موقع دے رہا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کر دے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ کا دورہ کیا اور پیشکش کی کہ اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے ہیں تو وہ نشاندہی کرے اور پاکستان ان کیخلاف کارروائی کریگا۔ امریکی وزیر دفاع اور ان کے وفد کیساتھ پاکستان کی سویلین قیادت اور فوجی قیادت کے مذاکرات ہوئے جنہیں کامیاب بتایا جا رہا ہے یعنی دھمکی آمیز رویہ ترک کر کے باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ امریکی نقطہ نظر میں اس تبدیلی کا لٹمس ٹیسٹ یہ ہے کہ امریکہ پاک افغان سرحد پر باڑھ بندی میں تعاون کرے اور پاکستان میں مقیم تیس لاکھ افغان باشندوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

متعلقہ خبریں