Daily Mashriq

کہ حرکت تیز ترہے اور سفر آہستہ آہستہ

کہ حرکت تیز ترہے اور سفر آہستہ آہستہ

اظہار تشکر تو بنتا ہے۔ اصولاً بھی جب میں شہر کے حوالے سے مختلف مسائل پر قلم اُٹھاتا ہوں تو میری تحریر میں کچھ تلخی، کچھ طنز اور کچھ کچھ فکاہی رنگ ضرور جھلکتا ہے اور اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ مجھے اپنے شہر سے بہت محبت ہے (بلکہ ہر حساس شخص کو اپنے شہر سے محبت ہوتی ہے ) کیونکہ یہ بہرحال ہم آپ سب کا گھر ہے اگر اس کی حالت اچھی ہوگی تو نہ صرف یہ صورتحال ہمیں اچھی لگے گی بلکہ باہر سے آنیوالے بھی ہمارے شہر کے بارے میں اچھی رائے ضرور قائم کرینگے، یہی وجہ ہے کہ اپنے شہر کے بارے میں لکھتے ہوئے میں اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتا، اور شہر کی بربادی اور بگاڑ میں جو بھی ادارے ملوث ہوتے ہیں ان کے بارے میں لکھتے ہوئے کسی اور رعایت سے کام نہیں لیتا، اب جو میں اظہار تشکر کی بات کر رہا ہوں تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جس بات پر کالم تحریر کر رہا ہوں اس معاملے پر ایک بار نہیں، بار بار بلکہ سینکڑوں بار اظہار خیال کرتے ہوئے اس مسئلے کو متعلقہ حکام کے سامنے لاکر اصلاح احوال کی درخواست کر چکا ہوں مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میری احتجاجی تحریروں کی وجہ سے کسی کے کان پر کبھی جوں تک نہیں رینگی، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے یا شاید ان کے ذمے عاید کردہ کسی بھی معاملے میں عقل کل سمجھتے ہوئے اپنی سوچ اور اقدامات کو حرف آخر سمجھنے کے زعم میں مبتلا رہے ہوں، اسلئے وہ یہی سمجھتے ہیںکہ بھلا ان کے اقدامات کیسے غلط ہو سکتے ہیں اور وہ کیوں کسی بھی جانب سے ان کے کاموں پر معترض ہونیوالوں کی بات تسلیم کرکے اپنی ’’غلطی‘‘ پر مہر تصدیق ثبت کرنے کی غلطی کرلیں، یوں وہ ایک ایسے ضد میں مبتلا ہو کر رہ جاتے ہیں جس کے فوائد تو کوئی نہیں ہوتے اُلٹا مسائل میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے، یعنی بقول شاعر 

کچھ تم کو بھی عزیز ہیں اپنے سبھی اصول

کچھ ہم بھی اتفاق سے ضد کے مریض ہیں

تاہم ان کی یہ ضد، یہ انا اس وقت ’’مجروح‘‘ نہیں ہوتی جب ان سے اوپر کی سطح کے اعلیٰ حکام ان کو ان غلطیوں سے جان چھڑانے کی ’’تلقین‘‘ کرتے ہیں اور یہی وہ بات ہے جس کی جانب کالم کے آغاز میں اشارہ کرتے ہوئے میں نے اظہار تشکر کی بات کی ہے، اب ذرا وضاحت ہو جائے کہ وہ مسئلہ کیا ہے جس پر نہ صرف میں بارہا قلم اُٹھا چکا ہوں بلکہ اس پر عمل درآمد ہوتے دیکھ کر اس نیک دل شخص کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں جن کے احکامات نے اہالیان پشاور کا یہ مسئلہ حل کرا دیا اور اس خواہ مخواہ کی مصیبت سے شہریوں کی عذاب میں آئی ہوئی جان چھوٹ گئی۔ یہ مسئلہ پشاور کے مختلف سڑکوں، گلیوں، وغیرہ میں نہ صرف سرکاری اداروں بلکہ عام لوگوں کی جانب سے بنائے جانیوالے سپیڈ بریکرز ہیں جن کی وجہ سے اگر اس شہر کو ’’بریکرستان‘‘ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ سڑکوں پر جابجا سپیڈ بریکرز کے علاوہ کیٹ آئیز کی وجہ سے لوگوں کی گاڑیوں، رکشوں، سکوٹروں اور موٹر سائیکلوں کے ٹائر تباہ ہو رہے تھے جبکہ سرکار کے دیکھا دیکھی عام لوگوں نے بھی شہر بھر میں چھوٹی چھوٹی گلیوں کے اندر سپیڈ بریکروں کے نام پر سڑکوں کے بیچ ’’دیوار یں‘‘ تعمیر کر کے آمد ورفت کو مسدود کر رکھا ہے۔ اس صورتحال پر روزنامہ مشرق میں پیر 4 دسمبر کو چھپنے والی ایک خبر کے مطابق چیف سیکریٹری نے نوٹس لیکر متعلقہ حکام کو چند روز پہلے اس عذاب سے عوام کوچھٹکارا دلانے کا جو حکم صادر کیا تھا، اس پر تادم تحریر جزوی طور پر تو عمل درآمد کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، (کم از کم گل بہار کی حد تک تو میں خود گواہی دے سکتا ہوں کہ یہیں رہتا ہوں) جبکہ شہر کے دوسرے علاقوں کے بارے میں متعلقہ خبر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جو کیٹ آئیز لگا کر متعلقہ حکام نے شہر کو مشکلات میں مبتلا کر دیا تھا وہ اکھاڑ دیئے گئے ہیں، البتہ گلیوں کے اندر جو خود ساختہ سپیڈ بریکرز جو غیر قانونی طور پر لوگوں نے اپنے گھروں کے آگے یا گلی محلوں میں تعمیرکرا رکھے ہیںان کو ہٹانے پر ابھی تک توجہ نہیں دی گئی، اس ضمن میں گل بہار کی کئی گلیوں میں اور خاص طور پر رشید ٹاؤن میں مسجد نجم النساء کیساتھ چار جانب جانیوالی گلیوں میں یہ نظارہ دیکھا جا سکتا ہے، مزید یہ کہ بخاری کالونی اور آگے مین گل بہار روڈ کی پشت والی گلیوں میں کھمبیوں کی طرح اگائے جانیوالے سپیڈ بریکروں کیساتھ ساتھ لکی ڈھیری روڈ سے رنگ روڈ تک جانیوالی سڑک کے سپیڈ بریکروں کو ابھی تک نہیں چھیڑا گیا جو یقیناً چیف سیکریٹری کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے ، بقول شہزاد احمد

لوگ کہتے ہیں کہ گلشن میں بہار آئی ہے

بوئے گل پھر بھی پریشاں ہے اسے کیا کہئے

میں نے گل بہار کالونی کی چند سڑکوں کا ذکر کیا تو اسلئے کہ اس حوالے سے حقیقت حال وہاں کے رہائشی ہونے کے ناتے میں خود جانتا ہوں، البتہ اسے آپ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق پورے شہر پر منطبق کر سکتے ہیں اور اُمید ہے کہ باقی شہر کا بھی یہی حال ہوگا یعنی خود ساختہ سپیڈ بریکروں سے تادم تحریر کوئی تعرض نہیں رکھا گیا۔ اسلئے اُمید ہے کہ متعلقہ حکام چیف سیکریٹری کے واضح احکامات کا بھرم رکھتے ہوئے شہر بھر سے ناجائز سپیڈ بریکروں کو ہٹانے میں مزید تاخیر نہیں کریں گے اور ان سپیڈ بریکروں کی وجہ سے عوام میں جس قسم کی نفسیاتی بیماریاں بڑھ رہی ہیں ان کا ازالہ کرتے ہوئے عوام کو سہولت دینے میں لیت ولعل سے کام نہیں لیں گے۔

منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یاکیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

متعلقہ خبریں