Daily Mashriq

ہندکو کی چھٹی عالمی کانفرنس

ہندکو کی چھٹی عالمی کانفرنس

سہ روزہ چھٹی عالمی ہندکو کانفرنس کے انعقاد کا چرچا زور و شور سے جاری ہے۔ یہ کانفرنس8 اور9 دسمبر2017 تک ہندکو اکیڈمی 2چنار روڈ، یونیورسٹی ٹاؤن پشاور کے سبزہ زار میں جاری رہے گی جب کہ 10دسمبر کو اس کانفرنس کا اختتامی اجلاس پشاور عجائب گھر کی ہمسائیگی میں واقع آثار قدیمہ کی عمارت کے آرمی پبلک اسکول کے شہداء کے نام پر قائم آڈی ٹوریم میں منعقد کیا جا ئیگا۔ اس عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں اقبال ظفر جھگڑا گورنر صوبہ خیبر پختون خوا مہمان خصوصی ہونگے جبکہ کانفرنس کے دوسرے دن وزیر اعظم پاکستان کے مشیر سردار مہتاب احمد خان مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہونگے۔ کانفرنس کے تیسرے دن کے اختتامی اجلاس میں صوبہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک مہمان خصوصی ہونگے اس کانفرنس میں شرکت کرنے کی غرض سے اندرون ملک کے علاوہ بیرون ملک امریکہ، کنیڈا، برطانیہ، ترکی، ملائشیا، دبئی اور دیگر ممالک سے سکالرز پشاور پہنچیں گے اور کانفرنس کے موضوع ’’ہند آریائی اور پاکستانی زبانوں کی ترقی کے ذریعے قومی یکجہتی کا حصول ‘‘کے مختلف پہلوؤں پر اپنے اپنے مقالہ جات پڑھیں گے۔ اس کانفرنس میں موسیقی کی محفلیں بھی سجیں گی۔ ڈرامے اور خاکے بھی پیش کئے جائیں گے اور ظہرانے، عصرانے اور عشائیے بھی دئیے جائیں گے ۔ کانفرنس میں شرکت کیلئے دور دیس سے آنیوالوں کو پشاور کے منتخب ہوٹلوں کے ریزرو شدہ کمروں میں رہائش کا اہتمام کیا جائیگا۔ مجھے ان سب باتوں کا علم ہفتہ2 دسمبر کو گندھارا ہندکو اکیڈمی کے سبزہ زار میں منعقد ہونیوالی اس میٹنگ کے دوران ہوا جس کی صدارت بلدیہ پشاور ٹاؤن ون کے ناظم کررہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ میٹنگ مشاورت کیلئے نہ بلائی گئی ہو بلکہ گندھارا ہندکو بورڈ کی پراگرس سنانے یا چھٹی عالمی کانفرنس کی حکمت عملی بتانے کیلئے برپا کی گئی ہو لیکن ہمارا یہ خیال اس وقت خیال خام ثابت ہوا جب دائرے کی شکل میں رکھی کرسیوں پر موجود میٹنگ کے شرکاء کو باری باری مائیک دیکر ان سے ان کے قیمتی مشورے طلب کئے گئے۔ بہتوں نے گندھارا ہندکو بورڈ والوں کی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ چند حاضرین نے بڑے صائب مشورے بھی دئیے لیکن ان کے بولنے کے دوران لاؤڈ سپیکر کا وائرلیس مائیک بار بار خراب اور ٹھیک ہوتا رہا جیسے تنبیہ کر رہا ہو کہ وہ کانفرنس کے دوران بھی وہ ایسی حرکتیں کر سکتا ہے۔ سو مشتری ہوشیار باش۔ اسے ہم گندھارا ہندکو بورڈ کی چھٹی عالمی کانفرنس کا تعارفی اجلاس کہیں گے جس میں سٹی فادر کے علاوہ ہندکووان کمیونٹی کی کریم شخصیات موجود تھیں۔ سب لوگ اپنے رہواروں پر سوار ہوکر اپنے اپنے گھروں کو چلدئیے لیکن گندھارا ہندکو بورڈاور ہندکو اکیڈمی کی انتظامیہ، عملہ اور قیادت شب بھر جاگ کر کانفرنس کی ان تھک تیاریوں کے عزم کو جوان کرنے لگے ۔جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے 8سے10دسمبر تک منعقد ہونے والی ہندکو کی اس عالمی کانفرنس کی یہ چھٹی کڑی ہے۔ جس کا عام فہم زبان میں یہی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ اس عالمی کانفرنس سے پہلے ایسی پانچ عالمی کانفرنسیں نہایت تزک و احتشام سے منعقد کی جا چکی ہیں۔ گندھارا ہندکو بورڈ والوں نے پہلی ہندکو کانفرنس پشاور میں منعقد کی تھی۔ ان دنوں بورڈ کے بانی چیئرمین ڈاکٹر ظہور احمد اعوان زندہ تھے۔ اس کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹر الٰہی اختر اعوان کے علاوہ حاجی حلیم جان مرحوم بھی بنفس نفیس موجود تھے اور ہمیں یاد آرہا ہے پروفیسر خاطر غزنوی کا انڈیا کا وہ دورہ جسے مختصر کرکے وہ کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ اس کے بعد کم وبیش ایک ایک سال کے وقفے کے بعد عالمی ہندکو کانفرنسیں منعقد ہوتی رہیں۔ کبھی ایبٹ آباد میں۔ کبھی ہری پور میں کبھی مانسہرہ میں اور کبھی ڈی آئی خان میں اور پھر ہم نے یہ بھی سنا کہ ہندکو کی پانچویں عالمی کانفرنس کے جھنڈے اٹھا کر ہندکو وانوں کا یہ قافلہ امریکہ کے شہر نیو یارک کی فلک بوس عمارتوں پر لہرانے کیلئے جا پہنچا۔ وہ جو شاعر مشرق نے کہا ہے کہ 

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

کل ہی کی بات ہے ہندکو زبان اور اس کا ادب تخلیق کرنیوالے ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔ معدودے چند لٹریچر کے مالک تھے یہ لوگ ۔ ہندکو لکھنا تو درکنار ہندکو بولتے وقت بھی احساس کمتری میں مبتلا رہتے تھے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہندکو کے نام لیواؤں نے ان کی نس نس میں ایسی روح پھونکی کہ چہار دانگ عالم میں ہندکو زبان وادب کے گن گائے جانے لگے۔ اب کے بار ہندکو کی چھٹی کانفرنس ہوگی تو اس میں ہندکو زبان وادب کی ایک سو کی تعداد میں نو مطبوعہ کتب کی رونمائی بھی کی جائیگی۔ ہے نا یہ ’گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘ میں سنہرے لفظوں سے درج ہونے کے قابل بات۔

متعلقہ خبریں