Daily Mashriq

ارباب اختیار آئینہ دیکھ لیں

ارباب اختیار آئینہ دیکھ لیں

قارئین کرام کی جانب سے اس مرتبہ کے کالم کی تحسین کا شکریہ۔ کچھ قارئین مجھے تحریک انصاف کے حامی قرار دیتے ہیں جبکہ ایک قاری نے میرے محولہ کالم کے تناظر میں مجھے تحریک انصاف کا مخالف گردانا ہے۔ ہر دو قسم کی آراء کے احترام کیساتھ گزارش ہے کہ میرے دیگر کالموں کے بارے میں جو بھی رائے قائم کریں وہ آپ کا حق ہے لیکن یہ کالم موصول شدہ شکایات اور عوامی آراء پر مبنی ہوتا ہے۔ اس میں میری رائے ثانوی ہے۔ بہر حال قارئین کی محبتوں اور تنقید دونوں کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔ اس کالم کا بنیادی مقصد ہی روزنامہ مشرق اور خود میری قارئین کی رائے سے آگاہی اور ان کی آراء کو شامل تحریر کرنا ہے۔کالم کا ابتدا ایک ایسے محاورے سے کرتے ہیں جسے ہم عرف عام کریڈٹ لینا کہتے ہیں۔ سیاسی حکومتوں میں توکسی بھی کام کا کریڈٹ لینے کی دوڑ سب سے مقبول کھیل ہے۔ ہمارے ایک پنشنر کی ارسال کردہ یہ ضرب المثل اس کی بہتر تشریح ہے۔’’ اچھا کام صداقت خان کرے اور اس پر فخر فریدی خان کرے‘‘ ان کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پنشنروں کا میڈیکل الائونس پیپلز پارٹی کے کارنامے ہیں مگر اس پر اترانے میں دیگر حکومتیں بھی ہیں ان کے خیال میں پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این‘ جماعت اسلامی اور جے یو آئی کی سیاست وکارکردگی قابل ذکر نہیں۔ایس ایس ٹی کیڈر کے اساتذہ کو شکایت ہے کہ انصاف کی حکومت میں ان کو اس حق سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔ ہائیکورٹ بنچ ایبٹ آباد میں وہ مقدمہ جیت چکے ہیں اب صوبائی حکومت ان کا حق دینے کی بجائے عدالت عظمیٰ سے رجوع کی تیاری میں ہے۔ ایم ظہیر الدین کا چترال سے میسج ہے کہ ہمارے ملک میں حکومت کے اربوں روپے کے منصوبے اکثر ناکام اور نا مکمل رہ جاتے ہیں۔ اس پر قوم کا پیسہ ضائع ہو چکا ہوتا ہے اس کے ذمہ داروں سے پوچھنے والا کوئی کیوں نہیں؟۔ انہوں نے نیب کی کارکردگی اور طریقہ کار پر بھی تنقید کی ہے۔ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اپر دیر کی طالبہ کے مطابق ان کی کالج میں زوالوجی‘ باٹنی‘ فزکس‘ پولیٹیکل سائنس اور مطالعہ پاکستان کی ٹیچرز موجود ہی نہیں جبکہ انگریزی کی ٹیچر بھی کسی وجہ سے حاضر نہیں رہتیں جس کی وجہ سے طالبات کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے گل منیر کے قریبی عزیز اسماعیل ایم ایس سی ہیں وہ پی ایس ٹی کی آسامی کیلئے میرٹ پر چھٹے نمبر پرآئے مگر شناختی کارڈ میں ایک لفظ کی بناء پر ان کو محروم رکھا گیا حالانکہ وہ نادرا اور پولیٹیکل حکام سے کنفرمیشن سرٹیفیکیٹ بھی لے آئے مگر اس کے باوجود ان کو محروم رکھا گیا۔ ضلع صوابی سے واجد اس امر کی جانب توجہ دلاتے ہیں کہ ان کے ضلع کے کسی ہسپتال میں بھی ڈائیلیسز کی سہولت موجود نہیں۔ یہ وزیر صحت کا آبائی علاقہ ہے ان کی تجویز ہے کہ ضلع نوشہرہ کے کمپلیکس ہسپتال میں یہ سہولت دی جائے تو ارد گرد کے علاقوں کے مریضوں کو سہولت ہوگی۔ یونس مروت کو شکایت ہے کہ فنانس اور ایچ آر ڈی نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے پی کو فنڈز کی ادائیگی روک دی ہے جس کی بناء پر محکمے کے ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔یونیورسٹی آف پشاور کے درجہ چہارم ملازمین کو عدم مستقلی اور ناانصافیوں کی سخت شکایت ہے۔ دس دس سال سے کام کرنیوالوں کو مستقل نہیں کیا جا رہا۔ رحمت اللہ آفریدی باڑہ ایجنسی سے پیغام دیتے ہیں کہ ان کے علاقے میں تعلیم اور بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔ خیموں میں جو سرکاری سکول بنائے گئے ہیں یہ برائے نام فعال ہیں۔ چوبیس گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے بجلی آتی ہے وہ بھی رات کو۔ ایک قاری ٹی ایم اے میں 2008ء میں بھرتی ہوئے۔ گریجویشن کی ہوئی ہے۔ کمپیوٹر میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ کام بھی دفتری کرتے ہیں مگر نائب قاصد کی آسامی پر تعینات ہیں۔ سفارشی لوگ براہ راست بھرتی ہو کر آرہے ہیں اور ان کی عملی طور پر دفتری کام کرنے کے باوجود مناسب آسامی پر تقرری نہیں ہوتی۔ مہمند ایجنسی کے اسماعیل صافی کو شکایت ہے کہ بندوبستی علاقوں میں اساتذہ کی آسامیوں کا اشتہار وقتاً فوقتاً آتا رہتا ہے مگر قبائلی علاقوں میں 2009ء سے اب تک صرف ایک مرتبہ آسامیوں کا اعلان ہوا ہے۔ لنڈی کوتل خیبر ایجنسی کی زنانہ سکولوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پشاور سے استانیاں صرف ناشتے اور لنچ کے لئے آتی ہیں وہ بھی زیادہ تر غیر حاضر رہتی ہیں اور بچیوں کو پڑھانے میں سستی و غفلت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔تخت بھائی ٹکر سے عصمت علی پی ایس ٹی نے بڑی اچھی تجویز دی ہے کہ ان کے خیال میں اس ملک کے ہر محکمے میں موجود افراد کو اس امر کا عہد کرلینا چاہئے کہ وہ اپنا کام‘ اپنی ذمہ داریاں اور فرائض احسن طریقے سے اور ایمانداری سے نبھائیں گے۔ عصمت علی پرعزم ہیں کہ وہ ایک دیانتدار استاد کے طور پر قوم کے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت میں حتیٰ المقدور اپنا کردار ادا کرینگے۔ شکایات نا انصافیوں ‘ غفلت‘ سستی و کاہلی حکومتی غفلت و عدم ادراک اور عدم توجہ و لا تعلقی کی داستانیں اور محرومیوں کی کہانی خیبر پختونخوا اور فاٹا کے مختلف علاقوں سے مخلوق خدا کے جذبات و احساسات سبھی کچھ سامنے ہیں۔ تخت بھائی ٹکر کے بھائی عصمت علی کی طرح کے افراد امید کی کرن بنتے ہیں اس طرح کے نوجوان سیاست و حکومت اور سرکاری محکموں میں آگے آئیں گے تبھی بہتری آسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں