Daily Mashriq


بجلی کے بقایاجات کا مسئلہ

بجلی کے بقایاجات کا مسئلہ

وفاقی حکومت، خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت کے درمیان اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کیلئے مذاکرات میں صوبے کا مقدمہ مدلل طور پر پیش کرنے اور خالص منافع کے بقایاجات کی مکمل وصولی ہی صوبائی حکومت کی احسن کارکردگی شمار ہوگی۔ صوبائی ٹیم کو اس ضمن میں کسی رورعایت اور مصلحت سے بالاتر ہو کر صوبے کا مقدمہ لڑنے کی ضرورت ہے تاکہ برسوں سے واجب الادا رقم کی وصولی کا حصول ممکن ہو۔ اے جی این قاضی فارمولہ کے مطابق خیبر پختونخوا کا بجلی کے خالص منافع کی مد میں سالانہ رقم 128ارب روپے بنتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کی ہدایت پر وفاقی حکومت کی طرف سے صوبوں کو اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی کیلئے سفارشات تیار کرنے والے کمیٹی کی سب کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کا اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق صوبوں کو پن بجلی کا منافع دینے کے فیصلے پر اتفاق مثبت پیشرفت ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت سے سال2016-17کیلئے صوبے کو بجلی کے منافع کے128ارب روپے دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق ہر سال مذکورہ رقم صوبے کو دینے کیلئے اقدامات اُٹھائے۔ صوبائی حکومت کے مذکورہ مطالبہ پر واپڈا کے حکام نے اعتراضات اٹھائے لیکن وفاق نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اور پنجاب حکومت نے مذکورہ رقم بجلی صارفین سے نہ لینے کی بھی واپڈا سے ضمانت لینے کا مطالبہ کیا ہے سب کمیٹی اپنی سفارشات تیار کرکے وفاقی وزیر پلاننگ خسروبختیار کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو پیش کرے گی جس کو بعدازاں منظوری کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیںکہ سب کمیٹی میں خیبرپختونخوا کے موقف سے اتفاق اور واپڈا کے اعتراضات کو رد کرنا ابتدائی طور پر تو حوصلہ افزاء امر ضرور ہے اس سے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں صوبے کا کیس بہتر انداز میں لڑنے میں مدد ضرور ملے گی لیکن یہ کوئی ٹھوس کامیابی کی ضمانت اسلئے نہیں کہ قبل ازیں فارمولہ طے ہونے اور وعدے کے باوجود صوبے کو بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات کی ادائیگی میں لیت ولعل سے کام لیا جاتا رہا اور آج صوبے کے بقایاجات اربوں روپے تک پہنچ چکے ہیں لیکن اس کی صارفین سے وصولی اور آمدنی ہونے کے باوجود مرکزی حکومت اور واپڈا نے صوبے کو ادائیگی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس صورتحال میں مرکز سے صوبے کے بقایاجات کی مد میں ایک سو اٹھائیس ارب روپے کی وصولی بڑی کامیابی ہی نہ ہوگی بلکہ اس رقم کے حصول سے صوبے کے کئی منصوبوں کو خاطر خواہ فنڈز میسر آئیں گے۔ قبل ازیں وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت کو پن بجلی کے سالانہ منافع135ارب روپے کی ادائیگی پر عمل درآمد یقینی بنانے کا وعدہ کر چکی جس میں سے شاید سات ارب روپے کی ادائیگی ہوئی ہوگی اور صوبائی حکومت اب128ارب روپے کا تقاضا کر رہی ہے بہرحال صوبائی حکومت کو پن بجلی کی مد میں بقایاجات ملنے کی اُمید صوبے کے عوام کیلئے خوشخبری ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو پن بجلی کی مد میں بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی گئی تھی جس کے باعث صوبے میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے۔ صرف سابق حکومت ہی پر کیا موقوف ہمارے صوبے کو بجلی کے خالص منافع کی رقم کی ادائیگی میں ہمیشہ سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ صوبے اور مرکز میں ایسی حکومتیں کم ہی آئیں جن کے تعلقات پوری طرح سے استوار ہوں۔ یہ پہلی مرتبہ کا حسن اتفاق ہے کہ صوبے میں جس جماعت کی واضح اکثریت کیساتھ دوسری مرتبہ حکومت آئی ہے وفاقی حکومت میں آنے کیلئے بنیاد، تعاون اور اکثریت خیبر پختونخوا کے عوام کا عطا کردہ ہے جس کی بناء پر یہ وفاقی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ زیادہ نہیں تو وفاق کے ذمے صوبے کی بجلی کے خالص منافع کی بھاری رقم کی ادائیگی کا بندوبست کرے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ سالانہ طور پر صوبے کا جو حق بنتا ہے اس کی ادائیگی میں تعطل نہ آنے دے۔ خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ہر بار بجلی کے خالص منافع کی رقم شامل کی جاتی ہے جس کے نہ ملنے سے بعد میں پورے بجٹ کا حجم ایسا بگڑ جاتا ہے جسے پورا کرنے کیلئے کئے جانے والے جتن سے صوبائی میزانیہ کا توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے جس کے اثرات سے باقی ماندہ معاملات متاثر ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر وفاقی حکومت بقایاجات کی ادائیگی کی ذمہ داری نبھائے اور تسلسل کیساتھ سالانہ خالص منافع کی خطیر رقم کی ادائیگی یقینی بنائی جائے تو صوبے میں کئی اہم منصوبے شروع کر کے ان کی تکمیل ممکن ہوگی، جس سے صوبے کے عوام کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

متعلقہ خبریں