Daily Mashriq


خیبر ٹیچنگ ہسپتال، جگ ہنسائی بے سبب نہیں

خیبر ٹیچنگ ہسپتال، جگ ہنسائی بے سبب نہیں

خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے سرکاری ہسپتال خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں مبینہ طور پر ایک سیکورٹی گارڈ کے مریضوں کا معائنہ کرنے کا واقعہ پیش آنے کے بعد انکوائری تو ہوگی لیکن صرف اس تصویر کے وائرل ہونے سے ہسپتال کی انتظامیہ اور حکومت کی جو جگ ہنسائی ہوئی ہے اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ ہسپتال کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق اس واقع میں ملوث چھ میڈیکل اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے جو بادی النظر میں ابتدائی طور پر اس کی تصدیق کے مترادف ہے۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی نائٹ شفٹ میں عملہ کے موجود نہ ہونے کی شکایات قبل ازیں بھی آتی رہیں لیکن اس پر شاید اس لئے انتظامیہ نے توجہ نہیں دی ہوگی کہ ان شکایات میں اس قسم کی مضحکہ خیزی نہ تھی کہ لوگ ان شکایات کو تمسخرانہ انداز میں پھیلاتے رہیں۔ ہسپتال انتظامیہ سنجیدہ ہو تو روزنامہ مشرق کے نیوز لنک میں آنے والی خبر سے مدد لے سکتا ہے اس سے ان کو اس امر کا بھی اندازہ ہوگا کہ رات کے اوقات میں اس قسم کی صورتحال جاری ہے۔ وائرل ہونے والی تصویر کی مضحکہ خیزی سے قطع نظر خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے رات کے وقت کے عملے اور نگران عملے کی موجودگی اور فعالیت کا جائزہ لینے کیلئے نجانے کیوں ہسپتال کی اعلیٰ انتظامیہ نے کبھی دورہ کرنے کی زحمت نہیں کی اور کیمروں کی ریکارڈنگ کا کسی دن جائزہ لینے کا کسی کو خیال کیوں نہ آیا۔ بہرحال اب جبکہ بیچ چوراہے ہنڈیا پھوٹ چکی ہے تو اس کا ملبہ سیکورٹی گارڈ اور نرسنگ سٹاف پر گرا کر باقی ذمہ داروں کو بچانے کی روایتی کوشش نہیں ہونی چاہئے بلکہ ارتکاب غفلت پر پوری شفٹ کیخلاف یکساں تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔ بہتر ہوگا کہ یہاں تعینات عملے کا تبادلہ کیا جائے اور ان کو آئندہ ذمہ دارانہ عہدوں کیلئے ناموزوں قرار دیا جائے اور ان کی ترقی روکی جائے تاکہ ہسپتال کا عملہ اور دوسرے سرکاری ملازمین عبرت پکڑیں اور آئندہ اس قسم کی جگ ہنسائی کا موقع نہ ملے۔

جعلی کوکنگ آئل اور مضر صحت اشیاء کیخلاف مہم کی ضرورت

اگرچہ فوڈ اتھارٹی کا عملہ صوبے کے مختلف علاقوں میں بساط بھر صفائی اور خوراک کے معیار کی جانچ پڑتال کی پیہم سعی میں ہے لیکن اس کے باوجود غیر معیاری اور مضر صحت دودھ، مضر صحت کوکنگ آئل سمیت حفظان صحت کے اصولوں کے منافی خوراک اور اشیا کی فروخت کی روک تھام میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ان دنوں مضرصحت کوکنگ آئل اور ڈھل میں مختلف خوردنی اشیا کی تیاری کی شکایات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ بدقسمتی سے صوبے میں صرف فٹ پاتھ اور ٹھیلوں پر ملنے والی خوراک ہی جعلی گھی میں تیار نہیں کی جاتی بلکہ بڑے بڑے ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں بھی اس کے استعمال کی شکایات ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں خصوصی مہم شروع کی جائے اور جعلی کوکنگ آئل کی خرید وفروخت میں ملوث نیٹ ورک اور دکانداروں کیخلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو اس مضر صحت اور جعلی تیل کے استعمال سے بچایا جاسکے۔ ملک بھر میں جس طرح جعلی وغیرمعیاری اشیاء بنتی ہیں اور اس کا کاروبار ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں لیکن مضر صحت‘ خوردنی اشیاء کی تیاری اور فروخت کا معاملہ اسلئے زیادہ سنگین ہے کہ یہ براہ راست انسانی جانوں سے کھیلنے کا فعل ہے۔ خیبر پختونخوا میں ویسے بھی عوام کو علاج معالجے کی مشکلات زیادہ ہیں۔ ایسے میں رہی سہی کسر ناقص اور مضر صحت اشیاء کے استعمال سے پوری ہو جاتی ہے۔ گوکہ اس کی براہ راست ذمہ داری حکومتی اداروں پر عائد نہیں ہوتی لیکن ہمارے تئیں وہ اس ذمہ داری میں اس لئے برابر کے شریک ہیں کہ وہ ان کی روک تھام اور انسداد کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنگین غفلت کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھانے پر توجہ دیں تو نہ مضر صحت اشیاء کی تیاری ممکن ہوگی اور نہ ہی ان کی خرید وفروخت اور کاروبار کا کوئی امکان بنتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومتی ادارے اس ضمن میں مزید غفلت کے مرتکب نہیں ہوں گے اور صوبہ بھر میں جعلی اور مضر صحت اشیاء کی تیاری اور کاروبار کیخلاف سخت مہم چلائی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کی گرفتاری اور ان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کسی مصلحت سے کام نہیں لیا جائے گا۔

خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات

اتوار بازار سمیت دیگر بازاروں میں جانے والی خواتین کی ہراساں کرنے کی شکایات کی بڑی وجہ انتظامیہ کی عدم گرفت اور پولیس گشت کا نہ ہونا ہے۔ جس کی بنا پر خواتین اب بازار جانے سے کترانے لگی ہیں۔ انتظامیہ اور پولیس کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مستعدی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں