Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سِن ٹیکس

حکومت کو اور ٹیکس لگانے کی سوجھی توگناہ ٹیکس لگادیا۔ ٹیکس جس چیز پر لگتا ہے اس کی ادائیگی کے بعد وہ چیز قانونی ہوجاتی ہے چرس، ہیروئن ، آئس کے نشے کے ساتھ ساتھ ایک اور جسمانی نشے کا کاروبار پہلے غیر قانونی طور پر پولیس کو ٹیکس دے کر چلایا جاتا رہا ہے اب باقاعدہ قانونی ٹیکس حکومت وصول کر کے رسید جاری کرے گی ٹیکس کی وصولی پر مالی بوجھ اپنی جگہ لیکن اس کا نام Sin Taxرکھنا کیا ضروری تھا دنیا کے 46ممالک کے لوگ یہ ٹیکس بھگت رہے ہیں۔اسے سین ٹیکس بھی قرار دینا غلط نہ ہوگا۔ ہمارے ہاںگناہ ٹیکس دے کر بھی گنہگار ہونے کی ہمت نہیں حکومت ٹیکس لگاتی ہے یا نہیں لیکن کم از کم گناہ ٹیکس تو نہ لگائے۔ گناہوں کی بھی دواقسام ہیں گناہ صغیرہ وگناہ کبیرہ ۔ایسا نہ ہو کہ حکومت معاشی مسائل کا حل دونوں گناہوں پر الگ الگ ٹیکس لگا کر ملکی خزانہ بھر دے اور آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اگر تمباکو کی مصنوعات پر گناہ ٹیکس لگے گا تو کو کین اور اس طرح کے ڈرگز پر گناہ کبیرہ ٹیکس لگنا چاہیئے۔ اس پر ٹن سرچارج بھی لگنا چاہیئے کیا فرماتے ہیں ہمارے مولوی حضرات اس ٹیکس کے بارے میںاور اس نام کے بارے میں پچھلی حکومتیں کم از کم گناہ پر تو ٹیکس وصول نہیں کرتی تھیں موجودہ حکومت نے گناہ کوبھی کاروبار بنادیا۔تبدیلی سرکار کبھی مرغی کے بچے اور انڈے دینے لگتی ہے اور کبھی گناہ ٹیکس لگا کر گنہگار کرتی ہے لگتا ہے بہت جلد نیکی ٹیکس بھی لگے گا ہمیں تو خدشہ ہے کہ حکومت قسم قسم کے ٹیکس وصول کرتے کرتے کہیں ٹیکسی سرکار نہ کہلائے۔ لیجئے وفاقی وزیر ریلوے نے بھرے مجمع میں اعتراف کرلیا ہے کہ وہ پہلے لال حویلی کے باہر مزدوری کرتا تھا پھر وزیر بن کر لال حویلی لے لی ۔ لال حویلی کی ملکیت پر کیس تو بنتا ہے مگر شیخ رشید سے اب عدالت کو یہ ضرور دریافت کرنا چاہیئے کہ وہ تو مزدوری کرتے تھے ایک مزدور آدمی سیاست میں کیسے آیا، کیسے جیتا ،کتنا کمایا اور کتنا کھایا۔ لوگ شیخ رشید کو پنڈی بوائز کی آنکھ کا تارہ کہتے تھے تو لوگ یقین نہیں کرتے تھے کہنے والے کہتے ہیں کہ شیخ رشید ہی بنی گالہ اور آبپارہ کے درمیانی آدمی ہیں ہرڈیل اور ڈھیل انہی کی معرفت ہوتی ہے۔ کبھی کبھار یہ سچ بھی اس لئے لگتا ہے کہ بعض اوقات پی ٹی آئی میں ایسا کچھ ہوتا ہے کہ خود ان کو پتہ نہیں ہوتا مگر انہونی ہو چکی ہوتی ہے قابل احترام چیئرمین نیب اور وسل بلوئر کا قانون بنانے والوں دونوں کیلئے شیخ جی کے اعترافات شیخ چلی سے بہت مختلف ہیں جب گناہوں پر ٹیکس لگ رہا ہے تو پھرہر گنہگار سے یہ پوچھا بھی جانا چاہیئے کہ ان کے اسباب گناہ کے اثاثے اور وسائل کہاں سے آئے تاکہ مناسب شرح کا تعین کر کے ٹیکس وصولی کی جائے اور عذر گناہ بدتراز گناہ کا عمل باقی نہ رہے ۔ لوجی آخر زمانہ آگیا ہے اب گناہ بھی مفت نہیں اس دنیا میں ٹیکس اس دنیا میں تو عذاب کہیں گیا ہی نہیں۔

متعلقہ خبریں